انسانی کہانیاں عالمی تناظر

پاک افغان کشیدگی معیشت اور شعبہ ٹرانسپورٹ پر اثر انداز، یو این ادارہ

افغانستان سے واپس آنے والے افغان شہری ٹورخم بارڈر کراسنگ پوائنٹ سے گزرتے ہیں، سامان لے کر جاتے ہیں اور تھکاوٹ کی علامات ظاہر کرتے ہیں۔ بچوں اور بزرگوں سمیت خاندانوں نے افغانستان واپس جانے کے سفر کی علامت کے طور پر بھری ہوئی گاڑیوں کے ساتھ بھری بھری اور دھول بھری سڑک پر سفر کیا۔
© UNHCR/Oxygen Empire Media Production
پاک افغان کشیدگی کے باعث افغانستان میں 16,370 خاندان بے گھر ہوئے ہیں۔

پاک افغان کشیدگی معیشت اور شعبہ ٹرانسپورٹ پر اثر انداز، یو این ادارہ

امن اور سلامتی

ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ جھڑپوں کے باعث افغانستان میں بڑھتا ہوا بحران اب معیشت اور نقل و حمل کو بھی متاثر کرنے لگا ہے جبکہ امریکہ-ایران تنازع کے نتیجے میں علاقائی فضائی حدود بند ہونے سے ملک میں پروازوں کی آمدورفت بھی متاثر ہوئی ہے۔

'اوچا' نے بتایا ہے کہ کابل کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ بدستور فعال ہے۔ اقوام متحدہ کی امدادی فضائی سروس نے جلال آباد اور قندھار کے لیے اپنی معمول کی پروازیں معطل کر دی ہیں۔ دوشنبے کے لیے ہفتہ وار پرواز برقرار ہے جبکہ قندھار کے لیے پروازیں 8 مارچ سے دوبارہ شروع کی جائیں گی۔ 

ادارے نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے حالیہ دنوں افغانستان کو اشیائے ضرورت کی برآمدات روکے جانے سے قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پیدا ہو رہا ہے اور ایندھن و بنیادی غذائی اشیا کی قلت واقع ہونے کے خدشات ہیں، البتہ سرحدی گزرگاہیں آمدورفت کے لیے کھلی ہوئی ہیں۔

26 فروری سے 3 مارچ کے دوران پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار جھڑپوں سے دس صوبے متاثر ہوئے ہیں جن میں قندھار، خوست، کنڑ، لغمان، ننگرہار، نورستان، پروان، پکتیا، پکتیکا اور دارالحکومت کابل شامل ہیں۔ ان جھڑپوں کے نتیجے میں 4 مارچ تک 56 شہریوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع تھی جبکہ 129 زخمی ہوئے ہیں۔

ہزاروں خاندان بے گھر

امدادی اداروں کے مطابق، دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کے نتیجے میں 16,370 خاندان بے گھر ہوئے ہیں۔ صوبہ خوست میں ان کی تعداد 2,500، کنڑ میں 3,500، ننگر ہار میں 2,500، پکتیکا میں 470، پکتیا میں 7,000 اور نورستان میں 400 بتائی گئی ہے۔ 

گزشتہ سال 31 اگست کو ملک کے مشرقی علاقے میں آنے والے زلزلے کے بعد سے 7,000 خاندان پہلے ہی بے گھر ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی تعداد 23,370 (تقریباً 163,590 افراد) تک پہنچ گئی ہے۔

تازہ ترین نقل مکانی پہلے سے موجود مشکلات میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔ کنڑ صوبے میں 31 اگست 2025 کے زلزلے کے بعد سے عارضی بستیوں میں رہنے والے 3,640 خاندانوں (25,480 افراد) کو ایک فوجی کمپاؤنڈ کے قریب ہونے کے باعث علاقے سے نکال دیا گیا ہے یا انخلا کے احکامات دیے گئے ہیں۔ کنڑ اور ننگرہار میں زلزلے کے باعث بے گھر ہونے والے مزید 2,074 خاندان (14,520 افراد) دوبارہ نقل مکانی کے خطرے سے دوچار ہیں۔ 

امدادی عملے کی منتقلی

افغانستان میں فضائی حملوں سے شہری ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے جس میں صحت کی سہولیات اور امدادی مراکز شامل ہیں۔ خاص طور پر ننگرہار صوبے میں طورخم سرحد پر عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) کے عبوری مرکز میں واقع 20 بستروں پر مشتمل ہنگامی ہسپتال اور مہاجرین کا استقبالیہ مرکز متاثر ہوئے ہیں۔

خطرناک علاقوں سے امدادی اداروں کے عملے کو عارضی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ سپین بولدک اور تختہ پل سے عملے کو جلال آباد اور قندھار شہر بھیجا گیا ہے جبکہ بارڈر کنسورشیم فورم کے ارکان نے طورخم سے تمام عملہ جلال آباد منتقل کر دیا ہے۔

صوبہ خوست، کنڑ اور ننگرہار میں غذائی قلت کے علاج و معاونت کے آٹھ مراکز  بھی عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔