لبنان جنگ: امدادی ضروریات زیادہ جبکہ وسائل کم، یو این اعلیٰ اہلکار
لبنان میں اقوام متحدہ کے نمائندے اور امدادی رابطہ کار عمران رضا نے کہا ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین جنگ کے نتیجے میں ملک کو لڑائی، بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور انسانی امداد کی قلت جیسے غیرمتوقع مسائل کے سنگین بحران کا سامنا ہے۔
انہوں نے لبنان کی صورتحال پر یو این نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ایک ہفتے سے کچھ زیادہ عرصہ میں تقریباً سات لاکھ افراد پناہ گزینوں کے طور پر رجسٹر ہو چکے ہیں۔ تیزی سے ہونے والی یہ نقل مکانی اس بحران کی شدت اور عام شہریوں پر اس کے بڑھتے اثرات کو ظاہر کرتی ہے۔
ملک کو طویل عرصہ سے متواتر جنگوں کا سامنا ہے جن سے شہری اور خاص طور پر بچے غیر متناسب طور پر زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ حالیہ جنگ کے پہلے ہفتے میں 83 بچے ہلاک ہوئے اور مجموعی ہلاکتوں میں ان کا تناسب تقریباً 20 فیصد ہے جبکہ خواتین کی ہلاکتیں تقریباً 21 فیصد ہیں۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد لبنان میں کشیدگی کا آغاز 2 مارچ کو اس وقت ہوا جب حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ باری کے بعد اسرائیلی فوج نے سخت جوابی کارروائی کی۔ اس کے بعد فریقین کی جانب سے ایک دوسرے پر حملوں میں متواتر شدت آ رہی ہے اور لبنان کے حالات مکمل انسانی المیے کی شکل اختیار کر گئے ہیں۔
بیروت میں ہونے والی اس بات چیت کے دوران ایک موقع پر زور دار دھماکوں کے باعث گفتگو کچھ دیر کے لیے روک دی گئی تھی۔
نقل مکانی اور تعلیم کا بحران
عمران رضا نے بتایا کہ نقل مکانی نے ملک بھر میں تعلیمی نظام کو بھی متاثر کیا ہے۔ تقریباً ایک لاکھ 20 ہزار بے گھر افراد اجتماعی پناہ گاہوں میں مقیم ہیں جن میں سے بیشتر سرکاری سکولوں میں قائم کی گئی ہیں۔ کمرہ ہائے جماعت عارضی رہائشی کمروں میں تبدیل ہو گئے ہیں جس کے باعث ہزاروں بچے تعلیم سے محروم ہیں۔
بہت سے خاندانوں کا کہنا ہے کہ انہیں اسرائیلی فوج کی جانب سے جنوبی لبنان اور دارالحکومت بیروت کے مضافات سمیت کئی علاقوں سے انخلا کا انتباہ جاری ہونے کے بعد انتہائی مختصر وقت میں اپنے گھربار چھوڑنا پڑے۔ ان میں بہت سے لوگ ایسے تھے جو 2024 میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی کے دوران بے گھر ہونے کے بعد حال ہی میں اپنے علاقوں میں واپس لوٹے تھے اور زندگی کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
عمران رضا نے بتایا کہ ان کی ملاقات بنت جبیل نامی ایک ایسی خاتون سے بھی ہوئی جو اپنے دو بچوں کے ساتھ ایک پناہ گاہ میں آئی تھیں۔ ان بچوں کے جسم پر وہی لباس تھا جو انہوں نے گھر سے نکلتے وقت پہن رکھا تھا۔ خاتون نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں کمبل اور گدے مل گئے ہیں۔ لیکن انہیں اپنے بچوں کے لیے لباس اور ایک برتن کی ضرورت تھی تاکہ وہ پناہ گاہ میں اپنے اور دیگر لوگوں کے لیے کھانا بنا سکیں۔
عمران رضا کا کہنا تھا کہ تمام تر مشکلات کے باوجود خواتین اپنے خاندانوں کو سنبھالے ہوئے ہیں۔ بہت سی خواتین انخلا کو منظم کر رہی ہیں اور صدمات کا شکار ہونے والے بچوں کو مدد دے رہی ہیں۔
امدادی وسائل کی شدید قلت
انہوں نے بتایا کہ انسانی امدادی سرگرمیاں بھی روز بروز مشکل ہوتی جا رہی ہیں کیونکہ موجودہ بحران 2024 کی کشیدگی سے کہیں زیادہ وسیع ہے جبکہ ملک پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ کمزور حالت میں ہے۔ امدادی وسائل کی شدید قلت ہے اور اب کے وہ علاقائی تعاون بھی متاثر ہوا ہے جو گزشتہ بحران کے دوران موجود تھا۔
2024 کی جنگ میں سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، کویت، عمان اور بحرین سمیت خلیجی ممالک نے لبنان میں بڑے پیمانے پر امداد فراہم کی تھی لیکن اب یہ ممالک خود بھی وسیع تر علاقائی بحران سے متاثر ہیں اور پہلے کی طرح مدد فراہم نہیں دے سکتے۔
اقوام متحدہ کے ادارے دستیاب امدادی وسائل کو ازسرنو ترتیب دے کر انتہائی اہم ضروریات پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں اور اضافی امداد کے حصول کے لیے جمعہ کو روز ایک ہنگامی اپیل جاری کی جانا ہے۔ تاہم، محض انسانی امداد اس بحران کو حل نہیں کر سکتی بلکہ اس مقصد کے لیے جنگ کا خاتمہ کرنا ہو گا جو کہ سیاسی اور سفارتی عمل سے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے عالمی برادری سے فوری مدد، متاثرہ علاقوں تک امدادی رسائی اور بین الاقوامی انسانی قوانین کا احترام یقینی بنانے میں مدد دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناجائز طور سے اس جنگ کا سب سے زیادہ بوجھ شہریوں پر پڑ رہا ہے۔