مصنوعی ذہانت کو مشمولہ اور قابل مواخذہ ہونا چاہیے، وولکر ترک
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر مناسب ضابطے اور حفاظتی اقدامات عمل میں نہ لائے گئے تو مصنوعی ذہانت (اے آئی) عدم مساوات کو مزید گہرا کرنے، تعصبات کو بڑھانے اور نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
مصنوعی ذہانت کے اثرات پر انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں منعقدہ کانفرنس میں یو این نیوز کو انٹریو دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو انسانی حقوق کے ایک ایسے فریم ورک کے تحت منظم کیا جانا چاہیے جو شفافیت، جوابدہی اور شمولیت کو یقینی بنائے۔
انٹرویو کے اہم نقاط
- انسانی حقوق مصنوعی ذہانت کی محفوظ تیاری، ڈیزائن اور استعمال کے لیے ایک مضبوط فریم ورک فراہم کرتے ہیں۔
- مصںوعی ذہانت کا اثر دراصل طاقت اور اس کے استعمال سے جڑا ہوا ہے۔
- تیزی سے پھیلتی اس ٹیکنالوجی کے تناظر میں عدم مساوات، تعصب اور امتیازی سلوک انسانی حقوق کو درپیش سب سے بڑے خطرات ہیں۔
- مصنوعی ذہانت کی تیاری، ڈیزائن اور نفاذ کے ہر مرحلے پر انسانی حقوق کے اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
- ٹیکنالوجی کمپنیوں کو کاروبار اور انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے اصولوں کی پابندی کرنا ہو گی۔
- اگر مصنوعی ذہانت تیار کرنے والوں کو بنیادی سماجی اور اخلاقی اصولوں کی معقول سمجھ بوجھ نہ ہو تو وہ گویا ’فرینکینسٹائن کا بھوت‘ تخلیق کرنے کا خطرہ مول لیتے ہیں۔
وضاحت اور اختصار کے لیے بات چیت کو مدون کیا گیا ہے۔
یو این نیوز: تیزی سے پھیلتی مصنوعی ذہانت کے باعث آپ کو انسانی حقوق سے متعلق کون سے خطرات دکھائی دیتے ہیں؟
وولکر ترک: مصنوعی ذہانت بنیادی طور پر ایک تکنیکی آلہ ہے اور اسے خطرات کے جائزے کی بنیاد پر تیار کیا جانا چاہیے۔ ٹیکنالوجی طاقت کے استعمال کا ذریعہ بنتی ہے۔ یہ طاقت بھلائی کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہے اور برائی کے لیے بھی۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس کی تیاری اور استعمال ایک واضح فریم ورک کے اندر ہوں اور یہی وہ مقام ہے جہاں انسانی حقوق رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
سب سے بڑا مسئلہ عدم مساوات کا ہے۔ ضروری ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ہر جگہ استعمال ہو اور ہر خطے میں اس کی ترقی ہو۔
دوسرا اہم مسئلہ تعصب اور امتیاز کا ہے۔ اگر مصنوعی ذہانت کو مہیا کرنےکے لیے معلومات دنیا کے ایک ہی حصے سے لی جائیں یا یہ ٹیکنالوجی صرف مرد حضرات ہی تیار کریں تو لاشعوری طور پر تعصب بھی اس میں شامل ہو جائے گا۔ اسی لیے کمزور طبقات اور اقلیتوں کو مدنظر رکھنا بے حد ضروری ہے جو عام طور پر مصنوعی ذہانت کی ترقی کے عمل سے باہر رہتے ہیں۔ اصل بات بامعنی شمولیت اور ایک بہتر دنیا کا تصور پیش کرنے کی ہے اور انسانی حقوق یہی تصور مہیا کرتے ہیں۔
یو این نیوز: تخلیقی مصںوعی ذہانت میں ترقی کی رفتار اس ٹیکنالوجی کے لیے ہونے والی قانون سازی سے کہیں زیادہ تیز ہے۔ حکومتوں اور کمپنیوں کو اس بارے میں فوری طور پر کون سے حفاظتی اقدامات کرنے چاہییں؟
وولکر ترک: میں یہاں ادویہ سازی کی صنعت کو بطور مثال پیش کروں گا۔ وہاں کسی نئی دوا کو مارکیٹ میں لانے سے پہلے طویل آزمائشی مراحل سے گزارا جاتا ہے تاکہ اس سے لاحق ممکنہ خطرات کی نشاندہی ہو سکے۔ اسی طرح مصنوعی ذہانت کے حوالے سے بھی ضروری ہے کہ کمپنیاں اس کی تیاری، اجرا اور مارکیٹنگ کے ہر مرحلے میں انسانی حقوق پر مرتب ہونے والے اثرات کا باقاعدہ جائزہ لیں۔
ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایسی چند کمپنیوں کے بجٹ بعض چھوٹے ممالک کے سالانہ بجٹ سے بھی زیادہ ہیں۔ اگر کوئی ٹیکنالوجی کو نہ صرف اپنے ملک بلکہ پوری دنیا میں کنٹرول کر سکتا ہے تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اس کے پاس بہت بڑی طاقت ہے۔ اس طاقت کو صحت، تعلیم اور پائیدار ترقی جیسے شعبوں میں بھلائی کے لیے کام میں لایا جا سکتا ہے لیکن اسے خودکار مہلک ہتھیار بنانے، غلط معلومات پھیلانے، نفرت انگیزی اور پرتشدد زن بیزاری کو فروغ دینے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یو این نیوز: مصنوعی ذہانت کو تعصب اور عدم مساوات میں اضافے کا سبب بننے سے روکنے کے لیے کون سے ضوابط اور انتظامی اصول درکار ہیں؟
وولکر ترک: مجھےمصنوعی ذہانت تیار کرنے والوں سے بات کرنے کا موقع ملا ہے۔ جو بات مجھے تشویش میں مبتلا کرتی ہے وہ یہ کہ عموماً انہیں بنیادی سماجی و اخلاقی اصولوں کی گہری سمجھ بوجھ نہیں ہوتی۔
یہ کسی حد تک فرینکینسٹائن کے بھوت جیسا معاملہ ہے کہ آپ کوئی ایسی چیز تخلیق کر دیتے ہیں جس پر بعد میں آپ کا قابو نہ رہے۔ اگر خطرات اور نقصانات کا ادراک نہ کیا جائے تو تباہی آ سکتی ہے۔ میانمار میں یہی کچھ دیکھنے کو ملا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر روہنگیا کے خلاف نفرت انگیز مواد نے حالات کو بگاڑ دیا۔
لہٰذا، مصنوعی ذہانت کو ترقی دینے کے معاملے میں ضروری ہے کہ معاشرے کے ہر طبقے، خاص طور پر خواتین اور نوجوانوں کو ساتھ رکھا جائے اور یہ بات مدنظر رہے کہ انسانوں کی ذہنی نشوونما مختلف انداز سے ہوتی ہے۔
ہم ایسی عادات پیدا کرنا نہیں چاہتے جو اذہان اور روحوں کو زہر آلود کر دیں۔ ہمیں آگاہ رہنا چاہیے کہ نقصان دہ غلط معلومات معاشرتی ڈھانچے کو تباہ کرتی اور ایسے منقسم اور قطبی سماج کو جنم دیتی ہیں جہاں ہر شخص اپنی الگ دنیا میں رہنے لگتا ہے۔
آن لائن زن بیزاری کا بڑھتا ہوا رجحان واضح ہے۔ بہت سی خواتین سیاست دان بتاتی ہیں کہ وہ سوشل میڈیا پر پیش آنے والے تجربات کے باعث سیاست چھوڑنے کے بارے میں سوچ رہی ہیں۔
یو این نیوز: آپ کی رائے میں پانچ سال کے بعد ذمہ دارانہ مصنوعی ذہانت کیسی دکھائی دے گی؟
وولکر ترک: میری خواہش ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی مشمولہ ہو، جہاں طاقت صرف شمالی امریکا کی چند کمپنیوں تک محدود نہ رہے بلکہ اس میں ہر معاشرے کی رنگا رنگی اور تنوع جھلکتا ہو۔
میں ایک ایسے مشمولہ، بامعنی اور اشتراکی ترقیاتی عمل کا خواہاں ہوں جو موسمیاتی بحران، صحت کی سہولیات تک رسائی اور سب کے لیے تعلیم کی فراہمی جیسے مسائل کو حل کرنے میں مدد دے۔ مصنوعی ذہانت ان اہداف کے حصول کا بہت اچھا ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔
اگر ہم بہتر دنیا کا واضح تصور پیش نہ کر سکے تو نتیجہ مزید منقسم اور متصادم دنیا کی صورت میں نکل سکتا ہے یہاں تک کہ ایسی جنگیں بھی ہو سکتی ہیں جو انسانوں کے قابو سے باہر ہوں اور یہ نہایت خطرناک صورتحال ہو گی۔