انسانی کہانیاں عالمی تناظر

لبنان: حاملہ خواتین سڑک کنارے زچگی پر مجبور، یو این ادارہ

موساوات آرگنائزیشن کی ایک خاتون طبی کارکن لبنان کے ایک کلینک میں اپنی ماں کے ہاتھوں ایک نوزائیدہ بچے کا معائنہ کر رہی ہے، جو تنازعہ کی وجہ سے بے گھر خاندانوں کو صحت کی دیکھ بھال فراہم کر رہی ہے۔
© Mousawat
لبنان کے ایک طبی مرکز پر ایک نوزائیدہ بچے کا معائنہ کیا جا رہا ہے۔

لبنان: حاملہ خواتین سڑک کنارے زچگی پر مجبور، یو این ادارہ

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین بڑھتی لڑائی اور فضائی حملوں کے باعث حاملہ خواتین اور تارکین وطن محنت کشوں سمیت شہریوں کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

ملک میں جنسی و تولیدی صحت کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایف پی اے) کی نمائندہ اینندیتا فیلپوز نے کہا ہے کہ تقریباً 11,600 حاملہ خواتین حالیہ کشیدگی سے متاثر ہوئی ہیں جن میں سے 4,000 کے ہاں آئندہ تین ماہ میں بچوں کی پیدائش متوقع ہے۔

Tweet URL

ان میں بہت سی خواتین بے گھر ہو گئی ہیں، بنیادی طبی سہولیات تک ان کی رسائی منقطع ہو چکی ہے اور وہ خطرناک حالات میں زچگی پر مجبور ہیں۔ بعض واقعات میں حاملہ خواتین خواتین کو سڑک کنارے بچوں کو جنم دینا پڑا ہے۔ 

'یو این ایف پی اے' کے مطابق، کشیدگی شروع ہونے کے بعد لبنان میں 55 ہسپتال اور طبی مراکز بند ہو گئے ہیں۔

28 فروری کو ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملوں اور خلیجی ممالک پر ایران کے جوابی حملوں کے بعد لبنان کی صورتحال تیزی سے بگڑ گئی ہے۔ ملک میں سرگرم ملیشیا حزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹ برسائے ہیں جس کے جواب میں اسرائیلی فوج لبنان پر حملے کر رہی ہے۔ 

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش ترکیہ کا دورہ مکمل کرنے کے بعد لبنان کے لوگوں سے اظہار یکجہتی کے لیے دارالحکومت بیروت پہنچ گئے ہیں۔ 

غیریقینی حالات

لبنان میں اقوام متحدہ کے امن مشن(یونیفیل) نے بتایا ہے کہ لبنان سے اسرائیل اور مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں پر روزانہ راکٹ، میزائل اور ڈرون حملے کیے جا رہے ہیں جبکہ اسرائیلی فوج کی جانب سے توپ خانے کی گولہ باری، فضائی حملے اور ڈرون کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ اسرائیلی فوج نے لبنان کے اندر تقریباً سات کلومیٹر تک دراندازی بھی کی ہے۔

مشن کی ترجمان کینڈس آرڈیل نے بتایا ہے کہ بدھ کی شام کشیدگی میں نمایاں شدت دیکھنے میں آئی۔ اس دوران لبنان کی طرف سے اسرائیل پر 100 سے زیادہ گولے داغے گئے اور اسرائیل کی جانب سے بھی اتنے ہی گولے فائر کیے گئے جبکہ یونیفیل کی حدود میں سات فضائی حملے بھی ہوئے۔ 

 گزشتہ روز حالات نسبتاً پرسکون رہے تاہم صورتحال انتہائی نازک ہے اور کسی بھی لمحے بدل سکتی ہے۔

تارکینِ وطن کی مشکلات

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت(آئی او ایم) نے بتایا ہے کہ تشدد کے باعث اب تک لبنان کے اندر آٹھ لاکھ 22 ہزار سے زیادہ لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔ اس صورتحال میں تارکین وطن مزدور خاص طور پر زیادہ غیر محفوظ ہیں اور ان کے پاس پناہ کی کوئی جگہ نہیں۔

لبنان میں 'آئی او ایم' کے سربراہ میتھیو لوزیانو نے بتایا ہے کہ ملک میں تقریباً دو لاکھ تارکین وطن رہتے ہیں جو روزگار کی تلاش میں آتے ہیں۔ ان لوگوں کا تعلق ایتھوپیا، سری لنکا، کینیا، سوڈان، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک سے ہے جن کی بیشتر تعداد زراعت، تعمیرات اور گھریلو ملازمتوں سے منسلک ہے لیکن موجودہ بحران نے انہیں سخت متاثر کیا ہے۔ 

اب ان میں بہت سے لوگوں کے پاس نہ تو رہنے کی جگہ ہے اور نہ ہی کوئی سہارا ہے۔ اسی لیے وہ مقامی فلاحی تنظیموں، گرجا گھروں، اپنے سفارت خانوں اور غیر سرکاری تنظیموں پر انحصار کر رہے ہیں۔

41 لاکھ افراد بے گھر

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے(یو این ایچ سی آر)کے مطابق، کشیدگی شروع ہونے کے بعد افغانستان، ایران، لبنان اور پاکستان میں مجموعی طور پر 41 لاکھ سے زیادہ لوگ اندرون ملک بے گھر ہو چکے ہیں۔

'آئی او ایم' نے ایران میں بعض تارکین وطن کو اپنے آبائی ممالک واپس جانے میں مدد فراہم کی ہے۔ ادارے کے ڈائریکٹر ڈیوڈ جان نے کہا ہے کہ مزید بہت سے لوگوں کی جانب سے مدد کے لیے درخواستیں موصول ہو رہی ہیں لیکن امدادی اداروں کے پاس وسائل کی کمی ہے۔

'یو این ایچ سی آر' کے ترجمان بابر بلوچ نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ اب تک تقریباً 11,400 ایرانی شہری پناہ کے لیے ترکیہ میں داخل ہوئے ہیں جبکہ 24,600 سے زیادہ افغان شہری ایران سے واپس افغانستان جا چکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے باعث سپلائی چین میں خلل کے باوجود ادارے نے امدادی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ ضروری امدادی سامان پہلے ہی خطے میں مختلف مقامات پر ذخیرہ کیا جا چکا ہے جن میں ازبکستان کا شہر ترمز بھی شامل ہے جو ایران کے قریب واقع ہے جبکہ دیگر ممالک میں بھی امدادی گودام تیار ہیں۔