زچگی میں اموات کا کمزور ریاستی ڈھانچے اور تنازعات سے کیا تعلق؟
دنیا بھر میں زچگی کے دوران دو تہائی اموات ان ممالک میں ہوتی ہیں جو جنگوں، بدامنی یا ریاستی ڈھانچے کی کمزوری کا شکار ہیں۔ مسلح تنازع سے متاثرہ کسی ملک میں رہنے والی خاتون کے لیے زچگی کی پیچیدگیوں کے باعث موت کے منہ میں جانے کا خدشہ مستحکم ممالک کی خواتین کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہوتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ 2023 میں ہی تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار خواتین جنگوں اور نازک حالات میں زچگی کی قابل انسداد پیچیدگیوں کے باعث دم توڑ گئیں۔ یہ دنیا بھر میں زچگی کے دوران ہونے والی مجموعی اموات کا 60 فیصد ہے۔
'ڈبلیو ایچ او، اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی)، ادارہ برائے اطفال (یونیسف) اور عالمی بینک کے ایک مشترکہ جائزے کے مطابق، جنگ زدہ ممالک میں زچگی کے دوران ہر ایک لاکھ خواتین میں شرح اموات کا تخمینہ 504 ہے جبکہ انتظامی اور سماجی طور پر نازک حالات کا سامنا کرنے والے ممالک میں یہ شرح 368 ریکارڈ کی گئی ہے۔
ان دونوں زمروں سے باہر موجود ممالک میں یہ شرح نمایاں طور پر کم یعنی ایک لاکھ میں 99 دیکھی گئی۔ یہ نتائج گزشتہ سال جاری ہونے والے عالمی تخمینوں (2000–2023) کی مزید وضاحت کرتے ہیں جن سے ثابت ہوا تھا کہ زچگی کے دوران اموات کو روکنے کے حوالے سے عالمگیر پیش رفت سست پڑ چکی ہے جبکہ کم آمدنی والے اور بحران زدہ ممالک میں یہ شرح بدستور تشویشناک حد تک بلند ہے۔
نازک حالات اور طبی نظام کے مسائل
جائزے کے مطابق، بحران اور تنازعات ایسے حالات پیدا کر دیتے ہیں جہاں صحت کا نظام ضروری زچگی خدمات مستقل طور پر فراہم نہیں کر پاتا۔ جنس، نسل، عمر اور مہاجرت کی حیثیت جیسے عوامل اگر نازک حالات کے ساتھ مل جائیں تو حاملہ خواتین اور لڑکیوں کے لیے خطرات مزید بڑھ جاتے ہیں۔
2023 میں کسی تنازع سے متاثرہ ملک یا علاقے میں رہنے والی 15 سالہ لڑکی کے لیے زندگی بھر میں زچگی سے متعلق کسی وجہ سے موت کا خطرہ 51 میں سے ایک تھا۔ انتظامی اور سماجی طور پر نازک ملک میں یہ خطرہ 79 میں سے ایک جبکہ نسبتاً مستحکم ملک میں رہنے والی 15 سالہ لڑکی کے لیے یہ خطرہ 593 میں سے ایک تھا۔
کامیابی کی مثالیں
جائزہ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عدم استحکام کے باوجود نچلی سطح پر کام کرنے والے طبی کارکن زچگی خدمات کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کولمبیا میں روایتی دائیوں کی تربیت اس بات کی مثال ہے کہ مقامی اور قابل بھروسہ طبی نیٹ ورک کو مضبوط بنا کر صحت کی سہولیات بروقت فراہم کی جا سکتی ہیں حتیٰ کہ جغرافیائی رکاوٹوں، بدامنی یا عدم اعتماد کی موجودگی میں بھی ایسا ممکن ہے۔
ایتھوپیا میں متحرک طبی ٹیموں، مرمت شدہ مراکز صحت اور اضافی دائیوں کی تعیناتی کے ذریعے خدمات کے تسلسل کو بحال کرنے میں مدد ملی ہے۔
ہیٹی میں سستے داموں یا بلامعاوضہ آپریشن کے ذریعے بچوں کی پیدائش اور قابل بھروسہ بجلی کی فراہمی کے ذریعے طبی لاگت میں کمی آئی اور بنیادی ڈھانچے کی کمزوری سے پیدا ہونے والے مسائل پر قابو پانے میں مدد ملی۔
میانمار، یوکرین اور پاپوا نیوگنی میں دیکھا گیا کہ شدید بحران یا تنازع کے باوجود اگر نظام صحت زچگی کی بنیادی خدمات کے تحفظ پر توجہ دے تو خواتین کو فائدہ پہنچتا ہے۔
طبی معلومات کی ضرورت
زچگی میں شرح اموات کو نازک حالات کی درجہ بندی سے جوڑ کر یہ تعین کیا جا سکتا ہے کہ کون سے ممالک میں صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کی فوری ضرورت ہے۔
جائزے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ بحران کے دوران زچگی خدمات برقرار رکھنے کے لیے بنیادی طبی نگہداشت پر سرمایہ کاری کرنے دور دراز اور مشکل رسائی والے علاقوں میں معلومات جمع کرنے کے نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ہر موت کا ریکارڈ رہے اور ایسے مضبوط اور مستحکم طبی نظام تشکیل دیے جائیں جو اچانک آنے والے بحرانوں کا مقابلہ کر سکیں اور خود کو ان کے مطابق ڈھال سکیں۔