انسانی کہانیاں عالمی تناظر

خواتین اور لڑکیوں کے لیے دنیا کو تبدیل ہونا پڑے گا، یو این چیف

media:entermedia_image:22ecbc5b-6cc1-4730-a6d0-bf46df7b9c6f
UN Women/Uma Bista
ہر سال 8 مارچ کو منایا جانے والا یہ عالمی دن اس بات کا موقع فراہم کرتا ہے کہ خوا تین کو انصاف تک مساوی رسائی ملے۔

خواتین اور لڑکیوں کے لیے دنیا کو تبدیل ہونا پڑے گا، یو این چیف

خواتین

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ خواتین کے حقوق انسانی حقوق ہیں اور دنیا بھر کی خواتین اور لڑکیوں کے لیے انصاف کو حقیقت بنانے میں مزید تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں۔

سیکرٹری جنرل نے عالمی یوم خواتین پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ خواتین اور لڑکیاں دنیا کو تبدیل کر رہی ہیں اور اب ان کی خاطر دنیا کو تبدیل کرنے کا وقت ہے۔ یقینی بہتری لانے کے لیے کرہ ارض کی اس نصف آبادی پر سرمایہ کاری کرنا ہو گی۔

اس وقت خواتین کو مردوں کے مقابلے میں صرف 64 فیصد قانونی حقوق حاصل ہیں۔ہر سال 8 مارچ کو منایا جانے والا یہ عالمی دن اس بات کا موقع فراہم کرتا ہے کہ انہیں انصاف تک مساوی رسائی ملے۔ 

انہوں نے کہا ہے کہ آمریت کے بڑھتے ہوئے رجحان، سیاسی عدم استحکام اور پدر شاہی نظام کو مضبوط کرنے کی نئی کوششوں کے باعث خواتین کے وہ حقوق بھی خطرے میں پڑ گئے ہیں جو طویل جدوجہد کے بعد حاصل ہوئے تھے۔ ان حقوق میں کام کی جگہ پر منصفانہ تحفظ اور جنسی و تولیدی حقوق بھی شامل ہیں۔ جب تک قانون کے سامنے سبھی برابر نہیں ہوں گے اس وقت تک حقیقی مساوات کا حصول ممکن نہیں۔ 

خواتین کے خلاف قانونی امتیاز

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے اس دن کی مناسبت سے ادارے کی کونسل برائے انسانی حقوق سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین اور لڑکیوں کو متعدد مسائل کا سامنا ہے جن میں آن لائن ہراسانی، جبر کے مختلف طریقے اور جنگوں میں جنسی تشدد کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا بھی شامل ہیں۔

انہوں نے گزشتہ دنوں عراقی خواتین کے حقوق کی سرگرم کارکن یانار محمد کے قتل کی خبر پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خواتین اور لڑکیوں کو اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے پر جان کے خطرات کا سامنا ہے۔ ان کے خلاف امتیاز ان کی زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کرتا ہے، لیکن قانون میں موجود امتیاز اس کی سب سے خفیہ اور خطرناک شکل ہے۔

قیادت نسواں اور مشمولہ معاشرے

وولکر ترک نے واضح کیا کہ صنفی مساوات ایک بنیادی انسانی حق ہے اور یہی پرامن، مستحکم اور مشمولہ معاشروں کی تعمیر کا واحد راستہ ہے۔ خواتین رہنما عموماً زیادہ شمولیتی اور شراکتی انداز قیادت اپناتی ہیں جو معاشروں میں ہم آہنگی کو مضبوط بناتا ہے۔ ان کی مکمل شرکت اور قیادت سے معاشرے مزید مضبوط، کاروبار زیادہ کامیاب اور امن معاہدے زیادہ موثر ہو جاتے ہیں۔

چونکہ لڑکیوں کے خلاف امتیازی سلوک کی ابتدا ان کے بچپن ہی سے ہو جاتی ہے اس لیے انہیں کم عمری کی شادی اور جنسی اعضا کی قطع و برید جیسی رسموں سے محفوظ رکھنا اور تعلیم اور تربیت تک مساوی رسائی فراہم کرنا ضروری ہے۔ خواتین کو یہ حق ہونا چاہیے کہ وہ اپنی تعلیم کے شعبے خود منتخب کریں اور انہیں کام کرنے، معاشرے میں حصہ لینے اور قیادت کرنے کے مواقع فراہم کیے جانا چاہئیں۔

ہائی کمشنر نے زور دیا ہے کہ معاشروں کو ایسی خصوصی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو پدر شاہی سوچ اور دقیانوسی تصورات کو چیلنج کریں جبکہ مردوں اور لڑکوں میں بھی اس بات کا شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ پدر شاہی طاقت دراصل سب کے لیے نقصان دہ ہے۔