مصنوعی ذہانت تک یکساں رسائی کے لیے 3 ارب ڈالر فنڈ کے قیام کی تجویز
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا مستقبل چند ممالک کے ہاتھوں میں یا چند ارب پتی افراد کی منشا پر چھوڑا نہیں جا سکتا۔ ترقی پذیر ممالک کو جدید ٹیکنالوجی تک بہتر رسائی دینے کے لیے ایک عالمی فنڈ قائم کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مصنوعی ذہانت کے اثرات پر انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں منعقدہ کانفرنس سے بدھ کو خطاب کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے مہارتوں کی ترقی، معلوماتی صلاحیت میں اضافہ، سستی کمپیوٹنگ سہولیات کی فراہمی اور جامع ماحولیاتی نظام کی تشکیل ناگزیر ہے۔ اگر ان شعبوں میں بروقت سرمایہ کاری نہ کی گئی تو بہت سے ممالک مصنوعی ذہانت کے شعبےمیں بہت پیچھے رہ جائیں گے۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی کے لیے تین ارب ڈالر کے فنڈ کی ضرورت ہے جو کسی ایک ٹیکنالوجی کمپنی کی سالانہ آمدنی کے ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ یہ ایک معمولی سی قیمت ہے جس کے ذریعے مصنوعی ذہانت کے فوائد تمام لوگوں تک پہنچائے جا سکتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کا موثر انتظام
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اقوام متحدہ مصنوعی ذہانت کا موثر انتظام یقینی بنانے کے لیے سرگرم ہے۔ اس حوالے سے گزشتہ سال جنرل اسمبلی میں قائم کیے گئے آزاد بین الاقوامی سائنسی پینل برائے مصنوعی ذہانت کی خاص اہمیت ہے۔ گزشتہ ہفتے نامزد کردہ 40 عالمی ماہرین پر مشتمل یہ پینل مصنوعی ذہانت سے لاحق خطرات، مواقع اور سماجی اثرات کا تجزیہ کر کے شواہد فراہم کرے گا اور اس شعبے میں علمی خلا کو پر کرنے کی کوشش کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سب کی مشترکہ ملکیت ہونی چاہیے۔ اس مقصد کے لیے رکن ممالک، صنعتوں اور سول سوسائٹی کو اس پینل کے کام میں تعاون کرنا ہو گا۔
انسانی اختیار، نگرانی اور جوابدہی
انتونیو گوتیرش نے مصنوعی ذہانت کے انتظام کے لیے عالمی مکالمے کے آغاز اور جولائی میں اس مقصد کے لیے منعقدہ پہلے اجلاس کا ذکر بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تحفظ سے متعلق ایسے ضوابط درکار ہیں جو انسانی اختیار، نگرانی اور جوابدہی کو برقرار رکھیں۔
مصنوعی ذہانت کو درست طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کے حصول میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ طب میں نئی پیش رفت کو تیز کر سکتی ہے، تعلیم کے مواقع بڑھا سکتی ہے، غذائی تحفظ کو مضبوط بنا سکتی ہے، موسمیاتی اقدامات اور آفات سے نمٹنے کی تیاری کو بہتر بنا سکتی ہے اور عوامی خدمات تک رسائی میں آسانی لا سکتی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مصنوعی ذہانت کی ترقی بے قابو رہی تو اس سے عدم مساوات مزید گہری ہو جائے گی، تعصبات میں اضافہ ہو سکتا ہے اور دیگر نقصانات جنم لیں گے۔
قابل تجدید توانائی کی ضرورت
چونکہ مصنوعی ذہانت کے لیے توانائی اور پانی کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اس لیے ڈیٹا مراکز اور سپلائی چین کو قابل تجدید اور ماحول دوست توانائی کی طرف منتقل ہونا چاہیے اور اس کا بوجھ کمزور طبقات پر نہیں پڑنا چاہیے۔
ڈیجیٹل ترقی کے لیے کارکنوں پر سرمایہ کاری کرنا ہو گی تاکہ مصنوعی ذہانت روزگار کا خاتمہ کرنے کے بجائے انسانی صلاحیتوں میں اضافہ کرے۔
سیکرٹری جنرل نے مصنوعی ذہانت کو محفوظ بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو استحصال، چالبازی اور بدسلوکی سے محفوظ رکھا جانا چاہیے اور کوئی بھی بچہ غیر منضبط مصنوعی ذہانت کا تجرباتی نمونہ نہیں بننا چاہیے۔
ٹیکنالوجی کو انسانی زندگی میں بہتری اور کر ہ ارض کے تحفظ کا ذریعہ ہونا چاہیے۔ ایسی مصنوعی ذہانت تعمیر کرنے کی ضرورت ہے جو سب کے لیے ہو اور جس کی بنیاد انسانی وقار پر ہو۔