سوڈان خانہ جنگی: تارکین وطن کے لیے 1.6 ارب ڈالر کی امدادی اپیل
پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) اور اس کے 123 شراکت داروں نے رواں سال سوڈان کے بحران سے پیدا ہونے والے حالات سے نمٹںے کے لیے 1.6 ارب ڈالر کے امدادی وسائل مہیا کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ سات ہمسایہ ممالک میں 59 لاکھ افراد کو ضروری مدد فراہم کی جا سکے۔
جنوبی اور مشرقی افریقہ کے لیے ادارے کے علاقائی ڈائریکٹر مامادو دیان بالڈے نے جنیوا میں صحافیوں کو اس حوالے سے بتایا ہے کہ سوڈانی مہاجرین کو مدد دینے کے منصوبے کے تحت امسال تقریباً 4 لاکھ 70 ہزار نئے پناہ گزینوں کی ضروریات کو ترجیح دی جائے گی جو ممکنہ طور پر ہمسایہ ممالک میں پناہ لیں گے۔
ہزاروں افراد ایسے بھی ہیں جو سرحدی علاقوں میں موجود ہیں اور میزبان ملک میں آمد کے بعد اب تک انہیں صرف انتہائی بنیادی امداد ہی مل سکی ہے۔ سوڈان کی جنگ اب چوتھے سال میں داخل ہونے کو ہے اور بڑے پیمانے پر امداد کی ضرورت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اس تنازع کے اثرات متواتر اور تباہ کن ہیں جبکہ انسانی امداد فراہم کرنے کی کوششیں بڑھتی ہوئی ضروریات کا ساتھ نہیں دے رہیں۔
نقل مکانی کا بدترین بحران
اپریل 2023 سے متحارب عسکری دھڑوں کے مابین جاری جنگ کے نتیجے میں سوڈان کو نقل مکانی کے بدترین بحران کا سامنا ہے جبکہ ملک کے اندر انسانی حالات بھی انتہائی خراب ہو چکے ہیں۔ بنیادی خدمات کا نظام تقریباً مفلوج ہو چکا ہے اور کئی علاقوں میں انسانی امداد کی رسائی محدود ہے۔ ہر ہفتے ہزاروں افراد سرحد پار کر کے ایسے علاقوں میں پہنچ رہے ہیں جہاں عوامی خدمات اور معاشی مواقع اس بحران سے پہلے بھی محدود تھے۔
سوڈانی پناہ گزینوں کی سب سے بڑی تعداد مصر میں مقیم ہے جہاں 2023 کے بعد رجسٹرڈ مہاجرین کی تعداد تقریباً چار گنا بڑھ گئی ہے۔ امدادی وسائل میں بڑے پیمانے پر کٹوتیوں کے باعث 'یو این ایچ سی آر' کو ملک میں اپنے تین میں سے دو رجسٹریشن مراکز بند کرنا پڑے ہیں۔ 2025 میں فی مہاجر فی ماہ دستیاب وسائل صرف 4 ڈالر رہ گئے تھے جو 2022 میں 11 ڈالر تھے۔
مشرقی چاڈ میں 71 ہزار سے زیادہ مہاجر خاندان پناہ کے سامان سے محروم ہیں اور محفوظ و مناسب رہائش کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں۔ تقریباً 2 لاکھ 34 ہزار افراد منتقلی کے منتظر اور سرحد پر نہایت غیر یقینی حالات میں مقیم ہیں۔ یوگنڈا میں طبی مراکز بند ہو جانے اور اہم غذائی پروگراموں کی معطلی کے باعث ہزاروں سوڈانی مہاجرین بیماریوں کے شدید خطرے سے دوچار ہیں۔
عالمی برادری سے اپیل
حالیہ امدادی منصوبے میں مسائل کے طویل مدتی حل پر زور دیا گیا ہے جس کے تحت ہمسایہ حکومتوں کی مدد کی جائے گی تاکہ مہاجرین کو قومی نظام کا حصہ بنایا جا سکے، شناختی دستاویزات اور عوامی خدمات تک رسائی بڑھائی جائے اور ترقیاتی اداروں و نجی شعبے کے اشتراک سے خود انحصاری کو فروغ دیا جا سکے۔ چاڈ اور ایتھوپیا میں زیادہ مستحکم بستیوں کی تعمیر پر سرمایہ کاری کو بھی ترجیح دی جائے گی تاکہ بے گھر افراد اور میزبان آبادیاں مل کر محفوظ اور مستحکم معاشرے قائم کر سکیں۔
'یو این ایچ سی آر' نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سوڈان سے فرار ہونے والوں کی میزبانی کرنے والے ممالک میں امدادی کارروائیوں کے لیے مضبوط اور پائیدار تعاون فراہم کرے۔