انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سلامتی کونسل: ایران کی مذمت پر مبنی بحرین کی قرارداد منظور

افغانستان کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کا ایک جامع منظر۔
UN Photo/Eskinder Debebe سلامتی کونسل کے اجلاس کا منظر (فائل فوٹو)۔

سلامتی کونسل: ایران کی مذمت پر مبنی بحرین کی قرارداد منظور

امن اور سلامتی

خلیجی ریاست بحرین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد کا مسودہ پیش کیا تھا جس میں اس سمیت خطے کے دوسرے ممالک پر ایرانی حملوں کی مذمت اور ان کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا تھا.

جبکہ روس نے ایک الگ قرارداد کا مسودہ پیش کیا جو بقول اس کے کسی خلیجی ملک کے مفادات سے متصادم نہیں اور صورتحال کی علاقائی جہت کو ذہن میں رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔

مشرق وسطیٰ کے حالات جو اسرائیل حماس جنگ کی وجہ سے پہلے ہی خراب چلے آرہے تھے، وہ اٹھائیس فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر مشترکہ بمباری اور جواب میں ایران کی اسرائیل اور خلیجی ریاستوں پر حملوں کی وجہ سے مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔ بدھ کو ہونے والا سلامتی کونسل کا ایران پر حملوں اور اس کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی پر دوسرا اجلاس ہے۔ اس سے پہلے یکم مارچ کو بھی اس مسئلے پر سلامتی کونسل کا اجلاس ہوچکا ہے۔

آج ہونے والے اجلاس میں بحرین نے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کی ریاستوں اور اردن کی جانب سے سلامتی کونسل میں جو قرارداد پیش کی اس کے حق میں 15 میں سے 13 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ روس اور چین نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

روس کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد کے حق میں صرف 4 جبکہ مخالفت میں 2 ووٹ پڑے اور 9 ممالک نے رائے شماری میں حصہ ہی نہیں لیا۔

بحرین کی قرارداد

قرارداد میں ایران کے حملوں کی مذمت، ان کے فوری خاتمے کا مطالبہ، اور ایران کی جانب سے شہریوں اور شہری ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی مذمت، نیز اس کے حملوں اور آبنائے ہرمز پر حملوں اور خطرات کی مذمت کی گئی تھی

بحرینی قرارداد کے اہم نکات:
  • متحدہ عرب امارات، بحرین، عمان، قطر، کویت، سعودی عرب، اور اردن کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور سیاسی آزادی کے لیے سلامتی کونسل کی مضبوط حمایت کی توثیق
  • اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات، بحرین، عمان، قطر، کویت، سعودی عرب اور اردن کی سرزمینوں کے خلاف شروع کیے گئے حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے قرار دینا کہ یہ کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں
  • رہائشی علاقوں اور شہری ڈھانچہ پر حملوں اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور شہری عمارتوں کو پہنچنے والے نقصان کی مذمت اور ان ممالک اور ان کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی
  • متحدہ عرب امارات، بحرین، عمان، قطر، کویت، سعودی عرب اور اردن کے خلاف ایران کے تمام حملوں کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ
  • مطالبہ کہ ایران فوری اور غیر مشروط طور پر پڑوسی ریاستوں کے خلاف تمام اشتعال انگیزیوں اور دھمکیوں کا سلسلہ بند کرے بشمول ان ممالک میں اپنے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کی پشت پناہی
  • ایران سے بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی مکمل تعمیل کرنے کا مطالبہ بشمول بین الاقوامی انسانی قانون، خاص طور پر مسلح تنازعات کے دوران شہریوں اور شہری اشیاء کا تحفظ
  • مطالبہ کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق نقل و حمل اور تجارتی جہازوں کے ذریعے بحری حقوق اور آزادیوں کے استعمال کا احترام کیا جائے، خاص طور پر اہم سمندری راستوں کے ارد گرد رہنے والے رکن ممالک کے حقوق کا احترام
  • ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے، اس میں بین الاقوامی بحری نقل و حرکت میں خلل ڈالنے یا براہ راست مداخلت کرنے، یا آبنائے باب المندب میں سمندری سلامتی کو خطرہ میں ڈالنے والے کسی بھی اقدام یا دھمکی کی مذمت کی جائے
  • ایران سے ایسے تمام اقدامات یا دھمکی آمیز رویے سے باز رہنے کا مطالبہ جس سے بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں نقل و حرکت کی آزادی میں رکاوٹ پڑنے کا خطرہ

روسی کی قرارداد

روس نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافے کے حوالے سے سلامتی کونسل میں جو مسودہ پیش کیا اس کے اہم نکات یہ ہیں:

  • تمام فریقین اپنی فوجی سرگرمیاں فوری طور پر بند کریں اور مشرق وسطیٰ اور اس سے باہر کسی بھی قسم کی مزید کشیدگی سے باز رہیں
  • شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے تمام حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی جائے اور ان کے تحفظ کا مطالبہ کیا جائے
  •  فریقین بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کریں
  • مشرق وسطی کے خطے اور اس سے باہر کی تمام ریاستوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کی اہمیت تسلیم کی جائے
  • فریقین بلا تاخیر سیاسی و سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے مذاکرات کی طرف واپس آئیں
مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر سلامتی کونسل کے اجلاس کی کارروائی براہ راست دیکھیے