انسانی کہانیاں عالمی تناظر

آن لائن دھوکہ دہی کے ایشیائی مراکز پر جبری مشقت کا رواج، رپورٹ

سفید لباس میں ایک نوجوان لڑکی ایک دیوار کے سامنے کھڑی ہے جو گرافٹی سے ڈھکی ہوئی ہے، جس میں سبز رنگ میں لکھا ہوا پیغام 'I LOVE YOU' بھی شامل ہے۔
© UNICEF/Ron Haviv دھوکہ دہی مراکز پر لوگوں کو اطاعت پر مجبور کرنے کے لیے دوسروں پر ہونے والے شدید تشدد کا مشاہدہ کروایا جاتا ہے۔

آن لائن دھوکہ دہی کے ایشیائی مراکز پر جبری مشقت کا رواج، رپورٹ

انسانی حقوق

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق نے بتایا ہے کہ دنیا بھر سے لاکھوں لوگوں کو سمگل کر کے جنوب مشرقی ایشیا میں منظم آن لائن دھوکہ دہی کے مراکز میں کام پر مجبور کیا جاتا اور اب یہ جرائم پیشہ نیٹ ورک دیگر خطوں میں بھی پھیل گئے ہیں۔

اس مسئلے پر دفتر کی جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ میں متاثرین کے خلاف تشدد، بدسلوکی، جنسی زیادتی اور استحصال، جبری اسقاط حمل، خوراک سے محرومی اور قید تنہائی سمیت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔

Tweet URL

رپورٹ کے مطابق، سیٹلائٹ تصاویر اور دیگر معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آن لائن دھوکہ دہی کے تقریباً تین چوتھائی مراکز میکونگ خطے میں موجود ہیں، تاہم یہ نیٹ ورک بحرالکاہل کے بعض جزیرہ نما ممالک، جنوبی ایشیا، خلیجی ریاستوں، مغربی افریقہ اور امریکا تک بھی پھیل چکے ہیں۔

یہ رپورٹ ان متاثرین کے ساتھ بات چیت سے حاصل ہونے والی معلومات پر مبنی ہے جن کا تعلق بنگلہ دیش، چین، انڈیا، میانمار، سری لنکا، جنوبی افریقہ، تھائی لینڈ، ویت نام اور زمبابوے سے تھا۔ ان لوگوں کو 2021 سے 2025 کے درمیان کمبوڈیا، لاؤ عوامی جمہوریہ، میانمار، فلپائن اور متحدہ عرب امارات میں قائم دھوکہ دہی کے مراکز میں سمگل کیا گیا۔ رپورٹ میں پولیس اور سرحدی حکام، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور دیگر باخبر افراد کے بیانات بھی شامل ہیں۔

دھوکہ، تشدد اور ہلاکتیں

رپورٹ کے مطابق، متاثرین نے بتایا کہ انہیں جھوٹے وعدوں کے ذریعے اچھی ملازمت کا جھانسہ دے کر بلایا گیا اور پھر آن لائن فراڈ کرنے پر مجبور کیا گیا جس میں جعلی شناخت اختیار کر کے لوگوں کو دھوکہ دینا، آن لائن بلیک میلنگ، مالیاتی فراڈ اور رومانوی دھوکہ شامل تھے۔

ان مراکز کی ساخت مسلسل بدلتی رہتی ہے۔ بعض متاثرین نے بتایا کہ انہیں وسیع و عریض احاطوں میں رکھا گیا جو خودمختار قصبوں سے مشابہ تھے اور ان میں بعض کا رقبہ 500 ایکڑ سے بھی زیادہ تھا۔ یہ احاطے بلند اور خار دار تاروں سے ڈھکی دیواروں اور مضبوط کثیر المنزلہ عمارتوں پر مشتمل تھے، جہاں مسلح اور باوردی سکیورٹی اہلکار تعینات ہوتے تھے۔

سری لنکا سے تعلق رکھنے والے ایک متاثرہ شخص نے بتایا کہ جو افراد فراڈ کے ذریعے رقوم کے حصول کا ماہانہ ہدف پورا نہیں کرتے تھے انہیں گھنٹوں پانی کے ٹینکوں میں ڈبو کر رکھا جاتا تھا، جنہیں آبی جیل کہا جاتا تھا۔ لوگوں کو اطاعت پر مجبور کرنے کے لیے دوسروں پر ہونے والے شدید تشدد کا مشاہدہ کروایا جاتا یا خود انہیں تشدد کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ 

کئی افراد نے بتایا کہ فرار کی کوشش میں بعض لوگ عمارتوں کی بالکونیوں یا چھتوں سے گر کر ہلاک ہو گئے۔

کڑی سزائیں اور تاوان

رپورٹ کے مطابق ساتھیوں کو ان مراکز سے نکالنے کی کوشش کرنے والوں کو سخت سزائیں دی جاتی ہیں۔ ویت نام سے تعلق رکھنے والی ایک متاثرہ خاتون نے بتایا کہ جب اس کی بہن نے اسے فرار کروانے کی کوشش کی تو اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، بجلی کے جھٹکے دیے گئے اور سات روز تک کمرے میں بھوکا بند رکھا گیا۔

یہ بھی سامنے آیا ہے کہ انسانی سمگلر متاثرین کے اہل خانہ کو ویڈیو کال کر کے ان کے عزیزوں پر ہونے والا تشدد دکھاتے اور بھاری تاوان ادا کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے تھے۔

اگرچہ بیشتر متاثرین نے بتایا کہ انہیں ایسےمراکز میں کچھ معاوضہ بھی دیا جاتا تھا لیکن 'او ایچ سی ایچ ار' سے بات کرنے والے تمام افراد نے کہا کہ ان کی تنخواہوں میں مسلسل کٹوتیاں کی جاتی رہیں اور کسی کو بھی وعدہ کردہ مکمل رقم نہیں ملی۔ تھائی لینڈ کے ایک متاثرہ فرد نے بتایا کہ انہیں روزانہ تقریباً 9,500 امریکی ڈالر تک اینٹھنے کا فراڈ ہدف دیا جاتا تھا جسے پورا نہ کرنے پر جرمانہ، تشدد یا مزید سخت حالات والے کسی اور مرکز میں فروخت کیے جانے کا خطرہ ہوتا تھا۔

اسمارٹ فونز کی قطاریں ایک دفتر میں لکڑی کے ریک میں ترتیب دی گئی ہیں، جس کے پس منظر میں کمپیوٹر اسٹیشنوں پر کام کرنے والے ملازمین ہیں۔ اس منظر کو سرخ چینی نئے سال کے زیورات سے سجایا گیا ہے۔
UN News/Daniel Dickinson

جرم کی موثر نگرانی کا مطالبہ 

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متاثرین کو بچانے کے لیے بروقت، محفوظ اور موثر کارروائیوں، جبری واپسی کی ممانعت کے اصول کا احترام، اور تشدد و صدمے سے بحالی کے لیے معاونت کی ضرورت ہے تاکہ انتقامی اقدامات یا دوبارہ سمگلنگ کے خطرات سے نمٹا جا سکے۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا ہے کہ ان مظالم کی فہرست چونکا دینے والی اور ہولناک ہے۔ افسوسناک طور سے متاثرین کو تحفظ، نگہداشت، بحالی اور انصاف کے مواقع فراہم کرنے کے بجائے عموماً بے یقینی، بدنامی اور مزید سزاؤں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ہائی کمشنر نے کہا کہ محنت کشوں کے لیے مہاجرت کے قانونی راستوں کی دستیابی اور رسائی میں اضافے، آن لائن ملازمتوں کی تصدیق اور مشتبہ بھرتیوں کی نشاندہی جیسے اقدامات کے ذریعے اس جرم کی موثر نگرانی درکار ہے۔ 

انہوں نے رکن ممالک اور متعلقہ فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ قابل اعتماد اور مقامی سطح پر کام کرنے والے اداروں، خصوصاً سابقہ متاثرین کی قیادت میں قائم گروہوں سے موجودہ ممکنہ متاثرین تک رسائی کے لیے مدد لیں۔