مشرق وسطیٰ: جنگ کے معاشی نقصانات 150 ارب ڈالر ہونے کا خطرہ
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے پہلے دو ہفتوں میں تقریباً 63 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا ہے اور اگر یہ تنازع مزید ایک ماہ جاری رہا تو نقصانات 150 ارب ڈالر یا خطے کی مجموعی داخلی پیداوار کے 3.7 فیصد تک پہنچ جائیں گے۔
مغربی ایشیا کے لیے اقوام متحدہ کے معاشی و سماجی کمیشن (ایسکوا) نے اپنی تازہ ترین رپورٹ بعنوان 'جنگ اور اس کے اثرات: عرب خطے میں بڑھتا ہوا بحران' میں واضح کیا ہے کہ اس تنازع کے اثرات توانائی کی منڈیوں، تجارتی راستوں، فضائی سفر کے نظام اور مالیاتی ڈھانچے تک پھیل چکے ہیں۔
ایسکوا کے قائم مقام ایگزیکٹو سیکرٹری مراد وہبہ نے کہا ہے کہ اس جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ کے معاشی اثرات بیک وقت کئی شعبوں میں تیزی سے ظاہر ہو رہے ہیں۔ جو معاملہ ابتدا میں سلامتی سے متعلق تھا وہ اب تجارت، توانائی، نقل و حمل اور مالیات کے ذریعے پورے خطے کی معیشت میں سرایت کر گیا ہے جس کے نتائج براہ راست ترقی، مالیاتی استحکام اور انسانی صورتحال پر مرتب ہو رہے ہیں۔
یہ کمیشن عرب ممالک میں جامع اور پائیدار اقتصادی و سماجی ترقی کے فروغ اور علاقائی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے کام کرتا ہے۔
رپورٹ کے نتائج
آبنائے ہرمز کے راستے جہاز رانی میں تقریباً 97 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جس کے نتیجے میں یومیہ تقریباً 2.4 ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے جبکہ دو ہفتوں میں مجموعی تجارتی خسارہ تقریباً 30 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
28 فروری سے 12 مارچ کے درمیان خطے کے نو بڑے ہوائی اڈوں پر تقریباً 19 ہزار پروازیں منسوخ ہوئیں جس سے فضائی کمپنیوں کو تقریباً 1.9 ارب ڈالر کا مالی نقصان ہوا۔
اس جنگ کا سب سے زیادہ اثر ایسی معیشتوں پر مرتب ہونے کا امکان ہے جو توانائی درآمد کرتی ہیں۔ اگر تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل رہی تو تیونس، لبنان اور مصر کے لیے سالانہ درآمدی اخراجات میں رواں سال کے بجٹ تخمینوں کے مقابلے میں تقریباً 6.8 ارب ڈالر کا اضافہ ہو سکتا ہے۔
لبنان کو اس جنگ کے فوری اور سنگین نتائج کا سامنا ہے۔ 2 مارچ سے شروع ہونے والی کشیدگی نے ملک پر اسرائیلی حملوں کی شدت میں اضافہ کر دیا ہے۔ اگر یہ حملے جاری رہے تو بنیادی ڈھانچے، تجارت اور خدمات کو پہنچنے والے نقصان کے باعث معاشی خسارہ تیزی سے بڑھ سکتا ہے جبکہ ملکی معیشت 2019 کے بعد تقریباً 40 فیصد سکڑ چکی ہے۔