انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ایران حملہ: ہر لمحہ بگڑتے حالات اور شہری سہولیات کی تباہی پر تشویش

A view of Tehran, Iran's capital city.
© Unsplash/Hosein Charbaghi ایران کا دارالحکومت تہران۔

ایران حملہ: ہر لمحہ بگڑتے حالات اور شہری سہولیات کی تباہی پر تشویش

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے مشرق وسطیٰ میں شروع ہونے والی کشیدگی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شہریوں اور شہری تنصیبات کو تحفظ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے تمام متحارب فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں اور کشیدگی کو بڑھانے سے گریز کیا جائے کیونکہ خونریزی، تباہی اور مایوسی کے خاتمے کا واحد راستہ مذاکرات کی میز پر واپسی ہے۔

Tweet URL

ہائی کمشنر کی ترجمان روینہ شمداسانی نے جنیوا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور دیگر ممالک کے لاکھوں لوگوں میں خوف، گھبراہٹ اور بے چینی کی کیفیت واضح محسوس کی جا سکتی ہے اور موجودہ صورتحال سے گریز ممکن تھا۔ حالات ہر گھنٹے بگڑ رہے ہیں اور بدترین خدشات حقیقت کا روپ دھارنے لگے ہیں۔

سکول پر حملے کی تحقیقات کا مطالبہ

ترجمان کے مطابق، ہائی کمشنر نے ایران کے جنوبی شہر میناب میں ایک پرائمری سکول پر دوران تدریس بمباری کے نتیجے میں بیسیوں کمسن طالبات کے ہلاک و زخمی ہونے کے واقعے کی فوری، غیر جانبدارانہ اور جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی نتائج منظر عام پر لائے جائیں اور متاثرین کے لیے احتساب اور ازالے کو یقینی بنایا جائے۔

ایرانی ہلال احمر کے مطابق ملک پر حملے شروع ہونے کے بعد شہری ہلاکتوں کی تعداد 787 تک پہنچ گئی ہے۔ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں خطے کے ممالک کی جانب میزائل اور ڈرون داغے ہیں جس کے نتیجے میں متعدد شہری ہلاک و زخمی ہوئے اور تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اسرائیل کے وسطی شہر بیت شمیش میں ایک راکٹ رہائشی علاقے پر گرنے سے نو افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔

لبنان میں بگڑتے حالات

ہائی کمشنر نے لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جنگ بندی کے احترام کا مطالبہ کیا ہے جہاں حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ حملے کیے گئے ہیں اور اس کے جواب میں اسرائیل نے دارالحکومت بیروت سمیت ملک کے متعدد علاقوں میں بمباری کی ہے۔ 

اطلاعات کے مطابق، اسرائیلی حملوں کے باعث جنوبی لبنان اور بیروت کے مضافات میں شہری ہلاکتیں ہوئیں، بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی دیکھنے میں آئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ایک ہی رات میں تقریباً 30 ہزار افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے جبکہ اس سے قبل 64 ہزار افراد پہلے ہی بے گھر ہو چکے تھے۔

ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق ہر حملہ اہداف میں امتیاز اور متناسب طاقت کے استعمال سے متعلق اصولوں پر مبنی ہونا چاہیے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کی جانی چاہئیں۔ شہریوں یا شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا یا اندھا دھند حملے کرنا بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے اور یہ جنگی جرائم کے مترادف ہو سکتا ہے۔

بچوں کے لیے سنگین نتائج

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے مشرق وسطیٰ میں عسکری کشیدگی پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ تنازعات میں سب سے پہلے اور سب سے زیادہ بچے متاثر ہوتے ہیں۔ 

ہفتے کو تنازع کے آغاز سے اب تک ایران، اسرائیل اور لبنان میں بچوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ لبنان میں سوموار سے اب تک سات بچے ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔

یونیسف نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل راکٹ حملے اور فضائی بمباری بچوں کو فوری خطرے سے دوچار کر رہی ہے، خاندانوں پناہ کے لیے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہیں جبکہ سکولوں اور بنیادی سہولیات تک رسائی میں خلل آ رہا ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ ہر نئی کشیدگی نقصان کے دائرے کو وسیع کر دیتی ہے۔ موجودہ حالات میں ہسپتال بھی دباؤ کا شکار ہیں یا حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ جو بچے پہلے ہی کئی ماہ غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر چکے ہیں انہیں اب مزید صدمے، خوف اور نقل مکانی کی اذیت کا سامنا ہے۔

امدادی نظام میں خلل

یونیسف نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں موجودہ حالات کے باعث ضرورت مند بچوں تک امداد پہنچانے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔ ادارہ اپنے شراکت داروں کے تعاون سے مدد کی فراہمی کے متبادل راستوں کی تلاش، رسد کے نظام کو برقرار رکھنے اور اشیائے ضرورت کی قلت سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ادارے نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کی فوری جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی لانے کی اپیل کو دہراتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آئیں بصورت دیگر وسیع علاقائی تنازع بھڑک سکتا ہے جس کے شہریوں اور علاقائی استحکام پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔

جوہری مرکز کا نقصان

جوہری توانائی کے بین الاقوامی نگران ادارے (آئی اے ای اے) نے تازہ ترین سیٹلائٹ تصاویر کی بنیاد پر تصدیق کی ہے کہ ایران کے علاقے نطنز میں جوہری ایندھن افزودہ کرنے کے زیر زمین مرکز کی داخلی عمارتوں کو کچھ نقصان پہنچا ہے۔

ادارے نے یہ بھی کہا ہے کہ اس نقصان کے نتیجے میں تابکاری کے اخراج کی توقع نہیں ہے جبکہ تنصیب کے اندر مزید کسی نقصان کی نشاندہی نہیں ہوئی۔