ایران حملہ: مشرق وسطیٰ اور جنوب مغربی ایشیا میں نقل مکانی کا بحران
پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے نتیجے میں بڑھتے ہوئے انسانی بحران کو بڑے پیمانے کا ہنگامی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس پر قابو پانے کے لیے علاقائی سطح پر فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔
'یو این ایچ سی آر' میں ہنگامی امور کے ڈائریکٹر آیاکی ایتو نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی عسکری کارروائی اور جواباً مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک پر ایران کے حملوں کے باعث خطے کے اندر اور جنوب مغربی ایشیا کی جانب بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہو رہی ہے۔
متاثرہ علاقوں میں تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ افراد پہلے ہی مہاجر یا اندرون ملک بے گھر ہیں اور بڑی تعداد میں لوگ حالیہ عرصہ میں مہاجرت ختم کر کے اپنے علاقوں میں واپس آئے ہیں۔ ایسے حالات میں مہاجرین کے میزبان ممالک پر دباؤ بڑھ رہا ہے جو پہلے ہی نازک حالات سے گزر رہے ہیں۔
ادارے نے کہا ہے کہ وہ بحران سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ اور امدادی اداروں سے رابطہ کرے گا اور مختلف ممالک کی حکومتوں کے تعاون سے لوگوں کو ضروری امداد پہنچائی جائے گی۔ علاوہ ازیں، یہ یقینی بنانے کی کوشش بھی کی جائے گی کہ اگر شہریوں کو تحفظ کے لیے سرحد پار جانا پڑے تو وہ محفوظ طریقے سے نقل و حرکت کر سکیں۔
بحران بگڑنے کا خدشہ
عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں تشدد کی بڑھتی ہوئی لہر خطے میں شہریوں کے لیے مزید تکالیف اور نقل مکانی کا سبب بن سکتی ہے۔
ادارے کے ترجمان محمد علی ابو نجیلہ نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ کہ مشرق وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ خاص طور پر لبنان میں ہزاروں لوگ انخلا کے احکامات اور عدم تحفظ کے باعث اپنے گھربار چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا ہے کہ کسی ایک ملک میں عدم استحکام بہت تیزی سے سرحد پار نقل مکانی کو جنم دے سکتا ہے، جس سے اس خطے پر مزید دباؤ پڑے گا جو پہلے ہی دنیا میں نقل مکانی کے ایک بہت بڑے بحران کا سامنا کر رہا ہے۔
'آئی او ایم' کی ٹیمیں ملکی حکام اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر امدادی وسائل کے حصول کی کوششیں کر رہی ہیں جبکہ ضرورتیں مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں۔
طبی نظام پر بڑھتا دباؤ
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ اس کے مشرقی بحیرہ روم کے خطے میں طبی نظام پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہیں اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے ان پر بوجھ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ادارے کے مطابق، اس خطے میں 11 کروڑ 50 لاکھ سے زیادہ افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔
خطے کو صحت کے 14 بڑے ہنگامی مسائل کا سامنا بھی ہے جن میں سے سات انتہائی سنگین نوعیت کے ہیں۔ تقریباً 8 کروڑ افراد خوراک کی کمی یا غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں جبکہ درجنوں مقامات پر مختلف بیماریاں بھی پھیل رہی ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے نتیجے کم از کم ایک ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک اور سات ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں جس سے طبی نظام پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔