مصنوعی ذہانت کو پائیدار ترقی کے حصول کا مؤثر ذریعہ بنائیں، گوتیرش
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ سائنس کی رہنمائی میں مصنوعی ذہانت کو پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے کا قابل اعتماد ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔ عالمی برادری ایسا مستقبل تشکیل دے جہاں پالیسی بھی اس ٹیکنالوجی جیسی ذہین ہو جسے اس نے چلانا ہے۔
انہوں نے مصنوعی ذہانت کے اثرات پر انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی گویا روشنی کی رفتار سے ترقی کر رہی ہے جسے دنیا پوری طرح سمجھ پا رہی ہے اور نہ ہی اس کے موثر انتظام میں کامیاب ہو رہی ہے۔
مصنوعی ذہانت کو انسانیت کی خدمت کا ذریعہ بنانا ہے تو اس سے متعلق پالیسیوں کی بنیاد اندازوں کے بجائے ایسے حقائق پر ہونی چاہیے جن پر اعتماد کیا جا سکے اور جن کا تمام ممالک اور شعبہ جات کے درمیان تبادلہ ہو سکے۔
اسی مقصد کے لیے اقوام متحدہ ایسے طریقہ کار تیار کر رہا ہے جن میں مصنوعی ذہانت کے حوالے سے عالمگیر تعاون میں سائنس کو مرکزی حیثیت دی جائے گی۔ اس کی ابتدا حال ہی میں تشکیل دیے گئے ایک آزاد بین الاقوامی سائنسی پینل سے کی گئی ہے جس میں اس شعبے کے 40 ممتاز ماہرین شامل ہیں۔
خطرات کی پیشگی نشاندہی
انتونیو گوتیرش کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کے بارے میں اس پینل کا مقصد اس شعبے میں معلوماتی خلا کو کم کرنا اور معاشروں اور معیشتوں پر نئی ٹیکنالوجی کے حقیقی اثرات کا جائزہ لینا ہے تاکہ کسی بھی سطح کی تکنیکی صلاحیت کے حامل تمام ممالک واضح اور یکساں فہم کے ساتھ فیصلے کر سکیں۔
یہ پینل تجزیے کی ایک مشترکہ بنیاد فراہم کرے گا جس سے رکن ممالک فلسفیانہ بحثوں سے نکل کر تکنیکی ہم آہنگی کی جانب بڑھ سکیں گے اور فیصلے شواہد کی بنیاد پر ہوں گے۔ اس طرح تمام ممالک یہ تعین کر سکیں گے کہ مصنوعی ذہانت کہاں، سب سے زیادہ اور تیزرفتار سے فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ نتیجتاً ترقی کو زیادہ محفوظ، منصفانہ اور وسیع پیمانے پر قابل رسائی بنایا جا سکے گا۔
یہی نہیں بلکہ عالمی برادری مصنوعی ذہانت کے ممکنہ اثرات جیسا کہ بچوں یا محنت کی منڈی پر پڑنے والے منفی اثرات کی پیشگی نشاندہی کر سکے گی تاکہ حکومتیں بروقت تیاری، تحفظ اور انسانی وسائل میں سرمایہ کاری کے اقدامات کر سکیں۔
تقسیم اور انتشار کا خطرہ
سیکرٹری جنرل نے اعتراف کیا کہ موجودہ حالات میں باہمی اعتماد کی کمی اور بڑھتی ہوئی تکنیکی مسابقت کے باعث اس شعبے میں بین الاقوامی تعاون آسان نہیں۔ اگر مشترکہ بنیاد نہ ہو تو انتشار غالب آ جاتا ہے۔ مختلف خطے غیر ہم آہنگ پالیسیوں اور تکنیکی معیارات کے تحت کام کرتے ہیں جس سے لاگت بڑھتی ہے، تحفظ کمزور ہوتا ہے اور خلیج مزید وسیع ہو جاتی ہے۔
رکن ممالک ممالک آزاد سائنسی پینل کی رہنمائی میں اور مئی میں اقوام متحدہ کے زیراہتمام جنیوا میں مصنوعی ذہانت کے انتظام پر عالمگیر مکالمے کے ذریعے اپنے تکنیکی معیارات کو ہم آہنگ کر سکتے ہیں۔
بامعنی انسانی نگرانی
انتونیو گوتیرش نے اپنے خطاب کے اختتام پر واضح کیا کہ اگرچہ سائنس رہنمائی فراہم کرتی ہے لیکن مصنوعی ذہانت پر انسانی کنٹرول محض نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی حقیقت ہونا چاہیے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اہم اور حساس فیصلوں جیسا کہ انصاف، صحت اور مالیات کے معاملے میں بامعنی انسانی نگرانی اور واضح جوابدہی کا نظام بھی موجود ہو تاکہ ذمہ داری کسی الگورتھم کے حوالے نہ ہو سکے۔
ان کا کہنا تھا، لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ فیصلے کیسے لیے جا رہے ہیں تاکہ وہ ان پر تنقید کر سکیں اور انہیں اس کا جواب بھی مل سکے۔