غذائی اجناس کی عالمی قیمتوں میں اضافے کا رحجان، ایف اے او
اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) نے بتایا ہے کہ عالمی سطح پر غذائی اجناس کی قیمتوں میں پانچ ماہ کی مسلسل کمی کے بعد فروری میں اضافہ ہوا جبکہ گندم، خوردنی تیل اور گوشت مہنگا ہونے سے اس کمی کے مجموعی ثمرات زائل ہو گئے۔
رواں مالی سال میں 2.943 ارب ٹن تک اناج استعمال ہونے کا امکان ہے جبکہ اس کے عالمی ذخائر 940.5 ملین ٹن تک بڑھ سکتے ہیں۔ اناج کی بین الاقوامی تجارت کا حجم 501.7 ملین ٹن تک رہنے کی توقع ہے۔
'ادارے نے بتایا ہے کہ 41 ممالک مسلح تنازعات، عدم تحفظ اور موسمی دھچکوں کے باعث غذائی امداد کے محتاج رہیں گے جن کی بڑی تعداد کا تعلق افریقہ سے ہے۔
کم آمدنی والے اور غذائی قلت کا شکار 44 ممالک میں اناج کی مجموعی پیداوار ایک فیصد کم رہے گی جبکہ اس کے استعمال میں 1.5 فیصد اضافہ متوقع ہے جس کے باعث درآمدی ضرورت بڑھ کر 55.7 ملین ٹن تک پہنچ سکتی ہیں۔
گندم کی متوقع پیداوار
'ایف اے او' کے ابتدائی اندازوں کے مطابق، رواں سال عالمی سطح پر گندم کی پیداوار تقریباً 3 فیصد کم ہو کر 810 ملین ٹن رہ سکتی ہے تاہم اب بھی یہ گزشتہ پانچ سال کی اوسط سے زیادہ ہو گی۔ قیمتوں میں کمی کے باعث یورپی یونین کے ممالک، روس اور امریکہ میں سرما کے لیے گندم کے زیرکاشت رقبے میں کمی کا امکان ہے۔
انڈیا میں حکومتی مراعات کے باعث ریکارڈ رقبے پر گندم کاشت ہوئی ہے جبکہ پاکستان اور چین میں بھی اچھی پیداوار کے امکانات ہیں۔
جنوبی نصف کرے میں ارجنٹائن اور برازیل میں مکئی کی پیداوار بڑھ سکتی ہے جس کا سبب بڑے رقبے پر کاشت اور سازگار موسم ہو گا۔ جنوبی افریقہ میں بڑے پیمانے پر کاشت کے باوجود کچھ علاقوں میں غیر معمولی موسم کے باعث پیداوار میں کمی آنے کا امکان ہے۔
فروری کے دوران عالمی منڈی میں گندم کی قیمتوں میں یورپ اور امریکہ کے کچھ حصوں میں سخت سردی کی اطلاعات اورروس و بحیرہ اسود کے خطے میں انصرامی مسائل کے باعث اضافہ ہوا۔ اناج کی قیمتوں میں بھی قدرے چڑھاؤ دیکھا گیا جبکہ چاول بھی مہنگا ہوا جس کی وجہ باسمتی اور جاپونیکا اقسام کے چاول کی بڑھتی ہوئی طلب تھی۔
قیمتوں میں اتار چڑھاؤ
گزشتہ مہینے نباتی تیل کی قیمتوں میں جون 2022 کے بعد بلند ترین اضافہ دیکھا گیا۔ پام آئل کی قیمتیں عالمی طلب اور جنوب مشرقی ایشیا میں موسمی طور پر کم پیداوار کے باعث بڑھ گئیں۔ سویا آئل کی قیمتوں میں امریکی نباتی ایندھن سے متعلق سازگار توقعات کےباعث اضافہ ہوا جبکہ کینیڈا سے ممکنہ درآمدی طلب کے باعث ریپ سیڈ آئل بھی مہنگا ہو گیا۔ اس سے برعکس، ارجنٹائن سے بڑی مقدار میں برآمدات کے باعث سن فلاور آئل کی قیمتوں میں قدرے کمی آئی۔
فروری میں بھیڑ کے گوشت کی قیمت ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔ گائے کے گوشت کی قیمتوں میں چین اور امریکہ کی مضبوط درآمدی طلب کے باعث اضافہ ہوا جبکہ سور اور مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔
دودھ سے بنی مصنوعات کی قیمتوں میں کمی آئی جس میں پنیر کی قیمتیں گرنے کا اہم کردار تھا۔ تاہم چکنائی کے بغیر اور مکمل چکنائی والے دودھ کے پاؤڈر کی قیمتیں شمالی افریقہ، مشرق قریب اور جنوب مشرقی ایشیا میں بلند طلب کے باعث بڑھ گئیں۔ مکھن کی عالمی قیمتوں میں جون 2025 کی ریکارڈ سطح کے بعد پہلی بار اضافہ ہوا۔
چینی کی قیمتوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 27.3 فیصد کمی آئی کیونکہ موجودہ سیزن میں عالمی رسد بڑھنے کی توقع ہے۔