مشرق وسطیٰ جنگ کا ایک ارب ڈالر روزانہ خرچہ قابل مذمت، ٹام فلیچر
امدادی امور کے لیے اقوم متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل ٹام فلیچر نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ پر روزانہ ایک ارب ڈالر کے اخراجات کو تشویشناک اور قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی امداد کی ضرورت تیزی سے بڑھ رہی ہے جبکہ امدادی وسائل خطرناک حد تک کم ہوتے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ اس صورتحال کے اثرات امدادی کوششوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ یہ انتہائی خطرناک وقت ہے اور اگر فوری طور پر مزید مدد فراہم نہ کی گئی تو لاکھوں زندگیاں خطرے میں پڑ جائیں گی۔
ٹام فلیچر نے گزشتہ سال دسمبر میں دنیا کے آٹھ کروڑ 70 لاکھ افراد کی مدد کے لیے 23 ارب ڈالر فراہم کرنے کی اپیل کی گئی تھی مگر اب تک اس میں سے ایک تہائی وسائل ہی موصول ہو سکے ہیں اور امدادی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اب بھی 14 ارب ڈالر سے زیادہ رقم درکار ہے۔
انڈر سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ اگر ایک ارب ڈالر بھی مل جائیں تو لاکھوں جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے بحرانوں کے پیش نظر انسانی امداد کے نظام کو فوری طور پر نئے حالات کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے جبکہ غزہ اور سوڈان امدادی ضروریات کے حوالے سے سر فہرست ہیں۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی
ٹام فلیچر نے یہ بات ایسے وقت کہی ہے جب ایران اور جزیرہ نما عرب کے درمیان اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز جنگ کے نتیجے میں بند ہو جانے پر تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ ان حالات سے ایسے لوگ کہیں زیادہ متاثر ہوں گے جو پہلے ہی بحرانوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
دنیا میں تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے اسی لیے انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اس سے خوراک، توانائی اور کھاد کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ اگر صورتحال میں مزید بگاڑ آیا تو تیل کی فراہمی کے دیگر راستے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس کا براہ راست اثر انسانی امداد کی فراہمی پر پڑے گا اور بالخصوص ذیلی صحارا افریقہ کے ایسے علاقوں میں مدد پہنچانا مشکل ہو جائے گا جہاں اس کی اشد ضرورت ہے۔
امدادی کارکنوں کا تحفظ
ٹام فلیچر نے کہا ہے کہ شہریوں اور شہری تنصیبات کا تحفظ عالمی برادری کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ رکن ممالک خطے میں امدادی سرگرمیوں کو تحفظ دیں کہ حالیہ دنوں سوڈان، لبنان اور جمہوریہ کانگو میں متعدد امدادی کارکنوں کی ہلاکت کے واقعات پیش آئے ہیں۔ گزشتہ سال ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں 90 فیصد تعداد شہریوں کی تھی جن میں بہت سے امدادی کارکن بھی شامل تھے۔
انہوں نے کہا ہے کہ امدادی کارروائیوں کے لیے یہ مشکل وقت ہے۔ امدادی ادارے شدید دباؤ میں ہیں، کارکن مسلسل حملوں کا سامنا کر رہے ہیں اور وسائل کی سخت کمی ہے لیکن اس کے باوجود لوگوں کی مدد کا مشن ترک نہیں کیا جائے گا۔