یروشلم کی فلسطینی شناخت کو اسرائیلی اقدامات سے خطرہ لاحق، ماہرین
انسانی و جمہوری حقوق اور آزادیوں پر اقوام متحدہ کے غیرجانبدار خصوصی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی اقدامات کے نتیجے میں یروشلم کی فلسطینی خصوصیت کو ناقابل تلافی نقصان ہو رہا ہے اور غزہ میں جاری نسل کشی اب مقبوضہ مغربی کنارے تک پھیل رہی ہے۔
ماہرین نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل یروشلم کی آبادیاتی ساخت، اس کے مذہبی تشخص اور قانونی حیثیت کو بدلنے کے اقدامات تیز کر رہا ہے جس کے نتیجے میں اس شہر کی کثیرالثقافتی اور ہمہ گیر شناخت تباہ ہو رہی ہے جو صدیوں سے مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کے لیے مشترکہ ورثہ رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ہم آہنگی اور مشترکہ تہذیبی ورثے کی نمائندہ اس عالمی علامت کا جو نقصان ہو رہا ہے وہ ناقابل واپسی ہے۔
ماہرین نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں ماورائے عدالت قتل، بڑے پیمانے پر فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری اور جبری بے دخلی کے واقعات میں اضافے کی نشاندہی بھی کی ہے۔
عالمی برادری متوجہ ہو
ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں اور ناکہ بندیوں کے باعث شہر کو اس کے فلسطینی نواحی علاقوں سے الگ کر دیا گیا ہے جس سے مقامی آبادی اپنی سماجی، ثقافتی، معاشی اور مذہبی زندگی سے کٹ کر رہ گئی ہے اور اس کے حق خود ارادیت اور ترقی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری سے اس معاملے میں فوری اقدام اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کو غیر قانونی قرار دینے سے متعلق اپنی مشاورتی قانونی رائے بھی دے چکی ہے۔
ماہرین نے کہا ہے کہ یروشلم میں آبادی کے تنوع، اس کے ثقافتی ورثے اور لوگوں کے حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے اور اس نقصان کا ازالہ نہیں ہو سکے گا۔ لہٰذا اب خاموشی یا بے عملی غیر جانبداری نہیں بلکہ اس عمل میں شرکت کے مترادف ہو گی۔
غیر جانبدار ماہرین و اطلاع کار
غیرجانبدار ماہرین یا خصوصی اطلاع کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں جو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔