انسانی کہانیاں عالمی تناظر

غزہ: مصائب اور مہنگائی کے باوجود لوگ رمضان کی خوشیوں میں شریک

غزہ میں ایک نوجوان لڑکی رمضان کا ایک سجایا ہوا لالٹین تھامے ہوئے مسکرا رہی ہے جبکہ وہ تہوار کے جشن میں حصہ لے رہی ہے۔
UN News
غزہ میں بچے ماہ صیام کے دوران فانوس اٹھائے پھرتے ہیں۔

غزہ: مصائب اور مہنگائی کے باوجود لوگ رمضان کی خوشیوں میں شریک

از یو این نیوز نامہ نگار، غزہ
امن اور سلامتی

غزہ کے ولید العاصی اپنی ننھی پوتی کے ساتھ کھیلتے ہوئے اس سے وعدہ کرتے ہیں کہ رمضان المبارک کی آمد پر وہ اسے شہر کے بازار لے جائیں گے جیسا کہ جنگ سے پہلے ہر سال ان کا خاندان خریداری کے لیے جاتا تھا۔ لیکن اب حالات بدل چکے ہیں اور ان کے لیے شاید اپنا وعدہ پورا کرنا ممکن نہ ہو۔

ولید اور ان کے اہلخانہ غزہ شہر کے وسطی علاقے الزرقہ میں اپنے تباہ شدہ گھر کے ملبے پر کپڑے اور پلاسٹک کی چادروں سے بنے ایک خیمے میں مقیم ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ کبھی وہ اس جگہ خوش باش زندگی گزارتے تھے اور رمضان میں قطائیف جیسی روایتی مٹھائیوں سمیت مزیدار کھانوں سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ مگر اب سب کچھ بدل گیا ہے اور وہ ان تمام چیزوں سے محروم ہو گئے ہیں۔ 

وہ کہتے ہیں کہ جنگ کے بعد اب دکانوں میں سامان دکھائی دینے لگا ہے مگر ان کے پاس اسے خریدنے کے لیے مالی وسائل نہیں ہیں۔ وہ بلند فشار خون اور ذیابیطس کے مریض بھی ہیں اور ان کے لیے نقل و حرکت کرنا آسان نہیں۔ انہیں اور بہت سے دیگر لوگوں کو مدد کی اشد ضرورت ہے جن کی زندگیاں کسی المیے سے کم نہیں۔

مسٹر ولید الاسی کے اہل خانہ رمضان کے دوران غزہ شہر کے شہر الزرقہ میں اپنے تباہ شدہ گھر کے قریب نصب ایک خیمے کے پاس بیٹھے ہیں۔
UN News
ولید العاصی غزہ کے علاقے الزرقہ میں اپنے تباہ حال گھر کے باہر اپنے خاندان کے ساتھ خیمہ زن ہیں۔

سانحے جیسی زندگی 

ایک اور بے گھر خاندان کے خیمے میں امل السمری اور ان کے شوہر علامتی طور پر رمضان کا ماحول بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جب یو این نیوز کے نمائندے ان سے ملے تو وہ اپنا خیمہ سجا رہے تھے اور مقدس مہینے کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ امل تھکن کے باوجود مسکراتی رہیں جن کے تینوں بچے رمضان کی خوشی میں نئے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔

امل نے جنگ سے پہلے کی زندگی کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ رمضان کے موقع پر وہ اپنے رشتہ داروں سے ملنے جاتے، بازار سے سودا سلف لاتے اور گھر میں چراغاں کرتے تھے۔ مگر اب ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ لوگ سانحے جیسی کیفیت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ نہ ان کے پاس بجلی ہے نہ پانی۔ 

مہنگائی اور محرومی 

کڑے حالات، مسلسل مشکلات، سامان کی کمی اور تباہی کے گہرے زخموں کے باوجود، غزہ شہر کے تاریخی بازار سوق الزاویہ میں رمضان کے خاص رنگ اور اس کی مخصوص اشیا کو دیکھا جا سکتا ہے۔ دکانوں اور ٹھیلوں پر مختلف سائز کے فانوس اور رمضان کی آمد کے خیرمقدمی بینر آویزاں ہیں۔ بعض خاندان مہنگائی کے باوجود اپنے بچوں کے لیے فانوس خریدتے ہیں۔

تاہم بہت سے ایسے ہیں جو بازار سے خالی ہاتھ لوٹ جاتے ہیں کیونکہ مہنگائی اور اشیائے ضروریہ کی قلت نے ان کی قوت خرید ختم کر دی ہے۔ رمضان کی سجاوٹ کا سامان بیچنے والے ایک دکان دار نے بتایا کہ بہت سے لوگ سجاوٹ نہیں کر سکتے کیونکہ بجلی ہی نہیں۔ قیمتیں بڑھ گئی ہیں کیونکہ کافی عرصے سے تجارتی سامان غزہ میں نہیں آیا تھا۔ 

انہوں نے ایک فانوس دکھاتے ہوئے بتایا کہ پہلے یہ 30 شیکل میں ملتا تھا اور اب اس کی قیمت 60 شیکل ہے۔ درآمدات بند ہونے سے قیمتں دوگنا بڑھ گئی ہیں۔

غزہ میں ایک مصروف رمضان منڈی میں مٹھائیوں، کھجوروں اور ضروری غذائی اشیا کی ایک وسیع رینج پیش کی گئی ہے، اور اسٹالوں کے اوپر ایک رنگا رنگ لالٹین لٹکی ہوئی ہے۔
UN News
غزہ کے رمضان بازار میں اشیائے خوردونوش کی ایک دکان۔

خوشی کی تلاش

اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ دفتر (اوچا) کے مطابق، غزہ کی تقریباً دو تہائی آبادی یا 14 لاکھ افراد تقریباً ایک ہزار گنجان اور غیر محفوظ پناہ گاہوں میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں انہیں مناسب اخفا اور تحفظ حاصل نہیں ہے۔ 

ان حالات کے باوجود بعض لوگ خوشی تلاش کرنے اور یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ فلسطینی مسیحی ماہر طرزی بھی انہی میں شامل ہیں۔

سوق الزاویہ میں چہل قدمی کرتے ہوئے انہوں نے اقوام متحدہ کے نمائندے کو دیکھا تو کیمرے کے سامنے کھڑے ہو کر رمضان کا نغمہ گنگنانے لگے: 

'میٹھی اور بابرکت راتیں آ گئیں، راتیں جو گزرتی اور آتی رہتی ہیں جن میں خدا کی تجلی ہمیشہ موجود رہتی ہے اور اس کا نور آسمان پر چمکتا ہے۔' 

انہوں نے کہا کہ لوگ خوش ہونا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بہت کٹھن وقت دیکھا ہے۔ لوگ اپنے اردگرد دیکھتے اور حیران ہوتے ہیں کہ وہ یہ سب کچھ کیسے سہہ گئے۔ پھر وہ زندگی کی طرف لوٹ آتے ہیں اور بازاروں کا رخ کرتے ہیں۔ مگر ان کی قوت خرید پہلے جیسی نہیں رہی۔