ایران: مشرق وسطیٰ کشیدگی سے نقل مکانی اور شہری مسائل بڑھنے کا خدشہ
اقوام متحدہ کے اداروں نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے مسلح تنازع کے شہری آبادی پر اثرات اور خطے میں نقل مکانی کا بحران بگڑنے کے خدشات بارے خبردار کیا ہے۔
پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے کہا ہے کہ اس جنگ سے متاثرہ متعدد ممالک لاکھوں پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہے ہیں جبکہ کئی جگہوں پر لوگوں کی بڑی تعداد اندرون ملک بے گھر ہے۔ ان حالات میں امریکہ اسرائیل اور ایران تنازع انسانی امداد فراہم کرنے کی صلاحیت کو مفلوج کر سکتا ہے جس کے نتیجے میں مہاجرین کی میزبان آبادیوں پر دباؤ میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔
'یو این ایچ سی آر' نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کی فوری مذاکرات، کشیدگی میں کمی لانے، انسانی حقوق کے احترام، شہریوں کے تحفظ اور بین الاقوامی قانون کی مکمل پاسداری کی اپیل کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ طاقت کے بجائے بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالنا ہی دانشمندی ہے۔
'آئی او ایم' کا انتباہ
اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) کی ڈائریکٹر جنرل ایمی پوپ نے بھی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں متحارب فریقین پر زور دیا ہے وہ ہر طرح کے حالات میں شہریوں کا تحفظ یقینی بنائیں اور عسکری کارروائیوں میں بین الاقوامی انسانی قانون کا مکمل احترام کیا جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایران اور پورے مشرق وسطیٰ سمیت دیگر علاقوں میں انسانی صورت حال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے عالمی برادری کو فوری اقدام کرنا ہو گا کیونکہ خطہ پہلے ہی بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے بحران سے دوچار ہے جو موجودہ حالات میں مزید بگڑ سکتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا ہے کہ عسکری کشیدگی میں اضافہ مزید خاندانوں کو اپنے گھروں سے بے دخل کر دے گا اور عام شہریوں کو شدید متاثر کرے گا۔ 'آئی او ایم' صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور جہاں ممکن ہو ضروری مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
محفوظ جہاز رانی کی اپیل
بین الاقوامی بحری ادارے (آئی ایم او) نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں میں کم از کم ایک ہلاکت اور کئی ملاحوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔
ادارے کے سیکرٹری جنرل آرسینیو ڈومینیگیز نے کہا ہے کہ تجارتی بحری جہازوں کے بے گناہ عملے پر کسی طرح کے حملوں کا کوئی جواز نہیں۔ یہ عملہ محض اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے اور ان لوگوں کو وسیع تر جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے اثرات سے محفوظ رکھا جانا چاہیے۔ جہازرانی کی آزادی بین الاقوامی بحری قانون کا بنیادی اصول ہے اور اس کا احترام تمام فریقوں پر بلا استثنا لازم ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ تمام جہازراں کمپنیاں غیر معمولی احتیاط سے کام لیں اور جہاں تک ممکن ہو اپنے جہازوں کو جنگ سے متاثرہ علاقوں سے دور رکھیں، گمراہ کن معلومات سے ہوشیار رہیں اور سمندری راستوں سے متعلق فیصلے کرتے وقت صرف مستند ذرائع پر انحصار کریں۔