مشرق وسطیٰ کا بحران دوسرے خطوں میں پھیلنے کا خطرہ، ٹام فلیچر
ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی رابطہ کار ٹام فلیچر نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں پھیلتا ہوا تنازع خطے سے باہر بھی سنگین انسانی نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ اہم سمندری راستوں، خصوصاً آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل متاثر ہونے سے خوراک کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، صحت کے نظام پر دباؤ آ سکتا ہے اور انسانی امداد کی ترسیل مزید مشکل ہو سکتی ہے جس کا سب سے زیادہ نقصان کمزور اور ضرورت مند لوگوں کو اٹھانا پڑے گا۔
ٹام فلیچر نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس بحران کے باعث دنیا کی توجہ اور وسائل دیگر بڑے انسانی المیوں سے ہٹ سکتے ہیں جن میں سوڈان، جمہوریہ کانگو اور یوکرین جیسے بحران شامل ہیں۔
انہوں نے بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور انسانی امداد فراہم کرنے والے کارکنوں کے تحفظ کی اپیل دہراتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ اور اس کے امدادی شراکت دار بڑھتے ہوئے تشدد کے بیچ پھنسے شہریوں کی مدد جاری رکھیں گے۔
فوری جنگ بندی کا مطالبہ
رابطہ کار کا کہنا تھا کہ اس وقت دنیا انتہائی خطرناک مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں تنازعات شدت اختیار کر رہے ہیں اور انسانی بحران ایک دوسرے سے جڑتے جا رہے ہیں۔ ایک طرف جنگوں پر بے پناہ وسائل خرچ کیے جا رہے ہیں اور دوسری جانب انسانی امداد کے بجٹ میں کٹوتیاں کی جا رہی ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری لڑائی کے نتائج ان لوگوں کے قابو سے بھی باہر ہو سکتے ہیں جنہوں نے اسے شروع کیا۔
موجودہ حالات میں انہوں نے فوری طور پر سفارت کاری اور تحمل کا راستہ اختیار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے اور فوری جنگ بندی کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق تنازعات کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ مکالمہ اور مذاکرات ہونے چاہییں اور ایسے حالات درکار ہیں جن میں بردبار اور دانشمند قیادت غالب آئے۔