انسانی کہانیاں عالمی تناظر

لبنان: عسکری طاقت سے پائیدار فتح کا حصول ناممکن، یو این رابطہ کار

media:entermedia_image:3dd163fd-bd98-4f0b-908f-f710486f0ba1
© UNICEF/Ramzi Haidar
بیروت کے جنوبی علاقے میں بمباری کے بعد تباہی کا ایک منظر (فائل فوٹو)۔

لبنان: عسکری طاقت سے پائیدار فتح کا حصول ناممکن، یو این رابطہ کار

امن اور سلامتی

لبنان کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی رابطہ کار جینین ہینز پلاشرٹ نے کہا ہے کہ ملکی حالات بگڑتے جا رہے ہیں۔ عسکری طاقت کے ذریعے کوئی فریق پائیدار فتح حاصل نہیں کر سکتا۔ قیام امن اور لوگوں کی تکالیف میں کمی لانے کے لیے فوری طور پر جنگ بندی، ضبط و تحمل سے کام لینے اور مذاکرات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے تک لبنان کے حالات بہتر تھے۔ ملک کی مسلح افواج ریاستی اختیار کو مضبوط بنانے میں مدد دے رہی تھیں اور پارلیمانی انتخابات کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں جبکہ طویل عرصہ سے التوا کا شکار سیاسی اصلاحات پر عملدرآمد بھی شروع ہو چکا تھا۔

جنگ کے بعد تعمیر نو کے لیے عالمی بینک کا قرض بھی وصول ہونے کو تھا جبکہ لبنان اور شام کے درمیان بڑھتے تعلقات دوطرفہ تعاون کے نئے امکانات پیدا کر رہے تھے۔ اگرچہ حالات پوری طرح مثالی نہیں تھے۔ فضائی حملے جاری تھے، اندرونی سیاسی اختلافات موجود تھے اور ادارہ جاتی جمود بھی برقرار تھا۔ لیکن یہ پیش رفت سوموار کی صبح اچانک ختم ہو گئی جب ملک ایک مرتبہ پھر تشدد کا شکار ہو گیا۔

ماضی کا سبق

انہوں نے کہا ہے، ماضی کے تنازعات سے یہ سبق ملتا ہے کہ عسکری کارروائیاں عدم استحکام میں اضافہ کرتی اور انسانی مصائب کو بڑھاتی ہیں۔ جنگ بندی کے لیے بار بار کی جانے والی اپیلیں بے اثر رہی ہیں کیونکہ اشتعال انگیز بیانات اور مسلسل بمباری نے ان آوازوں کو دبا دیا ہے جبکہ شہری صرف امن سے زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔

رابطہ کار نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کی قررداد 1701 بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ طریقہ کار ہے جو دہائیوں سے لبنانی اور اسرائیلی شہریوں کو متاثر کرنے والے تشدد کے سلسلے کو ختم کر سکتا ہے۔ تاہم 2006 میں منظوری کے بعد بداعتمادی کے باعث اس پر عملدرآمد سست روی کا شکار رہا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا ہے کہ لبنان سمیت مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کے بغیر حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ لبنان اور اسرائیل کے مابین مذاکرات ہی ایسا واحد راستہ ہے جو آئندہ نسلوں کو تشدد کے اس بھیانک سلسلے کا سامنا کرنے سے بچا سکتا ہے۔