ایران حملہ: مشرق وسطیٰ میں لگی آگ بجھانے کی فوری ضرورت، وولکر ترک
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتے بحران میں کمی لانے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مسلسل حملوں اور سخت بیانات کے تبادلے سے شہریوں کے لیے مزید تباہی کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
جنیوا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والا تنازع اب پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل چکا ہے جس سے وسیع پیمانے پر نقصان ہو رہا ہے۔
ہائی کمشنر نے جنگ کے پہلے دن ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں سکول پر مہلک حملے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جس میں اطلاعات کے مطابق 150 سے زیادہ طالبات کی ہلاکت ہوئی۔
انہوں نے کہا ہے کہ یہ تحقیقات بہت جلد ہونی چاہئیں اور یقینی بنایا جائے کہ اس کے ذمہ داروں کا احتساب ہو اور متاثرین کو انصاف اور ازالہ فراہم کیا جائے۔ تاحال اس واقعے کی مکمل تفصیلات دستیاب نہیں کیونکہ ایران میں جائے وقوعہ پر اقوام متحدہ کی موجودگی نہیں ہے اور انٹرنیٹ بند ہونے سے معلومات کے حصول میں رکاوٹ آ رہی ہے۔
جنگی قوانین کی پامالی
وولکر ترک نے مشرق وسطیٰ میں پھیلتی جنگ اور بین الاقوامی جنگی قوانین کی پامالی اور اس بارے میں 'دانستہ' پھیلائی جانے والی غلط معلومات کی بھی مذمت کی ہے۔
انہوں نے لبنان کو اس کشیدگی کا ایک بڑا مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کے جنگجوؤں کی جانب سے اسرائیل پر حملے، جواباً اسرائیل کی شدید جوابی کارروائیوں اور نقل مکانی کے احکامات کی وجہ سے حالات مزید سنگین صورت اختیار کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) کی ترجمان روینہ شمداسانی نے کہا ہے کہ لبنان میں انخلا کے حکم اور فضائی حملوں کے باعث شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
جبری نقل مکانی
اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان کے 100 سے زیادہ قصبوں اور دیہات، دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں اور وادی بقہ میں انخلا کے احکامات سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان احکامات کی وسیع نوعیت بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت جبری نقل مکانی کے زمرے میں بھی آ سکتی ہے۔
لبنان میں حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ باری جاری ہے جس میں شمالی اور وسطی علاقوں میں رہائشی مقامات کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
دفتر نے تمام فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کشیدگی کو کم کریں اور سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 اور 2024 کے جنگ بندی معاہدے کی مکمل پاسداری کو یقینی بنائیں۔