زراعت: ایشیا الکاہل ممالک میں پلاسٹک کا بڑھتا استعمال روکنے پر اتفاق
زراعت میں پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے استعمال نے ایشیا اور بحرالکاہل کے خطے میں ماحولیاتی خدشات کو بڑھا دیا ہے جہاں اب خوراک کی پیداوار کے تقریباً ہر مرحلے میں پلاسٹک سے کام لیا جا رہا ہے۔
چھوٹے پودوں کو ڈھانپنے والی چادروں سے لے کر نرسری ٹرے، آبپاشی کے پائپوں اور گرین ہاؤس کی چھتوں تک کئی طرح کے پلاسٹک فصلیں اگانے، پیداوار بڑھانے، پانی بچانے اور کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات کو کم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ تاہم پلاسٹک سے بنی اشیا کو مناسب طریقے سے تلف نہ کرنے اور ری سائیکلنگ کے محدود نظام کی وجہ سے مٹی، آبی گزرگاہوں حتیٰ کہ خوراک میں بھی پلاسٹک کے باریک ذرات شامل ہو جاتے ہیں جو صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتے ہیں۔
اسی مسئلے کو لے کر 5 مارچ 2026 کو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کے زیراہتمام 'زراعت میں پلاسٹک کا استعمال: ایشیا اور الکاہل خطے کے لیے علاقائی سطح پر معلومات کا تبادلہ' کے عنوان ایک اعلیٰ سطحی آن لائن اجلاس منعقد ہوا۔ اس میں غور کیا گیا کہ پلاسٹک کے پائیدار استعمال اور انتظام کے لیے 'ایف اے او' کا عبوری رضاکارانہ ضابطہ اخلاق (وی سی او سی) خطے میں پائیدار زرعی طریقوں کو فروغ دینے میں کس طرح مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
اس اجلاس میں 37 ممالک سے تعلق رکھنے والے 100 سے زیادہ مندوبین نے شرکت کی جن میں حکومتوں، تحقیقی اداروں، بین الاقوامی تنظیموں اور نجی شعبے کے نمائندے شامل تھے۔
ایشیا اور الکاہل کے لیے 'ایف اے او' کے علاقائی نمائندے اور ادارے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل ایلوئے ڈوہونگ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ کئی طرح سے زراعت کے لیے پلاسٹک کی ضرورت پڑتی ہے لیکن اس کا غلط استعمال اور ناقص انتظام ماحول اور انسانی صحت کے لیے خطرات پیدا کر رہا ہے۔ 'وی سی او سی' دنیا میں ایسی پہلی عالمی رہنمائی ہے جو رکن ممالک کو زراعت میں پلاسٹک کے پائیدار استعمال اور بہتر انتظام کی طرف لے جانے میں مدد دیتی ہے۔
رکن ممالک کے تجربات
بنگلہ دیش
اجلاس میں بنگلہ دیش نے زراعت میں پلاسٹک کے استعمال سے خوراک میں در آنے والے اس کے باریک ذرات کی موجودگی کے حوالے سے شواہد پیش کیے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ پلاسٹک صرف مٹی، کھاد اور آبپاشی کے پانی میں ہی نہیں بلکہ دودھ، انڈوں، گوشت اور مچھلی میں بھی پایا گیا ہے۔ 24 سال قبل جنوبی ایشیا میں سب سے پہلے پلاسٹک کے تھیلوں پر پابندی لگانے کے بعد اب بنگلہ دیش اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے زرعی پیداکاروں پر ذمہ داری ڈالنے، دیہی علاقوں میں پلاسٹک جمع کرنے کا نظام بنانے اور کسانوں میں آگاہی پیدا کرنے کے اقدامات کر رہا ہے۔
ملائشیا
ملائیشیا میں زرعی پلاسٹک کی مقدار ملک میں استعمال ہونے والے مجموعی پلاسٹک کا تقریباً 3 فیصد ہے۔ اجلاس میں ملائشیا کے نمائندے نے پلاسٹک کی موجودگی میں مٹی کی ذرخیزی سے متعلق خدشات اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے نئی ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے ملک میں 2030 تک پلاسٹک کی ری سائیکلنگ کو بہتر بنانے، ایک مرتبہ استعمال ہونے والے پلاسٹک پر مرحلہ وار پابندی عائد کرنے اور اس کے متبادل مواد کو فروغ دینے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملائشیا پام آئل کے ضمنی اجزا کو بائیو پلاسٹک، گودا اور کھاد میں تبدیل کر کے وسائل کے موثر استعمال، مٹی کی زرخیزی میں بہتری لانے اور کم مقدار میں کاربن خارج کرنے والی حیاتیاتی معیشت کو فروغ دے رہا ہے۔
آسٹریلیا
اجلاس میں آسٹریلیا کے نمائندے نے بتایا کہ ان کے ملک میں ہر سال ایک لاکھ ٹن سے زیادہ زرعی پلاسٹک استعمال ہوتا ہے اور خاص طور پر اس سے باغبانی کے شعبے میں کام لیا جاتا ہے۔ ری سائیکلنگ کے مراکز کی کمی اور ان کا کھیتوں سے طویل فاصلہ اور پلاسٹک کے فضلے کی آلودگی بڑے مسائل ہیں جن پر قابو پانے کے لیے استعمال شدہ پلاسٹک کو جمع کرنے کا تجرباتی منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے رضاکارانہ اقدامات سے آگے بڑھ کر لازمی قوانین متعارف کرانا ضروری ہے جس میں یہ شرط بھی شامل ہونی چاہیے کہ پلاسٹک مصنوعات میں ری سائیکل ہونے والے مواد کی مقدار کم سے کم رکھی جائے گی۔
جاپان
جاپان کی جانب سے اس شعبے میں کامیاب طویل المدتی اقدامات کی مثال پیش کرتے ہوئے بتایا گیا کہ گزشتہ 30 برسوں میں زرعی پلاسٹک کے فضلے میں 55 فیصد کمی آئی اور ری سائیکلنگ کی 76 فیصد شرح حاصل کی گئی۔ یہ کامیابی رضاکارانہ رہنما اصولوں، مقامی سطح پر تعاون اور علاقہ وار ری سائیکلنگ نظام کی بدولت ممکن ہوئی۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کا تعاون
ایشیائی ترقیاتی بینک میں دائروی معیشت کی ماہر فرانچسکا مونٹیویکی نے کہا کہ زرعی پلاسٹک کے فضلے سے پائیدار طور پر نمٹنے کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس ضمن میں ایشیائی ترقیاتی بینک حکومتی اور نجی شعبے کی مالی معاونت کے ذریعے تکنیکی مدد کی فراہمی، مشترکہ مالیاتی منصوبوں کے ذریعے خطرات میں کمی لانےکے اقدامات کر رہا ہے۔ سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے اور اس شعبے میں تبدیلی لانے کے لیے واضح پالیسیوں، مضبوط قوانین اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے۔
چار ترجیحات پر اتفاق رائے
اجلاس کے شرکا نے زراعت میں پلاسٹک کے پائیدار انتظام کے لیے درج ذیل ترجیحات پر اتفاق کیا:
- پلاسٹک کے باریک ذرات پر مزید تحقیق
- زرعی پیداکاروں میں ذمہ داری کا فروغ
- پلاسٹک کے حیاتیاتی متبادل اور اس کی دائروی معیشت کا فروغ
- جدید طریقہ ہائے کار سے کام لینےکے لیے مالیاتی وسائل کی فراہمی
'ایف اے او' نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے شواہد کی تیاری، پالیسی سے متعلق رہنمائی کی فراہمی اور شراکت داری کے ذریعے ممالک کی مدد جاری رکھے گا۔ ادارے نے زور دیا کہ مٹی کی صحت، خوراک کے تحفظ اور پائیدار زرعی پیداوار کو محفوظ بنانے کے لیے عالمی اور علاقائی سطح پر مربوط اقدامات ضروری ہیں اور 'وی سی او سی' ان کوششوں کی رہنمائی کے لیے جامع طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔