پاکستان: سردی ہو یا گرمی خواتین ہیلتھ ورکر پولیو کے خلاف پرعزم
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں پرعزم پولیو کارکن رابعہ اور ان کے ساتھیوں کو اپنے مقصد کی تکمیل کے لیے کبھی پہاڑوں کو عبور کرنا پڑتا ہے تو کبھی برف میں گھنٹوں سفر طے کر کے بچوں تک پہنچنا ہوتا ہے لیکن ان کے عزم میں کبھی کمی نہیں آئی۔
رابعہ صف اول میں کام کرنے والے ان چار لاکھ پولیو کارکنوں میں سے ایک ہیں جنہیں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے پاکستان کے انسداد پولیو پروگرام کے اشتراک سے تربیت دی ہے۔ ان کارکنوں نے رواں سال 2 تا 8 فروری پہلی انسداد پولیو مہم میں گھر گھر جا کر بچوں کو ویکسین دی۔ ان کا ہدف 4 کروڑ 50 لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر اس موذی مرض سے محفوظ بنانا ہے۔
گزشتہ تین دہائیوں میں لاکھوں پولیو کارکنوں کی انتھک محنت اور حکومت پاکستان و شراکت داروں کے پختہ عزم کی بدولت پاکستان میں اس بیماری کے کیس 99.8 فیصد تک کم ہو گئے ہیں۔ 1990 کی دہائی کے اوائل میں ان کی تعداد 20 ہزار تھی جبکہ گزشتہ سال اس مرض نے 31 بچوں کو متاثر کیا۔
طبی ماہرین کا اتفاق ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر سے پولیو کا مکمل خاتمہ ممکن ہے تاہم اس کے لیے تمام شراکت داروں کو اپنی کوششیں بڑھانا ہوں گی۔ اس ضمن میں خاص طور پر پاکستان اور افغانستان میں کام کرنے کی ضرورت ہے جہاں یہ بیماری اب بھی موجود ہے۔
'ڈبلیو ایچ او' سے منظور شدہ پولیو ویکسین محفوظ اور موثر ہے جسے 195 ممالک اور علاقوں میں استعمال کیا جا چکا ہے جہاں اس نے لاکھوں بچوں کو اس بیماری سے بچایا جس کا کوئی علاج موجود نہیں اور جو عمر بھر کی معذوری یا موت کا سبب بن سکتی ہے۔
جسمانی معذوری سے تحفظ
پاکستان میں حالیہ پولیو مہم کے دوران رابعہ نے دور دراز اور دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں جا کر 146 گھروں کا دورہ کیا اور 85 بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے۔
مومنہ خیبرپختونخوا میں ضلع چترال کے علاقے بونی میں دو رکنی پولیو ٹیم کا حصہ ہیں۔ وہ خدا کا شکر ادا کرتی ہیں کہ انہیں خدمت کا یہ موقع ملا اور وہ اپنے ملک سے پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں شریک ہیں۔
تقریباً 400 کلومیٹر دور راولپنڈی کے علاقے خیابان سرسید میں زینت یہی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ انہوں نے گھنٹوں پیدل چل کر تنگ گلیوں سے گزرتے ہوئے اور عمارتوں کی کئی منزلیں چڑھ کر 242 گھروں کا دورہ کیا اور ہر بچے کو منہ کے ذریعے دی جانے والی پولیو ویکسین کے دو قطرے پلائے۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ خود بھی ایک ماں ہیں اور انہوں نے اپنے بچوں کو بھی پولیو سے بچاؤ کی ویکسین لگوائی ہے جو صحت مند اور محفوظ ہیں۔ اس بیماری کا کوئی علاج نہیں ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ تمام والدین اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں تاکہ وہ عمر بھر کی معذوری سے بچ سکیں۔
سائنسی بنیاد پر ویکسین مہم
پولیو کے خاتمے کی عالمی مہم (جی پی ای آئی) کے بانی شراکت دار کی حیثیت سے 'ڈبلیو ایچ او' پاکستان میں انسداد پولیو پروگرام کو تکنیکی اور عملی معاونت فراہم کرتا ہے۔ یہ پروگرام 1994 میں شروع کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں 'ڈبلیو ایچ او' پاکستان اور اس کے شراکت داروں کو دنیا کی اس سب سے بڑی پولیو مہم میں مدد فراہم کرتا ہے جس میں سائنس اور شواہد پر مبنی ویکسین مہمات، پولیو کارکنوں کی تربیت اور تعیناتی، وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے اقدامات، پولیو وائرس کی نگرانی اور ویکسین مہمات کی جانچ اور جائزہ شامل ہیں۔
2024 سے 2025کے دوران پاکستان میں 'ڈبلیو ایچ او' کے پولیو سے متعلق اقدامات کو متحدہ عرب امارات، برطانیہ، فرانس، کینیڈا، سعودی عرب، جرمنی، امریکہ، گیٹس فاؤنڈیشن اور روٹری انٹرنیشنل کا تعاون بھی حاصل رہا۔
پولیو سے پاک مستقبل کی امید
راولپنڈی کی پولیو ورکر نیلم کہتی ہیں کہ پاکستان میں بچوں کے لیے یہ ویکسین انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ پولیو وائرس انہیں معذور کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ گھر گھر جا کر بچوں کو ویکسین دیتی ہیں تاکہ کوئی بچہ اس مرض کا شکار نہ بن سکے۔
رابعہ، مومنہ، زینت اور نیلم کی لگن لاکھوں پولیو کارکنوں کے عزم کی عکاسی کرتی ہے جو ملک بھر میں خاندانوں اور آبادیوں کو اس خطرے سے محفوظ رکھتے ہیں۔ یہ کارکن ہر گلی میں، ہر برفانی ڈھلان پر، ہر صحرائی علاقے میں اور ہر دریا کے پار بچوں کو اس ویکسین کے دو قطرے پلا کر سب کے لیے صحت مند اور پولیو سے پاک مستقبل کی امید لے کر چلتے ہیں۔
یہ فیچر پہلے انگلش میں یہاں شائع ہوا تھا جس کا اردو ترجمہ عبداللہ زاہد نے کیا ہے۔