انسانی کہانیاں عالمی تناظر

مشرق وسطیٰ: ایرانی جوہری مرکز اور لبنانی طبی سہولتوں پر اسرائیلی حملے

امدادی کارکن لبنان، مارچ 2026 میں لبنان میں ایک بڑے شپنگ کنٹینر سے انسانی امدادی سامان کو ایک سرخ ٹرک پر اتارتے ہیں۔ ورلڈ ویژن ویسٹ پہنے کارکن جنگ کی وجہ سے بے گھر خاندانوں کو امداد تقسیم کر رہے ہیں۔
© World Vision لبنان میں بے گھری پر مجبور افراد کے لیے امدادی سامان اتارا جا رہا ہے۔

مشرق وسطیٰ: ایرانی جوہری مرکز اور لبنانی طبی سہولتوں پر اسرائیلی حملے

امن اور سلامتی

ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) نے ایران کے نطنز جوہری مرکز پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے سے تابکاری کا اخراج نہیں ہوا۔ عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) نے بتایا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث روزانہ سکول کی ایک کلاس کے برابر تعداد میں بچے ہلاک ہو رہے ہیں۔

'آئی اے ای اے' کے سربراہ رافائل مینوئل گروسی کے مطابق نطنز جوہری مرکز پر ہفتے کو بمباری ہوئی تاہم ادارے کو اس جگہ کے قریب تابکاری کی سطح میں اضافے کی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں۔ 

یہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے حملے شروع ہونے کے بعد ملک میں جوہری تنصیبات پر چوتھا حملہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عسکری کارروائیوں میں احتیاط برتی جائے تاکہ کسی جوہری حادثے کا خطرہ پیدا نہ ہو۔

1000 سے زیادہ ہلاکتیں

عالمی ادارہ برائے اطفال (یونیسف)نے بتایا ہے کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد لبنان پر ہونے والے حملوں میں ایک ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک اور 2,584 زخمی ہو چکے ہیں۔

ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق لبنان میں اسرائیلی حملوں میں 31 طبی کارکنوں کی ہلاکت بھی ہوئی ہے۔

سورج غروب کے پس منظر میں 10 مارچ 2026 کو لبنان کے شہر بیروت میں بم دھماکے سے متاثرہ عمارت سے دھواں اٹھتا ہے۔
© WFP/Alfredo Zuniga

طبی مراکز پر حملے

اوچا کی رپورٹ کے مطابق، لبنان میں صحت کے مراکز اور امدادی کارکنوں پر حملے بڑھتے جا رہے ہیں۔ ہسپتالوں، ایمبولینس گاڑیوں اور طبی ٹرانسپورٹ پر حملوں کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اب تک پانچ ہسپتال اور 49 طبی مراکز مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں جس سے طبی سہولیات تک رسائی شدید متاثر ہوئی ہے۔

بعلبک میں حالیہ حملے میں ایک امدادی کارکن اور دو بچے بھی ہلاک ہوئے جس سے بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کے حوالے سے شدید تشویش پیدا ہوئی ہے جو طبی عملے اور امدادی کارکنوں کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔

نقل مکانی اور انسانی بحران

لبنان میں اسرائیلی فوج کی جانب سے مسلسل انخلا کے احکامات کے باعث لوگ بار بار نقل مکانی پر مجبور ہیں اور اب تک 12 لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں۔ ان میں 134,439 افراد نے اندرون ملک نقل مکانی کی ہے جو 636 اجتماعی پناہ گاہوں میں مقیم ہیں۔

لبنان میں اجتماعی پناہ گاہیں شدید دباؤ کا شکار ہیں جہاں گنجائش سے زیادہ لوگ موجود ہیں اور وہاں بجلی کی کمی، حرارت کے فقدان اور رازداری کی کمی جیسے مسائل درپیش ہیں۔

472 تعلیمی اداروں کی عمارتیں پناہ گاہوں کے طور پر استعمال ہو رہی ہیں جس سے ہزاروں طلبہ کی تعلیم متاثر ہوئی ہے۔

لبنان کے شہر بیروت میں ایک شدید طور پر تباہ شدہ اور منہدم عمارت، جس میں 12 مارچ 2026 کو فضائی حملوں کے بعد ملبے سے دھواں اٹھ رہا ہے۔
© WFP/Alfredo Zuniga

بنیادی ڈھانچے کی تباہی

لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں میں سڑکیں، پل، پانی کی لائنیں اور ایندھن کی فراہمی کے کم از کم پانچ مراکز تباہ یا متاثر ہوئے ہیں جس سے امدادی سرگرمیوں کی فراہمی مزید مشکل ہو گئی ہے۔

اوچا نے متحارب فریقین پر زور دیا ہے کہ بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام کیا جائے اور شہریوں، صحافیوں، طبی عملے، مریضوں اور امدادی کارکنوں کو ہر حال میں تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔

بھوک پھیلنے کا خطرہ

عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کے مطابق، اگر جنگ جاری رہی اور ایندھن کی قیمتیں بڑھتی رہیں تو 4 کروڑ 50 لاکھ افراد شدید بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں۔

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے کہا ہے کہ جنگ کے اثرات کے باعث بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہو رہی ہے۔ ایران جنگ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث ہزاروں افغان شہری بھی وطن واپس جا رہے ہیں جہاں پہلے ہی متعدد بحران موجود ہیں اور انہیں فوری مدد کی ضرورت ہے۔

اقوامِ متحدہ کے اداروں کے مطابق اس جنگ کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ اس سے باہر بھی تیزی سے محسوس کیے جا رہے ہیں۔