انسانی کہانیاں عالمی تناظر

مشترکہ اقدار کا دفاع انسانی حقوق کے عالمی اتحاد سے ممکن، وولکر ترک

جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61 ویں اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک۔
UN Human Rights Council/Anastasiia Lavrenteva انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر وولکر ترک جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔

مشترکہ اقدار کا دفاع انسانی حقوق کے عالمی اتحاد سے ممکن، وولکر ترک

انسانی حقوق

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے دنیا بھر کے لوگوں کو باہم جوڑنے والی اقدار کے دفاع کی غرض سے انسانی حقوق کا عالمی اتحاد قائم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگوں کے فیصلے، ان کی آوازیں اور ووٹ ہی طے کرتے ہیں کہ مستقبل میں کیا ہو گا۔

انہوں نے سوئزرلینڈ کے شہر جنیوا میں اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کے 61ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ آئندہ ہفتوں میں اس اتحاد کی تشکیل کے لیے ایک تحریک کا آغاز کیا جائے گا جو مزید منصفانہ، پرامن اور ہمدرد دنیا کی خواہاں خاموش اکثریت کا نمائندہ ہو گا۔

Tweet URL

وولکر ترک کا کہنا تھا کہ موجودہ دنیا میں تنازعات کے حل کے لیے طاقت کی دھمکی اور استعمال معمول بنتا جا رہا ہے جبکہ 2010 کے بعد مسلح تنازعات کی تعداد تقریباً دوگنا بڑھ کر 60 تک پہنچ چکی ہے۔ بدقسمتی سے سیاسی رہنما ایسے رجحانات کو پلٹنے کے لیے فوری اقدامات نہیں کر رہے۔ بعض رہنما ان اداروں پر بھی حملہ آور ہیں جو لوگوں کی حفاظت کے لیے بنائے گئے تھے اور جن میں اقوام متحدہ، بین الاقوامی عدالت انصاف، بین الاقوامی فوجداری عدالت اور انسانی حقوق کونسل بھی شامل ہیں۔

مظالم سے چشم پوشی

ہائی کمشنر نے دنیا بھر میں بین الاقوامی قوانین کو کھلے عام پامال کیے جانے کی نشاندہی کرتے ہوئے کئی مثالیں پیش کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سوڈان میں رہائشی علاقوں اور امدادی قافلوں کو نشانہ بنانے کے لیے جدید ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں جس سے بھوکے بچوں تک امداد کی رسائی ختم ہو رہی ہے۔

اسرائیل مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بین الاقوامی قانون اور فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے غیرقانونی الحاق کے منصوبوں پر عمل کر رہا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ مظالم سے چشم پوشی مزید خونریزی کو جنم دیتی ہے۔ رکن ممالک پر لازم ہے کہ وہ انسانی حقوق کی آفاقیت کا احترام کریں اور متصادم بیانیوں اور تاریخی وابستگیوں کی دلدل میں نہ پھنسیں۔

یمن، شام اور لبنان

ہائی کمشنر نے یمن کی طویل خانہ جنگی کا ذکر بھی کیا جس نے ریاستی اداروں کو تباہ کرنے کے ساتھ بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ انہوں نے ملک کے بڑے حصے پر قابض حوثیوں کی جانب سے حراست میں لیے گئے اقوام متحدہ کے درجنوں اہلکاروں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ شام میں انسانی حقوق کی صورتحال بدستور نازک ہے جہاں شہری وسیع پیمانے پر مصائب اور بے گھری کا شکار ہیں۔ ان حالات میں انصاف اور احتساب کا حصول نہایت اہم ہے۔ حکومت اور شامی جمہوری فورسز کے درمیان سیاسی معاہدے پر شفاف اور مکمل عملدرآمد ہونا چاہیے۔

لبنان کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ نومبر 2024 میں اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین جنگ بندی کے بعد اب تک ملک میں 137 افراد اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

چار ضروری اقدامات 

ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ جنگوں کا خاتمہ کرنے اور ان میں حقوق کی پامالی کو روکنے درج ذیل اقدامات ناگزیر ہیں:

  • ایسے حالات میں اسلحے کی فروخت یا منتقلی پر پابندی جہاں اس کے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی میں استعمال کا خدشہ ہو۔
  • نفرت انگیز اور انسانیت سوز زبان کے استعمال کی روک تھام۔
  • قابلِ بھروسہ تحقیقات اور قانونی کارروائی کے ذریعے حقوق کی پامالیوں پر محاسبہ۔ 
  • انسانی حقوق کے میدان میں اعتماد سازی کے اقدامات تاکہ مکالمے اور قیام امن کے لیے سازگار سیاسی ماحول پیدا ہو سکے۔

ایران کے کشیدہ حالات 

وولکر ترک نے ایران کی صورتحال کو انتہائی کشیدہ قرار دیا جہاں جنوری میں حکام کی جانب سے عوامی مظاہروں پر خونریز کریک ڈاؤن میں ہزاروں افراد کی ہلاکت کے بعد تناؤ برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں یونیورسٹیوں میں احتجاج کی نئی لہر دیکھی گئی ہے جو بنیادی شکایات کے برقرار رہنے کی علامت ہے۔

انہوں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ دو نوعمر افراد سمیت کم از کم آٹھ لوگوں کو احتجاج سے متعلق مقدمات میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔

ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ خطے میں ممکنہ فوجی کشیدگی اور اس کے شہریوں پر اثرات تشویشناک ہیں اور  امید ہے کہ اس معاملے میں عقل و دانش غالب آئے گی۔ 

نفاذ قانون اور عسکریت 

ہائی کمشنر نے خبردار کیا کہ متعدد ممالک قانون نافذ کرنے کے عمل کو عسکری رنگ دے رہے ہیں۔ انہوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں امیگریشن حکام اور دیگر اداروں نے تارکینِ وطن اور پرامن مظاہرین کے خلاف بڑے پیمانے کی کارروائیوں میں ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کی اور کئی افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

وولکر ترک نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ افریقی خطے ساہل میں پرتشدد انتہاپسندی کے خلاف اقدامات کی آڑ میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں کو ناجائز طور پر گرفتار کیا جا رہا ہے، آزاد میڈیا پر پابندیاں لگائی جا رہی ہیں اور سیاسی جماعتوں کو تحلیل کیا جا رہا ہے۔ 

شہری آزادیوں پر قدغن 

ہائی کمشنر نے کہا کہ دنیا بھر میں حکومتیں شہری آزادیوں پر کڑی رکاوٹیں عائد کر رہی ہیں۔ بیلارس، مصر، انڈیا، روس، تیونس، ترکی اور دیگر ممالک کے حکام انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت سول سوسائٹی کے کارکنوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

انہوں نے چین کے حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ قومی سلامتی سے متعلق مبہم فوجداری اور انتظامی دفعات کا استعمال کر کے بنیادی حقوق کے پرامن استعمال پر جبر بند کریں اور ناجائز طور پر زیرحراست تمام افراد کو رہا کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں ذرائع ابلاغ کے آزاد اداروں پر حملے تشویشناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔ گزشتہ ساڑھے تین برس میں 310 صحافی قتل کیے گئے اور ایسے واقعات کے 85 فیصد مجرموں کو سزا نہیں ملی۔

ہائی کمشنر نے اقلیتوں پر جاری حملوں کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ بعض ممالک امتیاز کے خاتمے سے متعلق اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ مہاجرین اور پناہ گزینوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر میں اضافہ ہو گیا ہے جو انتہائی تشویشناک رجحان ہے۔

خواتین اور لڑکیوں کے لیے خطرات 

وولکر ترک نے کونسل سے خطاب کرتے ہوئے دنیا بھر میں خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کو لاحق بڑھتے ہوئے خطرات سے بھی خبردار کیا۔

ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ فرانس میں پیلیکو کیس اور امریکہ ایپسٹین فائلز کیس اس حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں کہ خواتین اور لڑکیوں کا کس حد تک استحصال کیا جاتا ہے۔ یہ سمجھنا غلط ہو گا کہ ڈومینیک پیلیکو اور جیفری ایپسٹین اپنی نوعیت کے واحد کردار ہیں۔