پاک افغان کشیدگی: فریقین سے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کا مطالبہ
افغانستان میں اقوام متحدہ کے معاون مشن (یوناما) نے پاکستان اور افغانستان کے مابین سرحد پار جھڑپوں کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشیدگی کے باعث ملک میں گھمبیر انسانی حالات مزید بگڑ رہے ہیں۔
مشن نے متحارب فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون، بالخصوص بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کریں اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔
یوناما کے مطابق 26 فروری کی رات سے 2 مارچ تک ان جھڑپوں کے باعث افغانستان میں کم از کم 42 افراد ہلاک اور 104 زخمی ہوئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جبکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایسے شہری بھی شامل ہیں جو سرحد پار جھڑپوں کے دوران بالواسطہ گولہ باری کا نشانہ بنے۔ افغان صوبہ پکتیا، پکتیکا، ننگرہار، کنڑ اور خوست کے رہائشی علاقے اس کشیدگی سے متاثر ہوئے ہیں۔
نقل مکانی کا بحران
امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اس تنازع کے افغان عوام پر انسانی اثرات مزید سنگین ہو رہے ہیں جن میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹیں شامل ہیں۔
ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے بتایا ہے کہ کشیدگی سے متاثرہ علاقوں میں تقریباً 16,400 خاندان بے گھر ہو گئے ہیں۔ اس سے قبل اگست 2025 میں صوبہ کنڑ میں آنے والے ہولناک زلزلے کے بعد بے گھر ہونے والے سیکڑوں خاندانوں کو احتیاطی تدبیر کے طور پر علاقہ چھوڑنے اور اپنے آبائی علاقوں کو واپس جانے یا رشتہ داروں کے ہاں قیام کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔
سرحدی علاقوں میں جاری لڑائی کے باعث نقل و حرکت پر عائد پابندیوں نے امدادی اداروں اور ان کے شراکت داروں کی متاثرہ علاقوں تک ضروری امداد پہنچانے کی صلاحیت کو محدود کر دیا ہے۔ ان حالات میں پاکستان سے واپس آنے والے افغان مہاجرین خاص طور پر غیر محفوظ صورتحال سے دوچار ہیں۔
شدید غذائی قلت
دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کے نتیجے میں امدادی اور طبی سہولیات کو بھی نقصان پہنچا ہے جن میں طورخم سرحدی چوکی پر واقع ہنگامی ہسپتال اور عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) کا ایک عبوری مرکز بھی شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کے پروگرام برائے خوراک(ڈبلیو ایف پی) نے متاثرہ علاقوں میں اپنی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں جس کے باعث خوراک کی تقسیم بند ہو جانے سے تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔ لڑائی سے متاثرہ کئی صوبوں میں شدید غذائی قلت کی سطح نہایت نازک حد تک پہنچ چکی ہے۔
افغانستان کی مغربی سرحد پر ایران کی جانب سے واپس آنے والوں کی تعداد میں ممکنہ اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے جس کے سبب پہلے ہی محدود وسائل پر مزید دباؤ آنے کا اندیشہ ہے۔