پھیلتی ایران جنگ ایشیائی ممالک میں شدید معاشی مسائل کا سبب، یو این
ایشیا اور الکاہل کے لیے اقوام متحدہ کے معاشی و سماجی کمیشن (ایسکیپ) نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ خطے میں ایندھن کی فراہمی، بحری راستوں اور تجارتی ترسیلی سلسلے کو بری طرح متاثر کر رہی ہے جبکہ کمزور معیشتوں کو مہنگائی، بیروزگاری، غذائی عدم تحفظ اور ترسیلات زر میں کمی کا سامنا ہے۔
کمیشن میں کلی معاشی حکمت عملی کے شعبے کے ڈائریکٹر حمزہ علی ملک نے کہا ہے کہ نقل و حمل کے بڑھتے اخراجات، توانائی اور کھاد کی قیمتوں میں تیز رفتار اضافہ، کرنسی پر دباؤ اور مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ اس جنگ کے فوری اثرات ہیں۔ مال برداری اور تیل، گیس و کھاد کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ اب مہنگائی میں اضافے، برآمدات میں کمی اور قرضوں سے متعلق خدشات بڑھنے کا امکان ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس انتشار کا مرکز آبنائے ہرمز ہے جو دنیا کا ایک اہم ترین بحری راستہ ہے۔ سمندر کے ذریعے تیل کی تقریباً ایک چوتھائی عالمی تجارت اسی راستے سے ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں، مائع قدرتی گیس اور کھاد کی بڑی مقدار بھی یہیں سے گزرتی ہے جبکہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث آبنائے میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً بند ہو گئی ہے۔
ان حالات میں برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا چکی ہے جبکہ نقل و حمل اور انشورنس کے بڑھتے اخراجات مزید دباؤ ڈال رہے ہیں۔ یہ دھچکے تجارتی ترسیلی سلسلے تک پھیل رہے ہیں اور انسانی امداد اور ضروری اشیا کی فراہمی بھی متاثر ہونے لگی ہے۔
تجارتی ترسیلی نظام پر دباؤ
ایران جنگ کے نتیجے میں بڑی بحری تجارتی کمپنیاں مشرق وسطیٰ کے لیے اپنی خدمات معطل کر رہی ہیں جبکہ کنٹینر بندرگاہوں میں پھنس گئے ہیں۔ خطے میں کم از کم 20 ہزار ملاح بھی اس صورتحال سے متاثر ہوئے ہیں۔
ایسکیپ میں شعبہ تجارت کی ڈائریکٹر روپا چندا نے بتایا ہے کہ ہیلیم اور دیگر مخصوص گیسوں کی قلت سیمی کنڈکٹر اور جدید الیکٹرانک آلات کی تیاری کے شعبے میں فوری بحران لائی ہے جبکہ پیٹروکیمیکل سے متعلقہ خام مال کی ترسیل میں رکاوٹ ایشیا کی بڑی معیشتوں میں صںعتوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
کھاد کی کمی سے دو ارب آبادی والے خطے جنوبی ایشیا میں آئندہ زرعی پیداوار متاثر ہونے کے بارے میں خدشات بڑھ رہے ہیں۔
تیل، گیس اور کھاد کی بڑھتی قیمتیں
توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں تقریباً 45 فیصد اضافہ ہوا، گیس کی قیمتیں 55 فیصد بڑھ گئیں جبکہ کھاد کی قیمتوں میں 35 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔
رواں سال خطے میں مہنگائی بڑھ کر 4.6 فیصد تک پہنچ سکتی ہے جو 2025 میں 3.5 فیصد تھی۔ کئی ممالک میں ایندھن مہنگا ہونے سے نقل و حمل کے اخراجات، پیداوار اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے غریب ترین طبقات بری طرح متاثر ہونے لگے ہیں۔
جنوبی ایشیائی ممالک پر اثرات
تیل کی ترسیل میں خلل آنے سے پاکستان میں، ایندھن اور اشیائے خورونوش کی قیمتیں اچانک بڑھ گئی ہیں اور پٹرول لینے کے لیے لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ حکومت ایندھن کی بچت کے لیے کوششیں کر رہی ہے جن میں سکولوں میں ہفتہ وار ایک دن کی اضافی چھٹی اور گھر سے کام کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔
سری لنکا میں کل درآمدات کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ پٹرولیم مصنوعات کا ہے جہاں حکومت نے ایندھن کی راشن بندی شروع کر دی ہے، عوامی تقریبات کم کر دی گئی ہیں، سکول چار دن کھل رہے ہیں اور سرکاری کام محدود کر دیے گئے ہیں۔
نیپال میں یہ بحران صرف معاشی نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا مسئلہ بن گیا ہے۔ خلیجی ممالک میں کام کرنے والے نیپال کے کم از کم ایک مزدور کی ہلاکت، درجنوں کے زخمی ہونے اور ہزاروں کے پھنس جانے کی اطلاعات ہیں۔ خلیجی ممالک میں 17 لاکھ سے زیادہ نیپالی مزدور کام کرتے ہیں۔ ان کی بھیجی گئی ترسیلات زر ملک کی مجموعی قومی پیداوار کا ایک چوتھائی سے زیادہ ہے جن سے تقریباً 60 فیصد گھرانوں کو سہارا ملتا ہے۔
میانمار میں بھی ایندھن کی کڑی راشن بندی کی جا رہی ہے جس سے نقل و حمل، کاروبار اور امدادی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
خطرات میں گھرا خطہ
ایسکیپ کے مطابق، اگر یہ بحران جاری رہا تو رواں سال ایشیا اور الکاہل خطے کی معاشی شرح نمو کم ہو کر تقریباً 4.0 فیصد پر آ جائے گی جو 2025 میں 4.6 فیصد تھی۔ اس طرح غربت، غذائی قلت اور عدم مساوات میں اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ بے روزگاری اور مزدوروں کی نقل مکانی جیسے مسائل بھی بڑھ سکتے ہیں۔
کمیشن نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مخصوص مالی امداد، نقد رقوم کی فراہمی، چھوٹے کاروباروں کی مدد اور مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت مالیاتی پالیسیاں نافذ کرنے کے اقدامات تجویز کیے ہیں اور توانائی کے ذرائع، تجارتی راستوں اور تجارتی ترسیلی نظام کو متنوع بنانے کے لیے کہا ہے۔