لبنان: یو این چیف کی تقریباً 31 کروڑ ڈالر کی ہنگامی امدادی اپیل
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے لبنان کے دورے میں جنگ سے تباہ حال شہریوں کی مدد کے لیے 30 کروڑ 83 لاکھ ڈالر کی انسانی امداد فراہم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ جنگ نے مشرق وسطیٰ میں تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں جن میں لبنان بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔
سیکرٹری جنرل لبنان کے شہریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے آئے ہیں جہاں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان حالیہ لڑائی کے نتیجے میں آٹھ لاکھ سے زیادہ شہری اندرون ملک بے گھر ہو گئے ہیں اور خدشہ ہے کہ یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس امدادی اپیل کی کامیابی کے لیے فوری اور کثیرالمقاصد مالی تعاون ضروری ہے اور یقینی بنانا ہو گا کہ امدادی کارکن محفوظ طریقے سے ضرورت مند افراد تک پہنچ سکیں۔
انہوں نے فوری جنگ بندی کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں فریقین کو لڑائی بند کرنا ہو گی تاکہ مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو سکے اور اس کے نتیجے میں لبنان جلد از جلد ایسا ملک بن سکے جہاں اس کی علاقائی خودمختاری کا مکمل احترام کیا جائے اور طاقت کے استعمال کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہو۔ اقوام متحدہ اس مقصد کے لیے لبنانی حکومت کی مدد کے لیے تیار ہے۔
سہ ماہی امدادی منصوبہ
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ کئی برسوں تک لبنان نے جنگ اور تنازعات سے جان بچا کر آنے والے لوگوں کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے اور دنیا کو مہمان نوازی، یکجہتی اور ہمت کی حقیقی مثال دکھائی۔ اب دنیا کو اس مشکل گھڑی میں لبنان کے عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہونا چاہیے۔
اس بحران کے دوران لبنان میں غیر معمولی ہمت اور یکجہتی دیکھنے میں آئی ہے۔ بہت سے سکولوں نے بے گھر خاندانوں کو پناہ دینے کے لیے اپنے دروازے کھول دیے ہیں جبکہ طبی عملہ شدید دباؤ کے باوجود خدمات کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے اور ان کے شراکت دار ملکی حکام کے اشتراک سے فوری امدادی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں۔ ان میں گرم کھانا، پینے کا محفوظ پانی، صفائی کا سامان اور دیگر ضروری امدادی اشیا کی فراہمی شامل ہے۔ ان کوششوں سے زندگی کو تحفظ مل رہا ہے لیکن ان میں مزید بڑے پیمانے پر تعاون کی ضرورت ہے۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ امدادی اپیل میں جو وسائل طلب کیے گئے ہیں ان سے آئندہ تین ماہ کے دوران ضروری امداد کو جاری رکھنے اور اسے وسعت دینے میں مدد ملے گی۔ اس میں خوراک، صاف پانی، طبی سہولیات، تعلیم، تحفظ اور دیگر بنیادی خدمات کی فراہمی شامل ہے۔
نقل مکانی کا بحران
مشرق وسطیٰ میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والا بحران شدت اختیار کر رہا ہے جس میں اب تک سیکڑوں شہری ہلاک ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد بچوں کی بھی ہے۔ جنگ کے نتیجے میں پوری کی پوری آبادیاں بے گھر ہو گئی ہیں اور لوگوں کی زندگیاں یکسر بدل کر رہ گئی ہیں۔
لبنان میں خوراک، صاف پانی، صحت کی سہولیات، تعلیم اور دیگر بنیادی خدمات تک رسائی بری طرح متاثر ہوئی ہے جبکہ انخلا کے احکامات اب پہلے سے زیادہ وسیع علاقوں تک پھیل چکے ہیں۔
ملک میں 90 ہزار سے زیادہ لوگوں نے پناہ کے لیے شام کا رخ کیا ہے جن میں بڑی تعداد شام کے مہاجرین کی ہے۔