انسانی کہانیاں عالمی تناظر

دنیا میں ہر سال 49 لاکھ بچے اپنی پانچویں سالگرہ نہیں دیکھ پاتے، رپورٹ

ملاوی میں ایک ہیلتھ ورکر نے ڈبلیو ایچ او افریقہ ویکسینیشن مہم کے ایک حصے کے طور پر ایک رنگا رنگ کپڑے میں لپیٹ کر سوئے ہوئے نوزائیدہ بچے کو پولیو ویکسین لگائی۔
© WHO سال 2024 میں ایک ماہ سے پانچ سال تک عمر کے ایک لاکھ سے زیادہ بچے شدید غذائی قلت کے باعث ہلاک ہوئے۔

دنیا میں ہر سال 49 لاکھ بچے اپنی پانچویں سالگرہ نہیں دیکھ پاتے، رپورٹ

صحت

دنیا بھر میں چھوٹے بچوں کی صحت و زندگی کو تحفظ دینے کی جانب پیش رفت تشویشناک حد تک سست پڑ گئی ہے۔ 2024 میں 49 لاکھ بچے پانچ سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے انتقال کر گئے تھے جن میں نومولود بچوں کی تعداد 23 لاکھ تھی۔

بچوں کی اموات کا تخمینہ لگانے والے اقوام متحدہ کے بین الاداری گروپ کی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2000 کے بعد پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات میں 50 فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے مگر 2015 کے بعد اس کمی کی رفتار 60 فیصد تک سست پڑ چکی ہے۔

Tweet URL

2024 میں ایک ماہ سے پانچ سال تک عمر کے ایک لاکھ سے زیادہ بچے شدید غذائی قلت کے باعث ہلاک ہوئے۔ یہ اس نوعیت کا پہلا عالمی تخمینہ ہے جس میں پاکستان، صومالیہ اور سوڈان میں سب سے زیادہ تعداد اموات ریکارڈ کی گئیں۔

ماہرین کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ غذائی قلت مدافعتی نظام کو کمزور کر دیتی ہے اور دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھا دیتی ہے جبکہ بہت سے واقعات سامنے ہی نہیں آ پاتے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسی اموات کو موثر، کم لاگت اقدامات اور معیاری طبی سہولیات کی دستیابی کے ذریعے روکا جا سکتا ہے۔ اس میں پہلی مرتبہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کس قدر تعداد میں بچے کہاں ہلاک ہو رہے ہیں اور ان ہلاکتوں کی وجوہات کیا ہیں۔

متعدی بیماریوں کا خطرہ

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے کہا ہے کہ کسی بچے کو قابل انسداد بیماری کے سبب موت کے منہ میں نہیں جانا چاہیے۔ بدقسمتی سے بچوں کی بقا کے ضمن میں پیش رفت ایسے وقت سست ہو رہی ہے جب عالمی سطح پر امدادی وسائل میں بڑے پیمانے پر کٹوتیاں کی جا رہی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متعدی بیماریاں اب بھی بچوں کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔ دنیا میں 43 فیصد کم عمر بچوں کی اموات نو بڑی بیماریوں کے باعث ہو رہی ہیں۔ 

زندگی کے پہلے مہینے کے بعد ملیریا، اسہال اور نمونیا جیسی بیماریاں بچوں میں اموات کی بڑی وجوہات ہیں اور ایسے علاقوں میں ان کی تعداد کہیں زیادہ ہے جہاں ان بیماریوں کا غلبہ ہے۔ ان میں چاڈ، جمہوریہ کانگو، نیجر اور نائجیریا قابل ذکر ہیں جہاں تنازعات، موسمیاتی تبدیلی، مچھر بردار امراض، جراثیمی مزاحمت اور دیگر حیاتیاتی خطرات کے باعث روک تھام اور علاج تک رسائی متاثر ہو رہی ہے۔

نوزائیدہ بچوں میں بڑھتی اموات

قبل از وقت پیدائش، زچگی کے دوران پیچیدگیاں اور انفیکشن نوزائیدہ بچوں کی بڑھتی ہوئی اموات کے بڑے اسباب ہیں۔ 2024 میں ذیلی صحارا افریقہ میں ایسے طبی مسائل کا شکار خواتین میں اموات کی شرح 58 فیصد جبکہ جنوبی ایشیا میں 25 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ 

تنازعات کا شکار علاقوں میں بچوں کے پانچ سال کی عمر تک زندہ رہنے کے امکانات دیگر علاقوں کے مقابلے میں تقریباً تین گنا کم ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، 2024 میں پانچ سے 24 سال کے درمیان عمر کے 21 لاکھ بچوں اور نوعمر افراد کا انتقال ہوا۔ 15 سے 19 سال عمر کی لڑکیوں میں خودکشی اور لڑکوں میں ٹریفک حادثات اموات کی سب سے بڑی وجوہات تھیں۔

پائیدار ترقی کا موثر طریقہ

اقوام متحدہ کے شعبہ اقتصادی و سماجی امور کے سربراہ لی جنہوا نے ان نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کئی ممالک پائیدار ترقیاتی مقاصد کے تحت بچوں کی بقا کا ہدف حاصل کرنے میں پیچھے رہ گئے ہیں۔

 ان کا کہنا ہے کہ، سبھی جانتے ہیں کہ ان اموات کو کیسے روکا جا سکتا ہے۔ اب ضرورت ہے کہ سیاسی عزم کو ازسرنو مضبوط کیا جائے، بنیادی طبی سہولیات میں مسلسل سرمایہ کاری کی جائے اور حصول معلومات کے مضبوط نظام قائم کیے جائیں تاکہ کوئی بچہ نظرانداز نہ ہو۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچوں کی صحت پر سرمایہ کاری دراصل پائیدار ترقی کے سب سے موثر طریقوں میں شامل ہے اور ویکسین، غذائیت کے پروگرام اور ماہر طبی عملے تک رسائی جیسے اقدامات لاکھوں جانیں بچا سکتے ہیں۔