مشرق وسطیٰ: تیل کے ذخیروں پر حملوں سے زہریلی بارش انتہائی مضر صحت
مشرق وسطیٰ کی جنگ میں ایران سمیت متعدد ممالک میں تیل کے ذخیروں پر حملوں کے بعد زہریلی سیاہ بارش، بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹوں کے باعث خطے کے لوگوں کی زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) کی ترجمان روینہ شمداسانی نے جنیوا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے تہران میں تیل کے ذخائر پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد فضا میں پھیلنے والے زہریلے مادوں کے صحت و ماحولیات پر اثرات کو انتہائی تشویش ناک قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ آیا ان عسکری کارروائیوں میں بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت متناسب طاقت کے استعمال اور احتیاط کے تقاضے پورے کیے گئے تھے یا نہیں۔ جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا وہ بظاہر ایسے نظر نہیں آتے کہ انہیں صرف عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
ماحولیاتی آلودگی اور طبی مسائل
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ترجمان کرسچین لنڈمیئر نے خبردار کیا ہے کہ حملوں کے بعد تہران میں برسنے والی کالی اور تیزابی بارش شہریوں کے لیے واقعتاً خطرناک ہے۔ ادارہ ہسپتالوں اور متعلقہ حکام سے مسلسل رابطے میں ہے اور ایرانی حکام نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ تیل کے گوداموں پر حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر گھروں میں رہیں۔
'ڈبلیو ایچ او' فضا میں خارج ہونے والے زہریلے ہائیڈروکاربن، سلفر آکسائیڈز اور نائٹروجن مرکبات کی بڑی مقدار سے پیدا ہونے والے طبی خطرات کی نگرانی بھی کر رہا ہے۔
ترجمان کے مطابق، ایران کی جانب سے بحرین اور سعودی عرب میں تیل کے بنیادی ڈھانچے پر کیے گئے مبینہ حملوں نے بھی خطے میں ماحولیاتی آلودگی کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ ایسے آلودہ مادوں کے طویل مدتی اثرات سانس کی بیماریوں میں اضافہ کرتے ہیں اور پانی کو بھی ناقابل استعمال بنا دیتے ہیں۔
لبنان: بڑے پیمانے پر نقل مکانی
لبنان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں اور انخلا کے احکامات کے باعث ایک لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہو گئے ہیں جس کے بعد ان کی مجموعی تعداد تقریباً سات لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔
لبنان میں پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کی نمائندہ کیرولائنا لنڈہوم بلنگ نے بتایا ہے کہ اب کے نقل مکانی کی رفتار 2024 کی اسرائیل۔لبنان جنگ سے بھی زیادہ تیز ہے۔
لوگ سڑکوں کے کنارے گاڑیوں میں رات گزار رہے ہیں۔ پناہ گزینوں کی بڑی تعداد عجلت میں خالی ہاتھ گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب جا رہی ہے۔ بیشتر لوگ بیروت، جبل لبنان، شمالی لبنان اور وادہ بقہ کے علاقوں میں پناہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
افغان مہاجرین کے کٹھن حالات
'یو این ایچ سی آر' نے بتایا ہے کہ ایران سے بڑی تعداد میں افغان شہری اپنے ملک واپس جا رہے ہیں۔ سال کے آغاز سے اب تک تقریباً 110,000 افغان واپس جا چکے ہیں اور مشرق وسطیٰ کی جنگ شروع ہونے کے بعد روزانہ اوسطاً 1,700 افراد واپس آ رہے ہیں۔ اگرچہ ایران میں عدم تحفظ اور معاشی مشکلات افغانوں کو واپس جانے پر مجبور کر رہی ہیں لیکن اپنے ملک میں انہیں مزید غربت اور غیر یقینی حالات کا سامنا ہے۔
افغانستان کے صوبہ ہرات میں ایران کی سرحد پر واقع علاقے اسلام قلعہ میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کے نمائندے تاج الدین اوئیوالے نے بتایا ہے کہ افغانستان میں واپس آنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور گزشتہ ہفتے غذائی قلت کی جانچ اور علاج کروانے والوں کی تعداد میں دو گنا اضافہ ہو گیا ہے۔
آبنائے ہرمز کا تجارتی بحران
مشرق وسطیٰ میں جنگ کی وجہ سے عالمی تجارتی نظام میں خلل پیدا ہو رہا ہے جس سے امدادی سامان کی فراہمی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ یونیسف کے نمائندے نے بتایا ہے کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے تجارتی سامان کی خریداری اور ترسیل کے راستوں کو متاثر کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بچوں اور ان کی ماؤں کی مدد کے لیے درکار سامان تاخیر سے پہنچے گا۔
عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی)نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں جاری کشیدگی عالمی سپلائی چین کے ان دو اہم راستوں کو متاثر کر رہی ہے۔ پابندیوں اور خطرات کے باعث جہاز راں کمپنیاں اپنے راستے تبدیل کر رہی ہیں۔
جنگی خطرے کی انشورنس لازمی ہونے کے باعث ہر کنٹینر پر 2,000 سے 4,000 ڈالر تک اضافی لاگت آ رہی ہے۔ اب بہت سا سامان کیپ آف گڈ ہوپ کے گرد لمبا راستہ اختیار کر کے بھیجا جا رہا ہے۔ سوڈان میں 'ڈبلیو ایف پی' کی فراہم کردہ خوراک انڈیا سے خریدی جاتی ہے جسے عمان اور سعودی عرب کے راستے پورٹ سوڈان میں پہنچایا جاتا تھا۔ لیکن اب متبادل راستہ اختیار کرنے کے نتیجے میں ترسیل کے وقت میں تقریباً 25 دن کا اضافہ ہو گیا ہے۔