انسانی کہانیاں عالمی تناظر

مشرق وسطیٰ کا پھیلتا بحران عالمی معیشت کے لیے خطرناک، یو این چیف

UNIFIL کی پوزیشنوں کے قریب ، بیروت ، لبنان کے شہری اسکائی لائن پر دھواں کا ایک بڑا دھواں اٹھتا ہے ، جو ایک دھماکے یا جاری تنازعہ کی نشاندہی کرتا ہے۔
UN Photo/Pasqual Gorriz
لبنان کے شہر بیروت میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔

مشرق وسطیٰ کا پھیلتا بحران عالمی معیشت کے لیے خطرناک، یو این چیف

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے حالات انتہائی سنگین صورت اختیار کر گئے ہیں جہاں جاری جنگ سے دنیا کی معیشت کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔

سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ غیرقانونی حملے پورے خطے میں شہریوں کے لیے شدید تکالیف اور تباہی کا باعث بن رہے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں ایسے لوگوں کے لیے خطرہ کہیں زیادہ ہے جو پہلے ہی نازک حالات سے دوچار ہیں۔ 

انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر امن اور بہتری کی صورت نہ نکالی گئی تو یہ حالات کسی بھی وقت سب کے قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ جنگ بند کر کے سنجیدہ سفارتی مذاکرات کی طرف پیش رفت کی جائے۔

پرخطر آبنائے ہرمز

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے بحری جہاز رانی (آئی ایم او) کے سیکرٹری جنرل آرسینیو ڈومینیگیز نے یو این نیوز کو بتایا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باعث تین ہزار بحری جہاز اور 20 ہزار ملاح خلیج فارس میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ خلیج کے داخلی راستے پر بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز اس وقت عملی طور پر بند ہو چکی ہے کیونکہ وہاں ایران اور دیگر مقامات سے حملوں کا خطرہ ہے۔

آج صبح آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز کو کھینچنے میں مدد دینے والی کشتی پر حملے میں آٹھ ملاح ہلاک ہو گئے۔ صورتحال مسلسل خراب ہوتی جا رہی ہے اور بحری جہازوں کو اس علاقے میں سفر سے گریز کرنا ہو گا۔ 

انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اس سمندری راستے کے بند ہونے سے عالمی سطح پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل یہیں سے ہوتی ہے۔ رکن ممالک کو چاہیے کہ وہ کشیدگی کو کم کرنے اور خطے میں محفوظ اور آزادانہ بحری آمد و رفت بحال کرنے کے لیے مذاکرات اور مکالمے کا راستہ اختیار کریں۔