انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ایران جنگ: بحری نقل و حرکت میں رکاوٹیں زرعی مداخل کی قلت کا سبب

ایتھوپیا کے علاقے ٹیگرے کے مائی مکڈن گاؤں میں موجود تقسیم مرکز میں حفاظتی چہرے کے ماسک پہنے مزدور ایک آئسوزو ٹرک سے بیجوں کے بیگ اتار رہے ہیں۔
© FAO/Michael Tewelde حالیہ موسم میں بہت سے خطوں کے ممالک میں کاشتکار اگلی فصل کے لیے کھاد خریدتے ہیں۔

ایران جنگ: بحری نقل و حرکت میں رکاوٹیں زرعی مداخل کی قلت کا سبب

امن اور سلامتی

ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملوں سے مشرق وسطیٰ میں شروع ہونے والی جنگ کے نتیجے میں کھاد کی شدید قلت پیدا ہونے اور اجناس کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے پر تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تجارت و ترقی (انکٹاڈ) کی جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل میں خلل آنے سے تیل، مائع قدرتی گیس اور کھاد کی ترسیل بری طرح متاثر ہوئی ہے جن کی قیمتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔

Tweet URL

انکٹاڈ کے شعبہ اقتصادی امور کی سربراہ فریدہ یوسف نے کہا ہے کہ اس آبنائے سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد حالیہ بحران سے پہلے تقریباً 130 یومیہ تھی جس میں مارچ کے آغاز پر 95 فیصد سے بھی زیادہ کمی دیکھی گئی ہے۔

فی الوقت آبنائے باضابطہ طور پر بند نہیں لیکن ایران کی جانب سے جہازوں پر حملوں کے باعث صورت حال انتہائی غیر یقینی ہو چکی ہے جس سے توانائی کی عالمی منڈیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ 

عالمی منڈی پر بڑھتا دباؤ

فریدہ یوسف کا کہنا ہے کہ یہ خلل اب صرف آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہا بلکہ خطے کے دیگر بحری راستوں اور تجارتی ترسیلات کے اہم سلسلوں کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ 

اس کے اثرات بحیرہ احمر اور دیگر علاقوں میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ جہازوں کے راستے تبدیل ہو رہے ہیں، سفر طویل ہو رہے ہیں اور لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سے عالمی تجارت اور امدادی اداروں پر دباؤ بڑھ رہا ہے کیونکہ امدادی سامان کی ترسیل سست، مہنگی اور غیر یقینی ہو گئی ہے۔

معیشتوں اور عوام پر اثرات

اس بحران کے فوری اثرات میں توانائی کی بڑھتی قیمتیں، مہنگی نقل و حمل، خوراک کی قیمتوں میں اضافہ اور تجارتی ترسیلی نظام میں پیدا ہونے والی تاخیر شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، کھاد کی برآمدات میں کمی سنگین نتائج کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔

انکٹاڈ کے مطابق، کھاد خصوصاً نائٹروجن پر مبنی کھادوں کی پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے کیونکہ ان کی تیاری کا بڑی حد تک انحصار خلیجی ممالک سے آنے والی گیس پر ہوتا ہے۔

اس سے زرعی پیداوار اور کارکردگی پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر خوراک کی قیمتیں مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ 

غریب ممالک کا نقصان

حالیہ موسم میں بہت سے خطوں کے ممالک میں کاشتکار اگلی فصل کے لیے کھاد خریدتے ہیں۔ اگر انہیں مناسب مقدار میں کھاد نہ ملے، یا قیمتیں بہت زیادہ ہوں، تو پیداوار کم ہو سکتی ہے۔ فریدہ یوسف کہتی ہیں کہ کم ترقی یافتہ ممالک ان دھچکوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اس لیے وہ سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ 

ان ممالک کے لیے ایندھن، خوراک، کھاد اور نقل و حمل کی بڑھتی لاگت جلد ہی سرکاری مالیات اور گھریلو بجٹ پر دباؤ ڈال سکتی ہے جس سے خوراک کی پیداوار میں کمی آ سکتی ہے اور غذائی عدم تحفظ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کا کردار

فریدہ یوسف کا کہنا ہے کہ ان تمام مسائل کے باوجود دنیا بھر کا مشترکہ مفاد یہی ہے کہ تجارتی راستے کھلے رہیں کیونکہ اس نوعیت کی رکاوٹیں تمام معیشتوں کو متاثر کرتی ہیں۔

انکٹاڈ اس صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور حکومتوں کی مدد کے لیے معلومات اور تجزیہ فراہم کر رہا ہے۔ ادارہ مختلف ممالک اور شراکت داروں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر معلومات کے تبادلے اور مشترکہ حکمت عملی بنانے میں بھی مدد دیتا ہے اور بین الاقوامی قانون کے تحت بحری تجارت کو محفوظ اور قابل بھروسہ بنانے کے لیے کام کرتا ہے۔