انسانی کہانیاں عالمی تناظر

اہم معدنیات کے حصول کی عالمی دوڑ منصفانہ ہونی چاہیے، یو این

دھند سے بھری پہاڑی وادی میں قائم چھت والی ڈھلوانوں اور بھاری مشینری کے ساتھ کھلے گڑھے کی ایک بڑی کان کا فضائی منظر۔
© Unsplash/Omid Roshan ایران کے علاقے تبریز میں واقع تانبے کی ایک کان۔

اہم معدنیات کے حصول کی عالمی دوڑ منصفانہ ہونی چاہیے، یو این

معاشی ترقی

کمیاب دھاتیں کاربن سے پاک معیشت کی طرف منتقلی میں بنیادی کردار ادا کر رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل آج 'توانائی، اہم معدنیات اور سلامتی' کے موضوع پر اجلاس کرے گی۔ اس موقع پر یہ جاننا اہم ہے کہ اقوام متحدہ اس منتقلی کو منصفانہ اور مساوی بنانے کے لیے کون سی کوششیں کر رہا ہے۔

بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باوجود معدنی ایندھن پر مبنی عالمی معیشت سے ماحول دوست اور برقی توانائی پر مبنی معیشت کی طرف منتقلی جاری ہے۔ توانائی کے بین الاقوامی ادارے کے مطابق، 2024 میں لیتھیم (دھات) کی طلب میں تقریباً 30 فیصد اضافہ ہوا جبکہ نکل، کوبالٹ، گریفائٹ اور دیگر کمیاب معدنیات کی طلب 6 سے 8 فیصد تک بڑھ گئی تھی۔ 

یہ دھاتیں قابل تجدید توانائی پیدا کرنے میں استعمال ہوتی ہیں۔ بجلی سے چلنے والی گاڑیوں، بیٹریوں اور قابل تجدید توانائی کے تیز تر پھیلاؤ کی وجہ سے ان کی طلب میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہو رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے مختلف ادار ےاور سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش اس حوالے سے مسلسل رہنمائی فراہم کر رہے ہیں، اجلاس منعقد کر رہے ہیں اور تحقیقی رپورٹیں تیار کر رہے ہیں تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ ماحول دوست اور کم کاربن خارج کرنے والی عالمی معیشت کے فوائد زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکیں۔

منصفانہ اور پائیدار تبدیلی

اپریل 2024 میں سیکرٹری جنرل نے ماحول دوست توانائی کے حصول میں استعمال ہونے والی اہم معدنیات کے بارے میں ایک اعلیٰ سطحی پینل قائم کیا جسے یہ یقینی بنانا تھا کہ توانائی کے شعبے میں عالمگیر تبدیلی منصفانہ، پائیدار اور تمام ممالک اور ان لوگوں کے لیے فائدہ مند ہو جن کے علاقوں میں یہ معدنیات پائی جاتی ہیں۔ 

2024 کے آخر میں اس پینل نے اپنی پہلی رپورٹ جاری کی جسے سیکرٹری جنرل نے ایک ایسی عملی رہنمائی قرار دیا جو ماحول دوست توانائی کے ساتھ خوشحالی اور مساوات کو فروغ دینے میں مدد فراہم کر سکتی ہے۔ 

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ قابل تجدید توانائی کے انقلاب کو منصفانہ اور مساوی بنیاد پر کس طرح آگے بڑھایا جا سکتا ہے تاکہ پائیدار ترقی کو فروغ ملے، حقوق کا احترام ہو، ماحول محفوظ رہے اور وسائل سے مالا مال ترقی پذیر ممالک میں معاشی خوشحالی آئے۔ 

گزشتہ سال جون میں اقوام متحدہ نے اہم معدنیات کے بارے میں ایک جامع رہنمائی بھی جاری کی جس میں یہ تجویز پیش کی گئی تھی کہ ان معدنیات کی کان کنی اور استعمال اس انداز میں ہونا چاہیے جو انسانی حقوق کے تحفظ، ماحول کی حفاظت اور منصفانہ معاشی ترقی کو یقینی بنائے۔ 

رہنمائی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس پورے نظام میں انصاف اور مساوات کو یقینی بنایا جائے، جس میں صنفی مساوات، مقامی اور قدیمی مقامی لوگوں کی شمولیت ہو اور وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد منصفانہ طور سے تقسیم کیے جائیں۔

خوشحالی کا نادر موقع 

اقوام متحدہ کے تجارتی و ترقیاتی ادارے (انکٹاڈ) کے مطابق، اہم معدنیات کی بڑھتی ہوئی عالمی طلب بین الاقوامی سیاست اور صنعتی ڈھانچے کو نئی شکل دے رہی ہے اور اس عمل میں وسائل سے مالا مال ترقی پذیر ممالک کو نئی ویلیو چین میں مرکزی اہمیت مل رہی ہے۔ 

ماحول دوست توانائی کی  جانب منتقلی کو ان ممالک کے لیے ترقی کا ایک بڑا موقع قرار دیا جا رہا ہے۔ ادارے کے مطابق، اگر یہ ممالک صرف خام معدنیات برآمد کرنے کے بجائے مقامی سطح پر ان کی پراسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کریں تو کہیں زیادہ معاشی فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر جمہوریہ کانگو میں مقامی سطح پر کوبالٹ کی پراسیسنگ کے نتیجے میں برآمدات کی مالیت میں نمایاں اضافہ ہوا جو تقریباً 167 ملین ڈالر سے بڑھ کر 2022 میں تقریباً 6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔

ماحولیاتی، معاشی اور سیاسی خدشات 

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام(یونیپ) نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ معدنیات کی پیداوار میں اضافہ سنگین ماحولیاتی، سماجی، معاشی اور جغرافیائی سیاسی خطرات کو جنم دے سکتا ہے۔ علاوہ ازیں، کان کنی اور معدنیات کی پراسیسنگ کے عمل سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اضافہ ہو سکتا ہے، حیاتیاتی تنوع کو نقصان پہنچ سکتا ہے، آلودگی بڑھ سکتی ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی سامنے آ سکتی ہیں۔ 

معدنیات کی فراہمی میں کمی اور منڈی کی کڑی صورتحال قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، ارضی سیاسی کشیدگی اور حساس علاقوں میں کانیں کھولنے کے دباؤ کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔

یونیپ نے کہا ہے کہ معدنیات سے متعلق نظم و نسق کو صرف کانوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے پوری ویلیو چین تک وسعت دی جانا چاہئیے۔ اس مقصد کے لیے مضبوط بین الاقوامی تعاون، شفاف انتظام اور حکومتوں، صنعت اور مقامی لوگوں کے درمیان بہتر اشتراک عمل انتہائی ضروری ہے۔