انسانی کہانیاں عالمی تناظر

کچرا سمگلنگ ماحول اور صحت عامہ کے لیے خطرہ، رپورٹ

کمپیوٹر، مانیٹر اور ٹی وی سمیت الیکٹرانک آلات کا ایک ڈھیر، جو الیکٹرانک فضلہ کے مسئلے اور مناسب ضائع کرنے اور ری سائیکلنگ کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔
© Unsplash/John Cameron ہر سال دنیا بھر میں لاکھوں برقی اور الیکٹرانک آلات کو پھینک دیا جاتا ہے۔

کچرا سمگلنگ ماحول اور صحت عامہ کے لیے خطرہ، رپورٹ

جرائم کی روک تھام اور قانون

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد منشیات و جرائم(یو این او ڈی سی) نے بتایا ہے کچرے کی سمگلنگ دنیا بھر میں معیشت، عوامی صحت اور ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔ قوانین اور ضوابط کے غیر مربوط نظام کی وجہ سے اس جرم کے ذمہ دار احتساب سے بچ نکلتے ہیں۔

'یو این او ڈی سی' کی جانب سے 'کچرے سے متعلق جرائم اور اس کی غیرقانونی خریدوفروخت' کے عنوان سے شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ منظم جرائم پیشہ گروہ دنیا بھر میں کچرے کی غیرقانونی خریدوفروخت میں ملوث ہیں۔ اس میں کچرے سے متعلق مقامی سطح کی غیر قانونی سرگرمیوں سے لے کر اس کی بین البراعظمی سمگلنگ تک بہت سے جرائم شامل ہیں۔

Tweet URL

کاروباری ادارے بھی ان جرائم کا حصہ ہیں۔ بعض کمپنیاں ضوابط کی پابندی نہیں کرتیں، کچھ دانستہ طور پر غیر قانونی خدمات حاصل کرتی ہیں اور کچھ بیک وقت قانونی اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

'یو این او ڈی سی' میں پالیسی تجزیہ اور عوامی امور کی ڈائریکٹر کینڈیس ویلش نے کہا ہے کہ کچرے کی سمگلنگ کا سراغ لگانا، اس کی تحقیقات کرنا اور مجرموں کو سزا دلانا اب بھی انتہائی مشکل ہے۔ اس مسئلے کے باعث پینے کے پانی، سمندروں اور مٹی میں زہریلی آلودگی پھیلتی ہے۔ اس پر قابو پانے کے لیے کچرے کی تجارت کے راستوں سے متعلق بہتر معلومات اور مربوط قوانین و سزائیں ناگزیر ہیں۔

اربوں ڈالر کی غیرقانونی تجارت

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پانچ اقسام کے کچرے کی سمگلنگ عام ہے جس میں برقی و الیکٹرانک کچرا (ای ویسٹ)، پلاسٹک کچرا، ناکارہ گاڑیاں، ان کے انجن اور دھاتی اجزا پر مشتمل کچرا اور مختلف اقسام کا ملا جلا کچرا شامل ہے۔ قانونی خامیاں، نفاذ قانون کی محدود صلاحیت، کچرے کی نقل و حرکت کا سراغ لگانے میں مشکلات اور بیشتر واقعات میں مجرموں کو سزائیں نہ ہونے کے باعث یہ غیر قانونی تجارت فروغ پا رہی ہے جس کی مالیت بعض اندازوں کے مطابق اربوں ڈالر ہے۔

جرائم پیشہ گروہ اور بعض کاروباری ادارے بدعنوانی کا سہارا لے کر غیر قانونی کچرے کو قانونی کچرے کی ترسیل میں چھپا دیتے ہیں اور جعلی دستاویزات یا دھوکہ دہی کے دیگر ہتھکنڈوں سے نگرانی کے نظام کو چکمہ دیتے ہیں۔ ایسے طریقہ کار میں دستاویزی جعلسازی، بھتہ خوری، چوری، سرکاری وسائل میں خوردبرد، اختیارات کا ناجائز استعمال، منی لانڈرنگ و دیگر شامل ہیں۔ 

سخت سزاؤں کی ضرورت

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کچرے کی سمگلنگ پر سزائیں عموماً کم ہوتی ہیں جس سے اس جرم کی روک تھام میں مدد نہیں ملتی۔ ای ویسٹ کی ایک ہی غیر قانونی کھیپ سے جس قدر منافع حاصل ہوتا ہے اس کے مقابلے میں سزا بہت کم ہوتی ہے۔ 

اسی طرح، غیر قانونی طور پر کچرا ٹھکانے لگانے یا اس کی تجارت پر اٹھنے والی لاگت کچرے کو قانونی طریقے سے تلف کرنے یا اس کے لیے انتظامی خدمات حاصل کرنے کے مقابلے میں کہیں کم ہے جو اس جرم کے لیے مضبوط مالی ترغیب دیتی ہے۔ لہٰذا اس جرم پر قابو پانے کے لیے مزید سخت سزاؤں کی ضرورت ہے۔

دنیا بھر میں جرائم پر سزاؤں کے غیر یکساں نظام کی وجہ سے سمگلر اپنی کارروائیوں کے لیے ایسے ممالک کا انتخاب کرتے ہیں جہاں قوانین کمزور اور سزائیں کم ہوں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کچرے کی بین الاقوامی سمگلنگ میں عموماً کم قیمت اور زیادہ مشکل اور مہنگے طریقے سے ٹھکانے لگائے جانے والے کچرے کو اعلیٰ آمدنی والے ممالک سے کم آمدنی والے ممالک کی طرف بھیجا جاتا ہے۔ ان میں پلاسٹک اور ای ویسٹ شامل ہیں جن میں خطرناک کیمیائی مادے موجود ہو سکتے ہیں۔

چونکہ یہ کچرا عموماً ایسے ممالک کو بھیجا جاتا ہے جہاں اسے ماحول دوست انداز میں ٹھکانے لگانے کا نظام کمزور ہوتا ہے، اسی لیے یہ عوامی صحت اور ماحولیات کے لیے شدید نقصان کا باعث بنتا ہے۔