مشرقی یروشلم: اسرائیلی آبادکاری میں اضافہ، 36 ہزار فلسطینی بے گھر
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے مشرقی یروشلم سمیت مقبوضہ مغربی کنارے کے بڑے حصوں میں غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور الحاق کے عمل کو تیز کر دیا ہے جبکہ سکیورٹی فورسز اور آبادکاروں کے بڑھتے تشدد کے نتیجے میں 36 ہزار سے زیادہ فلسطینی بے گھر ہو گئے ہیں۔
دفتر کی جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آبادکاروں کا تشدد منظم انداز میں جاری ہے اور ایسے زیادہ تر واقعات میں کسی مجرم کو سزا نہیں ملتی۔ اسرائیلی حکام اس عمل میں معاون ہیں جس کے باعث ریاستی اداروں اور آبادکاروں کے تشدد میں فرق کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
یہ رپورٹ یکم نومبر 2024 سے 31 اکتوبر 2025 تک 12 ماہ کے حالات کا احاطہ کرتی ہے جس میں آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں پر تشدد کے 1,732 واقعات درج کیے گئے ہیں جبکہ اس سے پہلے 12 ماہ کے عرصہ میں یہ تعداد 1,400 تھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں زیتون کی فصل کی کٹائی کے دوران آباد کاروں کے 42 حملے ریکارڈ کیے گئے جن میں 131 فلسطینی زخمی ہوئے۔ ان لوگوں میں 14 خواتین اور ایک بچہ بھی شامل تھے جو 2006 کے بعد کسی ایک مہینے میں سب سے بڑی تعداد ہے۔ ایسے بہت سے آبادکاروں کو سرکاری اداروں کی جانب سے اسلحہ، تربیت اور سازوسامان فراہم کیا جاتا ہے۔
لوگوں کا جبری انخلاء
رپورٹ کے مطابق، مقبوضہ مغربی کنارے میں نقل مکانی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اسرائیل کی جانب سے منظم پالیسی کے تحت بڑے پیمانے پر آبادی کی جبری منتقلی عمل میں لائی جا رہی ہے جس کا مقصد مستقل بے دخلی ہے اور اس سے نسلی تطہیر کے خدشات جنم لیتے ہیں۔
رپورٹ میں مشرقی یروشلم کے شمال مشرق میں بدوی برادریوں کے ہزاروں فلسطینیوں کو درپیش بے دخلی کے بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ کسی جگہ سے آبادی کی یوں غیر قانونی منتقلی چوتھے جنیوا کنونشن کے تحت جنگی جرم ہے۔ ایسے اقدامات کے ذمہ دار افراد پر فوجداری قانون لاگو ہو سکتا ہے اور بعض حالات میں یہ انسانیت کے خلاف جرم بھی قرار دیے جا سکتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج سے اختیارات کی سویلین حکام کو منتقلی، فلسطینیوں کی زمینوں کی ضبطی اور دیگر امتیازی پالیسیاں ایک منظم امتیازی، جابرانہ اور پرتشدد نظام کی عکاسی کرتی ہیں جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
آبادکاری روکنے کا مطالبہ
رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی حکام نے اس عرصہ میں مقبوضہ مشرقی یروشلم میں 36,973 رہائشی یونٹ اور مغربی کنارے کے دیگر حصوں میں تقریباً 27,200 یونٹ تعمیر کرنے کی منظوری دی یا اسے آگے بڑھایا۔ اس دوران 84 نئی بستیوں کے لیے حفاظتی چوکیاں بھی قائم کی گئیں۔
مغربی کنارے کے ایریا بی میں بھی بستیوں کی تعمیر میں اضافہ ہوا ہے، جو اوسلو معاہدے کے تحت فلسطینی اتھارٹی کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان بستیوں کی تعمیر اور توسیع فوری اور مکمل طور پر روک دے، موجودہ بستیوں کو ختم کرے، تمام آبادکاروں کو وہاں سے نکالے اور فلسطینی علاقوں پر قبضہ ختم کرے۔