انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ایران میں 1,000 ہلاکتیں جبکہ لوگوں کی بڑی تعداد نقل مکانی پر مجبور

لبنان کے شہر بیروت کے جنوبی مضافات میں تباہ شدہ عمارتیں اور ملبے، فضائی حملوں کے بعد۔ فوٹو کریڈٹ: ©UNICEF2026 /Lebanon.
© UNICEF/Ramzi Haidar
لبنانی دارالحکومت بیروت کا جنوبی علاقہ حملوں کی زد میں ہے۔

ایران میں 1,000 ہلاکتیں جبکہ لوگوں کی بڑی تعداد نقل مکانی پر مجبور

امن اور سلامتی

ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں اور جواباً ہمسایہ ممالک میں ایران کی عسکری کارروائیوں کے باعث پورے مشرق وسطیٰ میں انسانی مشکلات بڑھ گئی ہیں اور بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے بتایا ہے کہ موجودہ حالات کے سبب خطے میں کمزور اور بے سہارا لوگوں کی حالت میں نمایاں بگاڑ آیا ہے۔ جنگ سے متاثرہ متعدد ممالک پہلے ہی تقریباً دو کروڑ 50 لاکھ مہاجرین اور پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہے ہیں۔ ان میں بہت سے لوگوں کو تحفظ کے سنگین خطرات کا سامنا اور انسانی امداد کی فوری ضرورت ہے۔ 

ادارے نے بتایا ہے کہ ایران پر حملہ شروع ہونے کے بعد دارالحکومت تہران سے اب تک ایک لاکھ سے زیادہ لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں۔ لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے مابین کشیدگی شروع ہونے کے بعد تقریباً 58 ہزار افراد اندرون ملک بے گھر ہوئے ہیں جبکہ 11 ہزار لوگوں نے شام کی جانب نقل مکانی کی ہے۔ 

'یو این ایچ سی آر' پناہ گزینوں کی جائے قیام اور سرحدوں پر انہیں ضروری امداد کی فراہمی کے اقدامات کر رہا ہے۔

جبری نقل مکانی پر تشویش

اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے اسرائیلی فوج کے اس اعلان پر تشویش ظاہر کی ہے جس میں جنوبی لبنان کے رہائشیوں کو دریائے لیطانی کے شمال میں منتقل ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ حکم تقریباً 850 مربع کلومیٹر علاقے پر لاگو ہوتا ہے جہاں لاکھوں افراد آباد ہیں۔

ترجمان نے لبنان کی حکومت کے اس فیصلے کا خیرمقدم بھی کیا ہے جس کے تحت ملک میں اسلحے پر ریاست کی مکمل اجارہ داری قائم کرنے کی کوششیں تیز کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ 

انہوں نے حزب اللہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حکومت کے فیصلے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کا احترام کرے۔ ترجمان نے اسرائیل سے بھی لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

جنوبی لبنان میں تعینات اقوام متحدہ کی امن فورس (یونیفیل) نے بلیو لائن کے قریب متعدد دیہات سے درجنوں شہریوں کو محفوظ مقامات تک منتقلی میں مدد دی ہے جن میں بچے، معمر اور معذور افراد بھی شامل ہیں۔

جنگی ضوابط کی پاسداری کا مطالبہ

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انروا) کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے کہا ہے کہ مسلح تنازع میں جنگی قوانین و ضوابط کی پابندی ضروری ہے جن کے تحت شہریوں کو تحفظ دینا لازم ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ دنیا کی خطرناک ترین جگہوں میں شامل ہو چکا ہے جہاں طبی عملے، امدادی کارکنوں، اقوام متحدہ کے اہلکاروں اور صحافیوں کو بھی عسکری کارروائیوں سے تحفظ حاصل نہیں ہے۔

شہریوں کے لیے بھی یہ دنیا کا ایک مہلک ترین خطہ بن چکا ہے۔ اس صورتحال کو معمول نہیں بننا چاہیے۔ بین الاقوامی انسانی قانون اہمیت رکھتا ہے اور اس کی پامالی کرنے والوں کا محاسبہ ضروری ہے۔ 

شعبہ طب پر جنگ کے اثرات

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں پھیلتا تنازعہ خطے بھر میں صحت کی سہولیات کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے لبنان کے حالات پر افسوس کا اظہار کیا ہے جہاں گزشتہ دنوں ایک حملے میں متعدد طبی کارکن ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایران میں اب تک تقریباً 1,000 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ لبنان میں 50، اسرائیل میں 13، اور خلیجی ممالک میں 11 ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔ ایران میں 13 طبی مراکز اور لبنان میں ایک طبی مرکز بمباری کا نشانہ بنائے گئے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت طبی سہولتوں کا تحفظ سب پر لازم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مزید طبی کارکن بھی تشدد کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ اس صورتحال سے ہر صورت گریز لازم ہے تاکہ طبی عملہ لوگوں کی صحت و زندگی کو تحفظ دینے کا کام جاری رکھ سکے۔ انہوں نے متحارب فریقین سے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنے، طبی عملے اور مراکز کو تحفظ فراہم کرنے اور جنگ کی آوازوں کے بجائے امن اور دانشمندی کی آواز کو بلند کرنے کی اپیل کی ہے۔

کشیدگی روکنے کے لیے سفارتی کوششیں

اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق میں ایران کے سفیر علی بحرینی نے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک سے ملاقات کی ہے۔ 

یہ ملاقات اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایراوانی کی ادارے کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش سے ملاقات کے بعد ہوئی ہے۔ سیکرٹری جنرل نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ تنازع جلد ختم ہو گا اور خطے میں استحکام لانے کے لیے دوبارہ مذاکرات شروع ہوں گے۔