لبنان کو حزب اللہ کے مستقبل بارے حکمت عملی کی ضرورت، یو این رابطہ کار
لبنان کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی رابطہ کار جینین ہینز پلاشرٹ نے کہا ہے کہ ملک پر اسرائیلی عسکری کارروائیوں کے نتیجے میں شہری ہلاکتیں بڑھتی جا رہی ہیں اور ملکی مسائل کو حل کرنے کے لیے کسی علاقائی معاہدے پر انحصار کرنا سنگین غلطی ہو گی۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امن کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنا ضروری ہے لیکن لبنان کو فوری طور پر اندرون ملک بہتری کے لیے بھی اقدامات کرنے ہوں گے جن میں حزب اللہ کے مستقبل سے متعلق جامع حکمت عملی کی تیاری بھی شامل ہے۔ اس میں نہ صرف تنظیم کے ہتھیاروں بلکہ اس کے مالی نظام اور سماجی ڈھانچے کو بھی شامل کیا جانا چاہیے، جبکہ اس عمل میں لبنانی ریاست کے تمام اداروں کی شرکت ضروری ہے۔
طویل عرصہ سے موخر اہداف پر تیز اور فیصلہ کن پیش رفت کرنا ہو گی جن میں قومی سلامتی کی حکمت عملی، مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان مکالمہ، پسماندہ طبقات کے لیے بہتر معاشی مواقع اور حزب اللہ کے جنگجوؤں کے مستقبل کی منصوبہ بندی شامل ہیں۔
مضبوط فوج کی ضرورت
رابطہ کار کا کہنا تھا کہ لبنانی فوج کو مضبوط بنانا انتہائی اہم ہے۔ درحقیقت ریاست کے لیے اسلحہ پر مکمل اختیار قائم کرنے میں لبنانی مسلح افواج کا کردار ناگزیر ہے لیکن اس کے پاس یہ ذمہ داری پوری کرنے کے لیے درکار وسائل کی قلت ہے۔ اس خلا کو پر کرنے کے لیے بین الاقوامی تعاون میں نمایاں اضافہ ہونا چاہیے اور لبنان کو اپنی مالیاتی ترجیحات تبدیل کرنا ہوں گی۔
قابل اعتماد اور مضبوط لبنانی فوج سبھی کی مشترکہ ترجیح ہونی چاہیے جو اندرون ملک پیدا ہونے والے سلامتی کے مسائل سے نمٹنے کی اہلیت رکھتی ہو۔
امدادی ضروریات میں اضافہ
انہوں نے انسانی امداد، بحالی اور تعمیرنو کی ضروریات میں تیزی سے اضافے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ فوری امداد کے لیے عالمی برادری کی جانب سے وسائل کی فراہمی نہ صرف انسانی ہمدردی کا تقاضا ہے بلکہ اس کا مقصد یہ بھی ہے کہ غیر ریاستی عناصر دوبارہ ریاست کی جگہ نہ لے سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ لبنان کے حالات انتہائی مشکل، غیر مستحکم اور خطرناک ہیں۔ مسلسل عسکری کارروائیاں مسائل کا دیرپا حل نہیں لا سکتیں۔ لبنانی حکومت کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر آمادگی خوش آئند ہے۔ ملک میں تمام مکاتب فکر، فرقوں اور سیاسی دھڑوں میں یہ واضح خواہش پائی جاتی ہے کہ مسلح مزاحمت کو چھوڑ کر ملک کو مستحکم کیا جائے اور ایسا ریاستی نظام بنایا جائے جو لوگوں کو تقسیم کے بجائے متحد کرے۔