انسانی کہانیاں عالمی تناظر

لبنان: 24 گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں کے دوران 7 بچے ہلاک 38 زخمی

ایک ماں لبنان کے ماؤنٹ لبنان کے ایک سرکاری اسکول میں اپنے چھوٹے بچے کو گلے لگاتی ہے، جو پناہ کے خواہاں بے گھر خاندانوں کے لیے یونیسف کی ہنگامی کارروائی کا حصہ ہے۔
© UNICEF/Fouad Choufany لبنان میں ایک خاتون اپنی بچی کے ساتھ ایک سکول کی عمارت میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

لبنان: 24 گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں کے دوران 7 بچے ہلاک 38 زخمی

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے بتایا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لبنان کے مختلف علاقوں پر اسرائیل کے فضائی حملوں میں سات بچے ہلاک اور 38 زخمی ہو گئے ہیں۔

ایران پر اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے بڑے پیمانے پر حملہ شروع ہونے کے بعد لبنانی ملیشیا حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے مابین لڑائی بھی تیز ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، حزب اللہ نے اسرائیلی حدود میں راکٹ برسائے ہیں جس کے جواب میں اسرائیلی فوج لبنان میں بمباری کر رہی ہے۔

Tweet URL

یونیسف نے کہا ہے کہ گزشتہ روز تقریباً 60 ہزار افراد نے بمباری سے جان بچانے کے لیے نقل مکانی کی جن میں 18 ہزار بچے بھی شامل ہیں۔

ادارہ ملک بھر میں قائم پناہ گاہوں میں مقیم بے گھر خاندانوں کے لیے طبی سہولیات، نفسیاتی معاونت اور ضروری اشیائے خور و نوش کی فراہمی سمیت ہنگامی امداد فراہم کر رہا ہے۔

شام کی جانب نقل مکانی

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے بتایا ہے کہ سوموار کو لبنان میں اسرائیلی حملوں کے باعث تقریباً 11 ہزار افراد نے سرحد پار کر کے شام کا رخ کیا جو یومیہ اوسط سے کہیں زیادہ تعداد ہے۔ ان میں زیادہ تر شامی خاندان تھے جو لبنان میں مقیم ہیں تاہم کچھ لبنانی خاندان بھی شام میں داخل ہوئے۔

ادارے کے اہلکار شام کے ساتھ سرحدی گزرگاہوں پر ان لوگوں کی مدد کے لیے موجود ہیں۔ شام میں ہنگامی امدادی سامان پہلے سے ذخیرہ کر لیا گیا ہے تاکہ نقل مکانی میں اضافہ ہو تو فوری مدد فراہم کی جا سکے۔

'یو این ایچ سی آر' کی ٹیمیں لبنان میں بڑھتی ہوئی جھڑپوں کے باعث بے گھر ہونے والے خاندانوں کو بھی ہنگامی امداد فراہم کر رہی ہیں۔ گزشتہ روز کوہ لبنان کے ایک سکول میں مقیم پناہ گزینوں کو امدادی کارکنوں نے گدے، کمبل، پانی اور حفظان صحت کا سامان فراہم کیا اور نومولود بچوں اور خواتین کے لیے خصوصی کٹس بھی فراہم کیں۔

جنوبی لبنان کے دیہات اور بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے بہت سے خاندانوں نے مسلسل فضائی حملوں سے بچنے کے لیے سرکاری سکولوں میں پناہ لے رکھی ہے۔

طبی کارکنوں کی ہلاکت 

لبنان میں شہر صور کے قریب زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرتے ہوئے تین طبی کارکن بمباری کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئے ہیں۔ 

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے اس واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ طبی کارکنوں کو ہر طرح کے حالات میں تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے۔ مشرق وسطیٰ کے کشیدگی حالات میں طبی سہولیات اور کارکنوں کی سلامتی کو لاحق خطرات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل نے متحارب فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کریں، شہریوں اور شہری تنصیبات کو تحفظ دیں اور فوری جنگ بندی عمل میں لائیں۔