برہم صالح: مہاجرت سے مہاجروں کے عالمی ادارے کی سربراہی کا سفر
برہم صالح کی زندگی کا بڑا حصہ سرحدیں عبور کرتے گزرا ہے۔ نوعمری میں وہ کرد مہاجر کے طور پر عراق میں جبر سے بچنے کے لیے فرار ہوئے اور اب اقوام متحدہ میں پناہ گزینوں کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کے سربراہ کی حیثیت سے دنیا کے طول و عرض میں 11 کروڑ 70 لاکھ مہاجرین کے حالات بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔
انہوں نے پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کا عہدہ سنبھالتے ہی جنیوا میں اپنے دفتر سے نکل کر کینیا اور چاڈ کے مہاجر کیمپوں کا رخ کیا جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ وہ ایک ایسے ادارے کی قیادت کس انداز میں کرنا چاہتے ہیں جو بڑھتے ہوئے بحرانوں کے بوجھ تلے دبا ہے۔
ایک حالیہ انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ذمہ داری ہر اعتبار سے بہت بھاری ہے۔ اس کام کی وسعت کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی آواز قدرے بھرا گئی۔ وہ مہاجرت کو اعداد و شمار کے طور پر نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی حقیقت کے طور پر لیتے ہیں۔
اعداد و شمار میں چھپی زندگیاں
1960 میں عراقی کردستان میں پیدا ہونے والے برہم صالح نوعمری میں صدام حسین کی حکومت کے دوران خود بھی مہاجر ہوئے اور برسوں جلاوطن رہے۔ انہوں نے برطانیہ میں تعلیم حاصل کی، سیاسی میدان میں قدم رکھا اور بالآخر وطن واپس آ کر 2018 میں عراق کے آٹھویں صدر بنے۔ اسی لیے جب وہ غیریقینی حالات کا سامنا کرنے والے لاکھوں لوگوں کو دیکھتے ہیں تو اپنی زندگی کے تجربات ان کے مدنظر ہوتے ہیں۔
انہوں نے انٹرویو میں کہا کہ ہر عدد کے پیچھے ایک زندگی ہوتی ہے۔ ایک ایسا انسان جس کے خواب ہوتے ہیں اور جسے وقار کے ساتھ جینے اور بہتر مستقبل پانے کا حق ہے۔
بے گھر افراد کی مدد کے لیے بنایا گیا عالمی نظام آج شدید دباؤ میں ہے۔ نقل مکانی بڑھنے کے ساتھ امدادی وسائل کم ہو رہے ہیں جس کے باعث 'یو این ایچ سی آر' جیسے مددگار اداروں کو محدود وسائل میں بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنا پڑ رہی ہیں۔
طویل مدتی ہجرت کا بحران
برہم صالح کا کہنا ہے کہ مہاجرت کسی کا مقدر نہیں بلکہ ایک عارضی کیفیت ہونی چاہیے۔ ماضی میں مہاجرین اور پناہ گزینوں کے تحفظ کا پورا نظام اسی تصور پر قائم تھا کہ یہ ایک عارضی مرحلہ ہوتا ہے۔ لوگ تحفظ کے لیے ایک سے دوسری جگہ جاتے ہیں، پناہ لیتے ہیں اور حالات بہتر ہونے پر واپس لوٹ جاتے ہیں۔
تاہم، طویل جنگوں اور سیاسی تعطل نے اس تصور کو کمزور کر دیا ہے۔ آج تقریباً دو تہائی مہاجرین اور پناہ گزین ایسے حالات میں زندگی گزار رہے ہیں جسے طویل المدتی بے دخلی یا نقل مکانی کہا جائے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو پانچ، دس بلکہ بیس برس یا اس سے بھی زیادہ عرصہ تک غیریقینی حالات میں مہاجر رہتے ہیں۔ ان کے بچپن مہاجر کیمپوں میں گزر جاتے ہیں اور کئی نسلیں اپنے آبائی گھروں کو دیکھے بغیر جوان ہو جاتی ہیں۔
صالح کہتے ہیں کہ یہ صورتحال ناقابل قبول اور انسانی وقار کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے۔
مہاجرین کے لیے پرعزم منصوبہ
مہاجرت سے متعلق مسائل پر قابو پانے کے لیے برہم صالح کا منصوبہ خاصا پرعزم ہے۔ انہوں نے طویل المدتی مہاجرت کے شکار افراد کی تعداد کو آئندہ دس برس میں نصف کرنے کا ہدف طے کیا ہے۔ یہ ایک ایسا ہدف ہے جو 'یو این ایچ سی آر' کی موجودہ صلاحیت سے کہیں بڑھ کر ہے جسے وہ خود بھی تسلیم کرتے ہیں۔
ان کی حکمت عملی کا بنیادی حصہ ایک ایسی تبدیلی ہے جسے لانے میں انسانی امداد کا نظام طویل عرصہ سے ناکام ہے۔ وہ ہنگامی امداد سے آگے بڑھ کر معاشی شمولیت پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق، مہاجرین کو کام کرنے اور میزبان معاشروں میں اپنا حصہ ڈالنے کے مواقع ملنے چاہئیں تاکہ وہ مستقل طور پر امداد کے محتاج نہ رہیں۔
پناہ گزینوں کی میزبانی کا بوجھ
مہاجرین کے بحران کا ایک بڑا تضاد یہ ہے کہ اس کا بوجھ زیادہ تر ان ممالک پر پڑتا ہے جو خود وسائل کی کمی کا شکار ہیں۔
صالح کہتے ہیں، مہاجرین اور پناہ گزینوں کے میزبان ممالک کی مدد کرنا ہو گی جن میں سے بیشتر کا شمار کم یا متوسط درجے کی آمدنی والی ریاستوں میں ہوتا ہے۔
کولمبیا سے یوگنڈا اور چاڈ سے بنگلہ دیش تک، یہی وہ ممالک ہیں جو زیادہ تر مہاجرین اور پناہ گزینوں کو سنبھالتے ہیں۔ ان کے سکول، ہسپتال اور روزگار کے مواقع دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں جبکہ ان کے اپنے شہری بھی معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں۔
مہاجرین اور دنیا کے لیے پیغام
کینیا کے شمالی علاقے میں واقع کاکوما پناہ گزین کیمپ کا شمار دنیا میں مہاجر کی چند بڑی بستیوں میں ہوتا ہے جہاں برہم صالح کو امید اور ہمت واضح دکھائی دی۔
ان کا کہنا ہے کہ ہر مہاجر میں پائی جانے والی مضبوطی اور حوصلہ حقیقی ہے اور یہی جذبہ ان کے پیغام کی بنیاد ہے جو وہ خاص طور پر نوجوان مہاجرین کو دیتے ہیں کہ 'اقوام متحدہ اور اس کے ساتھی ان کی خودمختاری کو مضبوط بنانے کے لیے کام کریں گے۔'
وہ کہتے ہیں کہ خودمختاری محض ایک اصطلاح نہیں بلکہ سوچ کی تبدیلی ہے یعنی مہاجرین کو صرف متاثرہ افراد کے بجائے مستقبل کے معمار کے طور پر دیکھنا ہو گا۔ اس مقصد کے لیے عالمی برادری کو سازگار حالات پیدا کرنا ہوں گے۔ فی الوقت حالات غیر یقینی ہیں، تنازعات جاری ہیں، امدادی بجٹ کم ہو رہے ہیں اور سیاسی اتفاق رائے کمزور پڑ رہا ہے۔
مہاجرت مستقل اذیت نہیں بلکہ ایک کیفیت ہونی چاہیے۔ لیکن موجودہ حالات میں دنیا بھر کے لاکھوں لوگوں بالخصوص کاکوما جیسے کیمپوں میں رہنے والے مہاجرین کے لیے فی الحال یہ ایسی اذیت ہے جسے انہیں نامعلوم مدت تک سہنا ہے۔