انسانی کہانیاں عالمی تناظر

مشرق وسطیٰ: مختلف سمت میں آگے بڑھنے کا غیر یقینی موقع، ڈی کارلو

اقوام متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل برائے سیاسی امور اور امن کی تعمیر کے امور کی نائب سیکرٹری جنرل روزمری ڈی کارلو نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور فلسطینی مسئلے سے متعلق سلامتی کونسل کے اجلاس میں تقریر کی۔
UN Photo/Eskinder Debebe قیام امن و سیاسی امور کے لیے اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو مشرق وسطیٰ خاص طور پر غزہ کی صورتحال پر سلامتی کونسل کے ارکان کو اپنی رپورٹ پیش کر رہی ہیں۔

مشرق وسطیٰ: مختلف سمت میں آگے بڑھنے کا غیر یقینی موقع، ڈی کارلو

امن اور سلامتی

قیام امن و سیاسی امور کے لیے اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ نازک اور فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے جبکہ برسوں کی تباہ کن جنگ اور ہولناک انسانی المیوں کے بعد اس خطے کے پاس اب ایک مختلف سمت میں آگے بڑھنے کا موقع ہے۔

مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور مسئلہ فلسطین پر سلامتی کونسل کے وزارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ موقع نہ تو یقینی ہے اور نہ ہی اسے لامحدود کہنا درست ہو گا۔ آئندہ چند ہفتوں میں فریقین اور سلامتی کونسل کے ارکان کے فیصلے طے کریں گے کہ آیا یہ موقع پائیدار ثابت ہو سکتا ہے یا نہیں۔

انڈر سیکرٹری جنرل نے اپنے خطاب میں کہا کہ: 

  • واشنگٹن میں غزہ امن بورڈ کا اجلاس ایک اہم قدم ہے۔
  • غزہ میں اسلحے کا خاتمہ اور امداد کی رسائی میں اضافہ ناگزیر ہے۔
  • اسرائیل مغربی کنارے میں فلسطینی علاقوں کا بتدریج اپنے ساتھ الحاق کر رہا ہے۔
  • اسرائیلی بستیاں قانونی حیثیت نہیں رکھتیں اور ان کا قیام بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
  • غزہ میں امن منصوبے پر مکمل عملدرآمد اور مغربی کنارے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔

جنگ بندی اور سیاسی عمل 

روزمیری ڈی کارلو نے غزہ میں جنگ بندی کو مضبوط بنانے اور لوگوں کی تکالیف میں کمی لانے کے لیے اجتماعی کوششوں پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سبھی کی ذمہ داری ہے کہ غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور ایک ایسے سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کے اقدامات کیے جائیں جو مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے دو ریاستی حل تک لے جائے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس میں غزہ سے اسلحے کا خاتمہ، حماس اور دیگر فلسطینی مسلح گروہوں سے ہتھیاروں کی واپسی اور ایسے سکیورٹی انتظامات شامل ہونا چاہئیں جو غزہ کی قومی انتظامی کمیٹی کی عبوری حکومت کو مدد دیں۔

انہوں نے غزہ میں انسانی امداد کی بڑے پیمانے پر اور فوری فراہمی کو ناگزیر قرار دیا تاکہ فلسطینی قیادت میں بحالی اور تعمیرنو کا عمل ممکن ہو سکے۔

روزمیری ڈی کارلو نے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود غزہ میں مکمل امن قائم نہیں ہوا۔ حالیہ ہفتوں میں اسرائیلی فوج نے گنجان آباد علاقوں میں عسکری کارروائیاں تیز کی ہیں جن میں درجنوں فلسطینی ہلاک ہوئے جبکہ فلسطینی مسلح گروہوں اور اسرائیلی فوجیوں کے درمیان جھڑپیں بھی جاری ہیں۔

مغربی کنارے کا 'بتدریج الحاق'

انڈر سیکرٹری جنرل نے مقبوضہ مغربی کنارے کی تیزی سے بگڑتی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یکطرفہ اسرائیلی اقدامات کے نتیجے میں زمینی حقائق تبدیل ہو رہے ہیں اور فلسطینی علاقوں کا اسرائیل کے ساتھ بتدریج الحاق جاری ہے۔ اسرائیلی سکیورٹی فورسز مغربی کنارے میں وسیع پیمانے پر کارروائیاں کر رہی ہیں جن میں براہ راست فائرنگ بھی شامل ہے جس سے مہلک طاقت کے استعمال سے متعلق سنگین خدشات جنم لیتے ہیں۔

ان کارروائیوں کے ساتھ گھروں پر قبضے، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں، نقل و حرکت پر پابندیاں اور خصوصاً شمالی علاقوں میں فلسطینی خاندانوں کی متواتر بے دخلی بھی شامل ہے۔ دوسری جانب، فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیلیوں پر حملے اور جھڑپیں بھی جاری ہیں۔

انہوں نے مشرقی یروشلم سمیت مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع، آبادکاروں کے تشدد میں اضافے اور مکانات کی مسماری اور فلسطینیوں بے دخلی کے واقعات کا ذکر بھی کیا۔

اسرائیلی کابینہ کے فیصلے پر تشویش 

روزمیری ڈی کارلو نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کے فیصلے پر سخت تشویش کو دہرایا جس کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں اے اور بی میں اختیارات کی منتقلی اور انتظامی اقدامات کی منظوری دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات ان علاقوں میں اسرائیلی سول اختیارات میں خطرناک توسیع ہوں گے۔

انہوں نے علاقہ سی میں اراضی کی رجسٹریشن کے عمل کی بحالی کے فیصلے کی مذمت کی جو فلسطینیوں کو ان کی املاک سے محروم کرنے اور اسرائیلی کنٹرول کو وسعت دینے کا سبب بن سکتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ اسرائیل کو فوری طور پر یہ اقدامات واپس لینا چاہئیں۔ اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت غیر قانونی ہیں۔ 

دیرپا امن کی ضرورت

ڈی کارلو نے کہا کہ امریکہ کی قیادت میں پیش کردہ جامع منصوبے پر مکمل عملدرآمد کے ساتھ کشیدگی میں فوری کمی لانے اور مقبوضہ مغربی کنارے میں خطرناک رجحانات کو پلٹنے کے اقدامات ناگزیر ہیں۔

اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک قابل اعتماد سیاسی افق بحال کرنا ہوگا جو غزہ میں دیرپا امن، قبضے کے خاتمے اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل کی راہ ہموار کرے۔