انسانی کہانیاں عالمی تناظر

یونان: تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے 30 افراد ہلاک یا لاپتہ

بحیرہ روم میں اوقیانوس وائکنگ کی بچاؤ کارروائی کے دوران ایک بھری ہوئی ربڑ کی کشتی پر تارکین وطن اور پناہ گزینوں کے سائے ہاتھ اٹھائے ہوئے ہیں۔
© SOS Méditerranée/Fabian Mondi رواں سال ہی بحیرہ روم میں مہاجرت کے راستے پر کم از کم 606 تارکین وطن ہلاک یا لاپتہ ہو چکے ہیں۔

یونان: تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے 30 افراد ہلاک یا لاپتہ

مہاجرین اور پناہ گزین

لیبیا سے یونان جانے والی کشتی بحیرہ روم میں ڈوب جانے سے 30 تارکین وطن کے ہلاک یا لاپتہ ہونے کا خدشہ ہے۔ عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) نے بتایا ہے کہ اس حادثے میں 20 افراد کی جان بچا لی گئی ہے۔

یہ کشتی 19 فروری کو لیبیا کے شہر طبروق سے روانہ ہوئی تھی جو جزیرہ کریٹ کے جنوب میں تقریباً 20 بحری میل کے فاصلے پر الٹ گئی۔ حادثے میں زندہ بچ جانے والوں میں 16 مرد اور چار کمسن بچے شامل ہیں جبکہ امدادی کارکنوں نے تین مردوں اور ایک خاتون کی لاشیں نکال لی ہیں۔

'آئی او ایم' نے بتایا ہے کہ رواں سال ہی بحیرہ روم میں مہاجرت کے راستے پر کم از کم 606 تارکین وطن ہلاک یا لاپتہ ہو چکے ہیں۔ ایسے واقعات کا ریکارڈ مرتب کرنے کا سلسلہ 2014 میں شروع ہوا تھا جس کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب کسی سال کے آغاز پر اس قدر بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ 

تارکین وطن کا استحصال 

ادارے نے اس افسوسناک واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وسطی بحیرہ روم میں تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں کو مزید موثر بنانے، لوگوں کو محفوظ انداز میں ساحل پر لانے اور علاقائی تعاون کو مضبوط کرنے پر زور دیا ہے تاکہ سمندر میں تارکین وطن کی ہلاکتوں کو روکا جا سکے۔

'آئی او ایم' نے خبردار کیا ہے کہ انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورک وسطی بحیرہ روم کے راستے پر تارکینِ وطن کا استحصال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ خستہ حال اور غیر محفوظ کشتیوں کے ذریعے لوگوں کو خطرناک سفر پر بھیج کر منافع کماتے ہیں جنہیں بدسلوکی اور تحفظ کے سنگین خطرات کا سامنا رہتا ہے۔

ان گروہوں کا موثر تدارک کرنے اور انسانی جانوں کو تحفظ دینے کے لیے مضبوط بین الاقوامی تعاون، تحفظ پر مبنی حکمت عملی، اور ہجرت کے راستوں کو محفوظ اور باقاعدہ بنانا اور ان میں اضافہ کرنا ہو گا۔