ہیٹی: گینگ وار اور جرائم پر قابو پاتی پولیس امید کی کرن
ہیٹی میں متعدد علاقوں کی مسلح جرائم پیشہ گروہوں سے آزادی اور پولیس کی فعال اور نمایاں موجودگی نے تشدد، عدم تحفظ اور شدید غربت سے متاثرہ ملک میں امید کی کرن پیدا کی ہے لیکن کمزور طبقات کو تکالیف اور مصائب سے چھٹکارا دلانے کے لیے طویل المدتی ٹھوس اقدامات درکار ہیں۔
ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوام متحدہ کے ماہر ولیم اونیل نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ مسلح جتھوں کے تشدد کے باعث کم از کم 14 لاکھ افراد بے گھر ہو گئے ہیں جن میں بیشتر کا تعلق دارالحکومت پورٹ او پرنس سے ہے۔ اطلاعات کے مطابق کم از کم 26 جتھے دارالحکومت اور اس کے قریبی علاقوں کے 90 فیصد حصے پر قابض ہیں جن کے تقریباً نصف ارکان 18 برس سے کم عمر بچے ہیں۔
یہ گینگ مقامی آبادی سے بھتہ وصول کرتے ہیں، زیادتی اور اغوا جیسے جرائم میں ملوث رہتے ہیں، تاوان کے لیے لوگوں کو اغوا کرتے ہیں اور علاقوں پر قبضے کے لیے کمزور سکیورٹی فورسز سے لڑتے رہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصہ میں سکیورٹی فورسز کو ان گروہوں کے خلاف متعدد اہم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں تاہم ہزاروں افراد اب بھی جتھوں کے زیرتسلط علاقوں میں پھنسے ہیں جہاں مختلف گروہوں نے اپنی حدود قائم کر رکھی جو لڑائی کے نتیجے میں بدلتی رہتی ہیں۔ خواتین اور لڑکیوں کے لیے یہ حالات کہیں زیادہ سنگین ہیں جنہیں بیک وقت غربت اور عدم تحفظ کا سامنا ہے۔
غیریقینی سیاسی حالات
خصوصی نمائندے کا کہنا تھا کہ ہیٹی شدید انسانی بحران کا سامنا کر رہا ہے جو مسلسل تشدد کے ساتھ سیلاب، خشک سالی اور زلزلوں جیسے شدید موسمی واقعات کی وجہ سے مزید بگڑ گیا ہے۔ ملک سیاسی حوالے سے بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ 2021 میں صدر جوونیل موز کا قتل ہونے کے بعد کوئی منتخب صدر نہیں آیا۔ امید ہے کہ رواں سال کے آخر تک ہیٹی میں عام انتخابات کا انعقاد ہو جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ انہیں ہیٹی میں بدعنوانی اور عدم احتساب پر شدید تشویش ہے۔ تاہم اس وقت ملک ایک مشکل مگر امید افزا مرحلے سے گزر رہا ہے اگر اسے عدم تحفظ پر قابو پانے، بدعنوانی اور سزا سے بچ نکلنے کے رجحان سے نمٹنے اور انسانی حقوق کے تحفظ میں مدد دی جائے تو بہتری اور خوشحالی کا حصول ممکن ہے۔