انڈیا سے ’ماورائے عدالت ہلاکتوں‘ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ
انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے ماہرین نے انڈیاکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے مبینہ طور پر ماورائے عدالت ہلاکتوں، دوران حراست تشدد سے اموات اور ہزاروں افراد کے زخمی ہونے کے سنگین الزامات کی فوری اور غیرجانبدرانہ تحقیقات کرے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انہیں موصول ہونے والی قابل بھروسہ معلومات کے مطابق، انڈیا میں پولیس کی جانب سے طاقت کے حد سے زیادہ اور مہلک استعمال کا ایک وسیع اور منظم رجحان پایا جاتا ہے۔ بالخصوص اترپردیش اور آسام میں ریکارڈ ہونے والے ایسے واقعات کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ان میں 'پولیس مقابلے' اور 'آدھے پولیس مقابلے' جیسے واقعات شامل ہیں جن سے مسلمان، دلت اور آدیواسی جیسے پسماندہ طبقات غیر متناسب طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔
ماہرین نے کہا ہے کہ یہ الزامات ظاہر کرتے ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے لوگوں پر تشدد وقتی یا انفرادی عمل نہیں بلکہ ایک منظم مسئلہ ہے۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ زندگی کے حق، تشدد سے تحفظ اور عدم امتیاز کے حق کی سنگین خلاف ورزی ہو گی۔
یہ کارروائیاں جائز انداز میں نفاذ قانون اور منصفانہ عدالتی عمل کی جگہ فوری اقدامات اور تشدد کو فروغ دے رہی ہیں۔ ایسے ہر واقعے کی بین الاقوامی معیارات کے مطابق فوری، آزادانہ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔
تحفظ اور احتساب کا ناقص نظام
ماہرین نے پولیس اور عدالتی حراست میں تشدد اور ناروا سلوک کی مسلسل اطلاعات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے جن میں ملزموں کے ساتھ مارپیٹ، انہیں برقی جھٹکے دینا، جنسی تشدد، نفسیاتی تذلیل اور طبی سہولتوں سے محرومی شامل ہیں۔ جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی موجودگی اور ناکافی سہولیات نے صورت حال کو مزید خراب کیا ہے۔
ماہرین نے کہا ہے کہ قانونی تحفظ اور احتساب کے نظام میں نمایاں خلا اس درجے کے تشدد کو ممکن بناتے ہیں۔ انڈیا نے تاحال تشدد کے خلاف کنونشن کی توثیق نہیں کی اور نہ ہی ملکی قانون میں تشدد کو واضح طور پر جرم قرار دیا گیا ہے۔
حالیہ قانون سازی سے پولیس اختیارات میں اضافہ ہوا ہے جبکہ بدسلوکی کے خلاف تحفظ کمزور پڑ گئے ہیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے پولیس تھانوں میں سی سی ٹی وی کی تنصیب اور پولیس مقابلوں کی تحقیقات سے متعلق ہدایات سمیت موجودہ ضوابط پر بھی عموماً عمل نہیں کیا جاتا۔
پولیس میں اصلاحات کی ضرورت
ماہرین نے کہا ہے، رکن ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ گرفتاری اور قید کے دوران تمام افراد کے حق زندگی اور جسمانی تحفظ کو یقینی بنائیں، ملکی قانون میں تشدد کو جرم قرار دیں، شکایات کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کریں، تشدد کے ذریعے حاصل شدہ مجرمانہ شواہد کو مسترد کریں اور متاثرین کو موثر قانونی چارہ جوئی اور بحالی کی سہولت فراہم کریں۔
انہوں نے ایسی اطلاعات کی مذمت کی ہے جن کے مطابق انصاف کے حصول کی کوشش کرنے والے متاثرین، ان کے اہل خانہ، وکلا، طبی عملے اور سول سوسائٹی کے کارکنوں کو ہراساں کیا جاتا یا انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پولیس کے نظام کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کے مطابق جدید بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت ہے۔ نفاذ قانون کو طاقت اور تشدد کے کلچر سے ہٹ کر عوامی خدمت اور انسانی حقوق کے احترام پر استوار کرنا ہو گا۔
ماہرین نے اس معاملے پر انڈیا کے حکام کو تکنیکی مشاورت فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے اور صورت حال کی نگرانی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
غیر جانبدار ماہرین و اطلاع کار
غیرجانبدار ماہرین یا خصوصی اطلاع کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں جو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔