خواتین کی پارلیمانی نمائندگی میں اضافہ سست روی کا شکار، رپورٹ
رواں برس دنیا بھر کے پارلیمانی اداروں میں خواتین کی نمائندگی 27.5 فیصد تک پہنچ گئی ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں صرف 0.3 فیصد اور ایک دہائی میں سب سے سست رفتار اضافہ ہے۔
اقوام متحدہ کے تعاون سے کام کرنے والے ادارے 'بین پارلیمانی یونین' (آئی پی یو) کی نئی رپورٹ کے مطابق، پارلیمانی قیادت میں خواتین کی تعداد کم ہوئی ہے اور پارلیمانی اداروں میں نئے مقرر ہونے والے 75 سپیکر میں صرف 12 خواتین تھیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال 49 ممالک میں ہونے والے انتخابات میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے میں کوٹہ سسٹم کا نمایاں کردار تھا۔ جن پارلیمانی ایوانوں میں اس حوالے سے کوئی قانون یا کوٹہ موجود تھا وہاں خواتین کی اوسط نمائندگی 31 فیصد رہی جبکہ کوٹہ نہ ہونے کی صورت میں یہ شرح 23 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
براعظم ہائے امریکہ میں ریکارڈ نمائندگی
مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں خواتین کی پارلیمانی نمائندگی سب سے کم ہے جہاں پارلیمانی اداروں میں خواتین کے پاس اوسطاً 16.2 فیصد نشستیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، تین ممالک ایسے بھی ہیں جہاں پارلیمان کے ایوان زیریں یا واحد ایوان میں ایک بھی خاتون رکن موجود نہیں۔ ان میں عمان ، تووالو اور یمن شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، براعظم ہائے امریکہ کے پارلیمانی اداروں میں خواتین کی نمائندگی سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی جہاں خواتین ارکان کی مجموعی شرح 35.6 فیصد ہے۔
دیگر ممالک میں کرغیزستان نے سب سے زیادہ پیش رفت دکھائی جہاں خواتین ارکان پارلیمان کی تعداد میں 12.9 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے بعد غرب الہند کے ملک سینٹ ونسنٹ اینڈ گرینیڈیئنز میں 12.3 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔
تشدد اور ہراسانی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خواتین ارکان پارلیمان کو مردوں کے مقابلے میں عوامی سطح پر دھمکیوں اور ہراسانی کا سامنا بھی زیادہ کرنا پڑ رہا ہے۔
'آئی پی یو' کی ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیاسی تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات میں خواتین ارکان مردوں کے مقابلے میں زیادہ متاثر ہو رہی ہیں۔ 76 فیصد خواتین ارکان نے بتایا ہے کہ انہیں کبھی نہ کبھی تشدد یا ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ مرد ارکان میں یہ شرح 68 فیصد تھی۔
ادارے کا کہنا ہے کہ یہ بڑھتا ہوا منفی رجحان بعض خواتین کے انتخابات میں حصہ لینے سے گریز کا سبب بن سکتا ہے اور اس طرح سیاست میں خواتین کی نمائندگی بھی متاثر ہوتی ہے۔
اٹلی کی رکن پارلیمان اور 'آئی پی یو'کے یورپی وفد سے وابستہ ویلنٹینا گریپو کا کہنا ہے کہ کہ اگر خواتین سیاست دان کوئی ایسی بات کہہ دیں جو سامعین کی توقعات کے مطابق نہ ہو تو انہیں فوراً کئی طرح کے حملوں اور تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بعض ممالک نے اس مسئلے کے حل کے لیے اقدامات بھی کیے ہیں۔ کولمبیا اس کی نمایاں مثال ہے جہاں پارلیمان نے خواتین سیاست دانوں کے خلاف تشدد کو روکنے اور اس پر سزا دینے کے لیے ایک قانون کی منظوری دی ہے۔