انسانی کہانیاں عالمی تناظر

اسرائیل اور حزب اللہ میں تازہ جھڑپوں سے لبنان میں بحرانی حالات، یو این

خواتین اور بچوں سمیت بے گھر افراد کا ایک گروہ ایک سرخ وین کے پیچھے چھت پر سامان سے بھری ہوئی چھت پر بھرا ہوا ہے، جو لبنان میں انسانی بحران کی عکاسی کرتا ہے۔
© IOM لوگ جان بچانے کے لیے بھاری تعداد میں لبنان چھوڑ رہے ہیں۔

اسرائیل اور حزب اللہ میں تازہ جھڑپوں سے لبنان میں بحرانی حالات، یو این

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا گیا ہے کہ رواں ماہ کے آغاز پر حزب اللہ کے اسرائیل میں حملوں اور اسرائیلی فوج کی جوابی کارروائیوں نے لبنان کو بھی مشرق وسطیٰ کے بحران میں کھینچ لیا ہے جہاں بمباری اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی نے 2024 کی جنگ بندی کے بعد ہونے والی پیش رفت کو نقصان پہنچایا ہے۔

اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل برائے سیاسی امور و قیام امن روزمیری ڈی کارلو نے کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل اور گولان کی پہاڑیوں کی جانب سیکڑوں راکٹ، میزائل اور ڈرون داغے گئے ہیں جو سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کی خلاف ورزی ہے۔ جواباً اسرائیلی فوج کی لبنان میں وسیع پیمانے پر کارروائیوں میں جنوبی لبنان، دارالحکومت بیروت اور وادہ بقہ میں 570 افراد ہلاک اور 1400 زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

Tweet URL

موجودہ صورتحال میں سات لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔ اسرائیل نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دیتے ہوئے شہریوں کو علاقے خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس طرح نومبر 2024 میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں بند ہونے کے بعد امن کی جانب پیش رفت اب مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے۔

انہوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ لبنان میں فوجی کارروائیاں بند کرے، اپنی افواج لبنانی سرزمین سے واپس بلائے اور ملک کی خودمختاری کا احترام کرے۔ حزب اللہ بھی اسرائیل پر حملے روک دے اور لبنانی حکومت کو ہتھیاروں پر ریاستی اختیار حاصل کرنے کی کوششوں میں تعاون مہیا کیا جائے۔

ایران جنگ کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ کی پرتشدد صورتحال اور لبنان میں بڑھتے ہوئے بحران پر غور کے لیے کونسل کا یہ ہنگامی اجلاس بحرین، ڈنمارک، یونان، لٹویا اور برطانیہ کی درخواست پر بلایا گیا تھا جس کی حمایت فرانس نے بھی کی۔

نقل مکانی کا سنگین بحران

ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) کے سربراہ ٹام فلیچر نے جنیوا سے ویڈیو لنک کے ذریعے سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ میں تشدد بڑھتا جا رہا ہے اور لبنان میں انسانی بحران تیزی سے سنگین ہو رہا ہے۔

ٹام فلیچر کا کہنا تھا کہ لبنان میں بے گھر ہونے والے لاکھوں لوگ گنجائش سے کہیں زیادہ بھری پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ بے گھر خاندانوں کو جگہ دینے کے لیے سکول بند کیے جا رہے ہیں، طبی مراکز پر بوجھ بڑھ گیا ہے اور انسانی امداد کی ضرورت میں بھی غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ناکافی رہائش اور پناہ گاہوں میں بھیڑ کے باعث بیماریوں، استحصال اور تشدد کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ ان حالات میں اقوام متحدہ اور اس کے شراکتی ادارے پناہ گزین لوگوں کو خوراک، پانی، ایندھن اور طبی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔

تین اہم ترجیحات

ٹام فلیچر نے مشرق وسطیٰ کے لیے تین اہم ترجیحات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ: 

  • شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے جن میں ہسپتال، سکول، پانی کے نظام اور امدادی سرگرمیاں بھی شامل ہیں۔ 
  • لبنان اور پورے مشرق وسطیٰ میں انسانی امداد کے لیے بین الاقوامی مالی تعاون میں نمایاں اضافہ ناگزیر ہے۔ 
  • کشیدگی کو کم کرنے، تشدد روکنے اور استحکام کے لیے نئے سفارتی اقدامات اٹھائے جانا چاہئیں۔

پناہ گزینوں کی معاونت

اقوام متحدہ میں شعبہ امن کاری کے سربراہ ژاں پیئر لاکوا نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ شدید کشیدگی کے باوجود اقوام متحدہ کا امن مشن (یونیفیل) اب بھی لبنان میں موجود ہے۔ 

اسرائیلی فوجیوں نے لبنان اور اسرائیل کی عبوری سرحد کے متوازی بلیو لائن کو کئی مرتبہ عبور کیا ہے جو سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کی خلاف ورزی ہے اور اس سے خطے میں مزید عدم استحکام کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ بگڑتی صورتحال کے باوجود اقوام متحدہ کے امن دستے جنوبی لبنان میں مقامی آبادی کی مدد کر رہے ہیں اور متاثرہ دیہات سے جان بچا کر نکلنے والے شہریوں کو محفوظ نقل و حمل میں معاونت دی جا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ امن دستوں کی سلامتی کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ رواں ماہ گھانا سے تعلق رکھنے والا ایک امن کار بلیو لائن کے قریب گولہ باری میں زخمی ہو گیا۔ سکیورٹی خدشات اور نقل و حرکت کی مشکلات کے باعث بیشر امن کار اپنے کیمپوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں جس کی وجہ سے ان کی گشت اور نگرانی کی صلاحیت بھی متاثر ہوئی ہے۔