انسانی کہانیاں عالمی تناظر

شام: مؤثر سیاسی نظام کا قیام عالمی تعاون سے ممکن، تحقیقاتی کمیشن

شام کے حلب کے دیہی علاقوں میں ایک مرمت شدہ سکول، جس کے گرد تباہ شدہ عمارتیں گھیر لی گئی ہیں۔ اس سکول کے حویلے میں اب گرافٹی سے ڈھکی ہوئی دیواروں اور روشنیوں کی کمی کے باوجود نئے ڈیسک اور بینچوں کے ساتھ کلاسوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
© UNICEF/Khalil Ashawi
شام کے علاقے حلب میں واقع ایک سکول جو خانہ جنگی میں بری طرح متاثر ہوا تھا اس کی مرمت کر کے اس دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے۔

شام: مؤثر سیاسی نظام کا قیام عالمی تعاون سے ممکن، تحقیقاتی کمیشن

امن اور سلامتی

شام میں انسانی حقوق کی صورتحال پر آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن نے کہا ہے کہ دہائیوں سے جاری انتشار کے بعد پائیدار بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ہی ملک ایسے سیاسی نظام کی طرف منتقل ہو سکتا ہے جو تمام لوگوں کے انسانی حقوق کی ضمانت دے۔

کمیشن نے ملکی حالات پر اپنی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا ہے کہ سابق حکومت اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی جانب سے برسوں تک حقوق کی پامالیوں نے عوام کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ حالات میں بہتری لانے کے لیے احتساب کو یقینی بنانا، سلامتی کے شعبے میں اصلاحات اور متاثرہ لوگوں کے ساتھ موثر رابطہ سازی ضروری ہے۔

Tweet URL

کمیشن نے شام کا دورہ کرنے کے بعد حمص، حماہ، لاذقیہ اور طرطوس سمیت ملک کے مختلف حصوں میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ اداروں اور عدالتی نظام میں جامع اصلاحات ناگزیر ہیں۔ علاوہ ازیں، مسلح گروہوں سے ہتھیار واپس لینے، انہیں تحلیل کرنے اور سابق جنگجوؤں کو معاشرے میں واپس لینے کی بھی ضرورت ہے۔

کمیشن کی رکن مونیا عمار نے کہا ہے کہ مسلح افواج اور سکیورٹی اداروں کے تمام اہلکاروں کے لیے انسانی حقوق کی تربیت انتہائی ضروری ہے۔ حالیہ دورے سے واضح ہوا کہ مسائل بہت گہرے ہیں لیکن شامی عوام کی ہمت اور ثابت قدمی بھی غیر معمولی ہے۔ وہ اپنے اداروں کو دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے مسلسل محنت کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کمیشن کو اس بات سے حوصلہ ملا ہے کہ شامی حکومت ماضی اور حال میں ہونے والی حقوق کی سنگین پامالیوں پر احتساب کو یقینی بنانے کے لیے تعمیری تعاون پر آمادہ ہے۔

بلاامتیاز احتساب کی ضرورت

تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ میں ماورائے عدالت قتل، تشدد اور بدسلوکی، حراست میں اموات، جبری گمشدگیوں، اغوا اور رہائش، زمین اور جائیداد کے حقوق کی خلاف ورزی کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ مسائل خاص طور پر ان لوگوں کو متاثر کر رہے ہیں جنہیں سابق حکومت کے حامی سمجھا جاتا ہے۔

گزشتہ مارچ میں حکومتی افواج اور ان سے وابستہ اہلکاروں نے لاذقیہ، طرطوس، حمص اور حمہ میں 1400 سے زیادہ افراد کو قتل کیا جن میں زیادہ تر سابق صدر بشار الاسد کے وفادار علاوی فرقے سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے۔

کمیشن کے مطابق ان واقعات میں لوگوں کو مذہبی وابستگی، نسل، عمر اور جنس کی بنیاد پر نشانہ بنانے کے واضح شواہد موجود ہیں۔ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون اور عالمی انسانی قوانین کی خلاف ورزی جنگی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آ سکتی ہے۔ تشدد کے اس سلسلے کو روکنے کے لیے بلا امتیاز احتساب نہایت ضروری ہے۔

ماورائے عدالت ہلاکتوں کی تحقیقات

کمیشن نے بتایا ہے کہ وہ شام کے شمال مشرقی علاقوں میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے بارے میں اطلاعات کی تحقیقات کر رہا ہے۔ یہ اطلاعات حکومت اور امریکہ کی حمایت یافتہ شامی جمہوری فورسز 'ایس ڈی ایف' کے درمیان حالیہ جھڑپوں کے بعد سامنے آئی ہیں۔

ان الزامات میں ماورائے عدالت قتل اور خاص طور پر 'ایس ڈی ایف' کے زیرحراست افراد کی ہلاکتیں، ناجائز گرفتاریاں، جنسی تشدد اور رہائش، زمین اور جائیداد کے حقوق کی خلاف ورزی شامل ہیں۔

کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ شام میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی تحقیقات کر رہا ہے جن کے نتیجے میں شہریوں کو شدید نقصان پہنچا، بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہوئے اور وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی۔