انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ہیٹی: جرائم پیشہ گروہوں میں بچوں کی بھرتی پر یو این کو تشویش

ایک نوجوان شخص رنگا رنگ ٹائی ڈائی شرٹ پہنے ہوئے ہیٹی میں ایک کھلے دروازے سے گزرتا ہے، جس کے پس منظر میں ایک اور شخصیت نظر آرہی ہے، جو بچوں کی بھرتی کو روکنے اور دوبارہ شمولیت کی حمایت کرنے کی کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔
© UNICEF/Maxime Le Lijour گینگ بچوں کو مخبر، نگران، پیغام رساں اور اطلاع دینے والے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

ہیٹی: جرائم پیشہ گروہوں میں بچوں کی بھرتی پر یو این کو تشویش

جرائم کی روک تھام اور قانون

اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ ہیٹی میں بچوں کی جرائم پیشہ مسلح جتھوں میں بھرتی تشویش ناک حد تک بڑھتی جا رہی ہے جس کے تباہ کن اثرات نہ صرف بچوں بلکہ خاندانوں اور پورے معاشرے پر مرتب ہو رہے ہیں۔

ہیٹی طویل عرصہ سے حکومتی، انسانی اور سلامتی کے بحرانوں کا شکار ہے۔ مسلح گروہ دارالحکومت پورٹ او پرنس اور اطراف کے وسیع علاقوں پر قابض ہیں جس کے باعث خاندان بے گھر ہو رہے ہیں اور سکولوں، طبی سہولیات اور بنیادی خدمات تک رسائی محدود ہو گئی ہے۔

نوعمر افراد کو تحفظ دینےکے ادارے یا تو وسائل کی کمی کا شکار ہیں یا سرے سے وجود ہی نہیں رکھتے جس کے باعث جتھوں کے زیر اثر علاقوں میں کمسن بچے شدید خطرات سے دوچار ہیں۔

پورٹ او پرنس اور گردونواح میں کم از کم 26 جرائم پیشہ جتھے سرگرم ہیں۔ یہ گروہ علاقوں پر قبضہ جما کر مقامی آبادی سے بھتہ وصول کرتے ہیں اور کمزور سکیورٹی فورسز کے ساتھ برتری کی جنگ لڑتے رہتے ہیں۔ یہ جتھے اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لیے مسلسل نئے افراد، خصوصاً بچوں کو بھرتی کر رہے ہیں۔

ہزاروں خاندان گینگ وار کی وجہ سے دارالحکومت پورٹ او  پرنس چھوڑنے پر مجبور ہیں۔
© UNICEF/Ralph Tedy Erol

غربت، جبر اور بقا کی جدوجہد

اس مسئلے پر اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جتھوں کی جانب سے بچوں کو اس لیے ترجیح دی جاتی ہے کہ وہ آسانی سے قابو میں آ جاتے ہیں اور ان پر کم شک کیا جاتا ہے۔ اب بھرتی کا عمل وقتی یا اتفاقی نہیں رہا بلکہ کئی علاقوں میں باقاعدہ اور منظم انداز میں جاری ہے۔

بہت سے بچے بھوک، تعلیم کی کمی اور معاشی مجبوری کے باعث جتھوں کا حصہ بنتے ہیں اور بعض کو زبردستی ان میں شامل کیا جاتا ہے۔

جن علاقوں میں ریاست کی عملداری نہ ہونے کے برابر ہو وہاں مسلح گروہ نوجوانوں کو تحفظ، وابستگی اور آمدن کا جھوٹا احساس دیتے ہیں۔ بے گھر ہونا اور خاندانوں کا بکھر جانا بھی بچوں کی ان جتھوں میں شمولیت کے امکانات کو بڑھا دیتا ہے۔

مسلح گروہوں میں بچوں کا کردار 

بچوں کو مخبر، نگران (چوکیدار)، پیغام رساں اور اطلاع دینے والے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ بہت سے بچے مسلح جھڑپوں، ناکے لگانے اور تاوان کے لیے اغوا جیسی کارروائیوں میں بھی براہ راست شامل ہوتے ہیں۔ 

لڑکیوں کو جنسی استحصال، زیادتی اور جبری تعلقات جیسے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بھرتی کیے گئے بچے تشدد، صدمے اور بدسلوکی کا سامنا کرتے ہیں۔ ان کی تعلیم متاثر ہوتی ہے اور ذہنی صحت پر گہرے اور طویل المدتی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ سماجی بدنامی اور انتقام کے خوف سے ان کی دوبارہ معمول کی زندگی میں واپسی مشکل ہو جاتی ہے۔ لڑکیوں کے لیے جنسی تشدد ان کے صدمے اور معاشرتی تنہائی کو مزید بڑھا دیتا ہے۔

مسلح گروہ دارالحکومت پورٹ او پرنس اور اطراف کے وسیع علاقوں پر قابض ہیں۔
© UNOCHA/Giles Clarke

بچوں کا تحفظ اور یو این اقدامات 

رپورٹ میں بچوں کے تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے، تعلیم تک رسائی بحال کرنے اور جتھوں سے متاثرہ علاقوں میں بھرتی کی روک تھام کے لیے اقدامات پر زور دیا گیا ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ بچوں کو مسلح جتھوں سے بچانے میں خاندان بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں، لہٰذا خصوصاً خواتین کی سربراہی والے خاندانوں کے لیے وسائل میں اضافہ ضروری ہے۔

اس ضمن میں سکولوں کا کردار بھی اہم ہے کیونکہ وہ نہ صرف تعلیم فراہم کرتے ہیں بلکہ بچوں کو جتھوں کے اثر سے بھی محفوظ رکھتے ہیں۔ اقوام متحدہ سکولوں میں کھانے کی فراہمی، عمارتوں کی مرمت، عارضی تعلیمی مراکز کے قیام اور خاندانوں کو نقد امداد مہیا کر کے بچوں کی تعلیم جاری رکھنے میں مدد دے رہا ہے۔

مقامی تنظیموں کو فنی تربیت کے پروگرام چلانے میں بھی مدد دی جا رہی ہے تاکہ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملیں اور وہ جتھہ کلچر کا متبادل راستہ اختیار کر سکیں۔

گزشتہ سال اقوام متحدہ کی حمایت سے جتھوں کی بیخ کنی کے لیے ایک بین الاقوامی فورس کا قیام عمل میں لایا گیا تھا جو اس ضمن میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اقوام متحدہ ہیٹی کے عدالتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے بھی کام کر رہا ہے تاکہ بچوں کی سمگلنگ کا موثر سدباب کیا جا سکے۔