انسانی کہانیاں عالمی تناظر

مشرق وسطیٰ: لبنان میں بچوں سمیت سات لاکھ افراد بے گھری پر مجبور

بیروت ، لبنان میں ایک منظر جس میں بے گھر خاندانوں کو دکھایا گیا ہے جو سڑکوں پر رہتے ہیں۔ پیش منظر میں ، ایک آدمی ایک بینچ پر سوتا ہے ، جبکہ سبز ٹریک سوٹ اور حجاب میں ایک خاتون ایک بچے کے ساتھ اسٹرلیٹر میں ایک بچے کے ساتھ قریب ہی بیٹھی ہے۔ مختلف سامان ، بشمول ہوکا ، ان کے ارد گرد بکھرے ہوئے ہیں۔ شہر کی سڑک پر دوسرے لوگ پس منظر میں نظر آتے ہیں۔
© UNICEF/Dar al-Mussawir لبنان کے شہر بیروت میں گھر بار چھوڑنے پر مجبور ایک خاندان سڑک کنارے بیٹھا ہوا ہے۔

مشرق وسطیٰ: لبنان میں بچوں سمیت سات لاکھ افراد بے گھری پر مجبور

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث خطے میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہو رہی ہے اور خوراک و ایندھن کی قیمتیں تیزی سے بڑھنے کے نتیجے میں کمزور اور غریب طبقات کے لیے بھوک اور مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں صرف لبنان میں ہی تقریباً سات لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں جن میں دو لاکھ بچے بھی شامل ہیں۔ یہ تعداد ان ہزاروں افراد کے علاوہ ہے جنہوں نے گزشتہ جنگ کے باعث اپنے گھروں سے نقل مکانی کی تھی اور تاحال واپس نہیں آ سکے تھے۔

Tweet URL

اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ دفتر (اوچا) کے مطابق، جنگ کے پہلے آٹھ ایام کے دوران لبنان میں 294 افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ 7 مارچ کو مشرقی لبنان کے قصبے نبی شیط میں اسرائیلی فوج کی ایک کارروائی میں 41 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔

ملک کے مختلف صوبوں میں فضائی حملے شدت اختیار کر گئے ہیں جبکہ اسرائیل نے جنگ شروع ہونے کے بعد تیسری مرتبہ دریائے لیطانی کے جنوب میں تمام علاقوں کو خالی کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ اسی طرح بیروت کے جنوبی مضافات کے لیے بھی دوسری مرتبہ انخلا کا حکم دیا گیا ہے۔

شہری ہلاکتوں میں اضافہ

اسرائیلی وزارت صحت کے مطابق 28 فروری کو شروع ہونے والی اس جنگ کے بعد اسرائیل میں تقریباً دو ہزار افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ سوموار کو وسطی اسرائیل میں میزائل گرنے سے ایک شخص ہلاک ہو گیا۔

دوسری جانب، ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے حملوں میں اب تک ایران میں کم از کم 1,330 شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ بحرین کے حکام نے بتایا ہے کہ سوموار کی صبح ایران کے ڈرون حملے میں 30 سے زیادہ شہری زخمی ہوئے۔ قطر نے سعودی عرب میں دو شہریوں کی ہلاکت کی مذمت کی ہے۔

بڑھتی امدادی ضروریات

اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی امدادی رابطہ کار ٹام فلیچر نے خبردار کیا ہے کہ اس جنگ کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ افغانستان اور پاکستان جیسے ممالک پر بھی اس کے ثانوی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جہاں پہلے ہی انسانی ضروریات بہت زیادہ ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس جنگ کے باعث سوڈان، جنوبی سوڈان اور یوکرین جیسے بحرانوں سے عالمی توجہ ہٹ رہی ہے جبکہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے اداروں کو مسلسل نظرانداز کیا جانا بھی باعث تشویش ہے۔

آبنائے ہرمز کا بحران

جنگ کے باعث تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں سوموار کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں جس سے معاشی بے یقینی میں اضافہ ہوا۔

اقوام متحدہ کے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں کے باعث عالمی سپلائی چین شدید متاثر ہو رہی ہے۔ تیل کی 20 فیصد عالمی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔ 

جمعہ کو آبنائے ہرمز میں ایک جہاز پر حملے کے نتیجے میں چار ملاح ہلاک اور تین شدید زخمی ہو گئے۔ اسی دوران عمان کی بندرگاہوں پر ڈرون حملوں نے بھی وہاں جانے والے تجارتی جہازوں کے اخراجات اور انہیں لاحق خطرات میں اضافہ کر دیا ہے۔

بین الاقوامی بحری ادارے (آئی ایم او) کے مطابق، اس وقت تقریباً 20 ہزار ملاح خلیج فارس میں پھنسے ہوئے ہیں۔

خوراک کی قلت کا خدشہ

عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے خبردار کیا ہے کہ یہ جنگ مشرق وسطیٰ میں خوراک کے بحران میں اضافہ کر رہی ہے۔

ادارے کے مطابق، دنیا بھر میں استعمال ہونے والی کھاد کا بڑا حصہ آبنائے ہرمز کے راستے منتقل ہوتا ہے اور یہ راستہ بند ہونے سے کھاد کی قلت پیدا ہو سکتی ہے، فصلوں کی پیداوار میں کمی آ سکتی ہے اور عالمی سطح پر خوراک کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔

'ڈبلیو ایف پی' نے یہ بھی بتایا ہے کہ لبنان اور ایران میں جنگ سے پہلے ہی غذائی عدم تحفظ کی سطح بہت بلند تھی اور وہاں کے خاندان مزید معاشی دھچکے برداشت کرنے کی محدود صلاحیت رکھتے ہیں۔ 

غزہ کے مخدوش حالات

اسرائیل کی جانب سے غزہ میں امدادی گزرگاہوں کو بند کیے جانے کے باعث خوراک کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ گزشتہ دنوں کیریم شالوم کراسنگ دوبارہ کھول دی گئی ہے، لیکن اشیائے خورونوش کی قیمتیں اب بھی بلند ہیں۔

'ڈبلیو ایف پی' کے مطابق، اگر امداد کی ترسیل مسلسل جاری نہ رہی تو تقریباً 13 لاکھ افراد کو دی جانے والی خوراک میں تین چوتھائی کمی آ جائے گی۔

ادارے نے خبردار کیا کہ اگر انسانی امداد کے لیے محفوظ راستے فراہم نہ کیے گئے جنگ بندی کے بعد بہتری کی جانب ہونے والی نازک پیش رفت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

متبادل امدادی راستے

موجودہ صورتحال میں اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں نے امداد کی ترسیل کے لیے ترکی، مصر، اردن اور پاکستان کے راستے استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں۔ اسی طرح، متحدہ عرب امارات سے مشرقی بحیرہ روم تک زمینی راستوں کا استعمال بھی بڑھایا جا رہا ہے۔

'ڈبلیو ایف پی' نے بتایا ہے کہ دبئی میں قائم اس کا امدادی مرکز فضائی اور بحری نقل و حمل میں رکاوٹوں کے باوجود اب بھی فعال ہے۔