انسانی کہانیاں عالمی تناظر

لیبیا: تارکین وطن کو جسم فروشی اور جنسی زیادتی کا سامنا، یو این رپورٹ

media:entermedia_image:736a2a16-b590-4021-b54c-ab3c223bc088
© UNHCR/Ahmed Elshamikh
سوڈان سے حال ہی میں پناہ کے لیے لیبیا پہچنے والا ایک خاندان۔

لیبیا: تارکین وطن کو جسم فروشی اور جنسی زیادتی کا سامنا، یو این رپورٹ

انسانی حقوق

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے بتایا ہے کہ لیبیا میں مہاجرین، اور پناہ کے متلاشی افراد کو قتل، تشدد، جنسی زیادتی اور انسانی سمگلنگ سمیت اپنے حقوق کی منظم اور بے رحمانہ خلاف ورزی کا سامنا ہے۔

دفتر نے لیبیا میں اقوام متحدہ کے معاون مشن کے اشتراک سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا ہے کہ جرائم پیشہ گروہ مہاجرین کو اغوا کر لیتے یا پکڑ کر لے جاتے ہیں جنہیں ان کے خاندانوں سے جدا کر دیا جاتا ہے اور عام طور پر کسی قانونی کارروائی کے بغیر اسلحے کے زور پر ناجائز طور سے حراستی مراکز میں رکھا جاتا ہے۔ ان گروہوں کے روابط لیبیا کی بعض سرکاری شخصیات اور بیرون ملک جرائم پیشہ گروہوں سے بھی ہوتے ہیں۔

Tweet URL

زیر حراست مہاجرین کو غلامی، تشدد، بدسلوکی، جبری مشقت، جسم فروشی، کئی طرح کی جنسی زیادتیوں، تاوان اور بھتہ خوری جیسے جرائم کا سامنا رہتا ہے جبکہ ان کا سامان اور شناختی دستاویزات بھی ضبط کر کے فروخت کر دی جاتی ہیں۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا ہے کہ ان لوگوں پر مسلط کیے گئے خوفناک حالات کو بیان کرنے کے لیے الفاظ ناکافی ہیں جس کا مقصد صرف سمگلروں اور اقتدار میں بیٹھے ان افراد کے بڑھتے ہوئے لالچ کو پورا کرنا ہے جو اس استحصالی نظام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

یہ رپورٹ افریقہ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے 16 ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً 100 مہاجرین، پناہ گزینوں اور سیاسی پناہ کے متلاشی افراد سے بات چیت پر مبنی ہے۔

وسیع پیمانے پر استحصال 

جنوری 2024 سے دسمبر 2025 تک کے حالات کا جائزہ پیش کرتی اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کمزور حالات سے دوچار مہاجرین، پناہ گزینوں اور سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کا استحصال کاروباری صورت اختیار کر چکا ہے۔

مشرقی لیبیا کے شہر طبروق میں انسانی سمگلنگ کے اڈے پر چھ ہفتوں سے زیادہ حراست میں رہنے والی اریٹریا کی ایک خاتون نے بتایا کہ مہاجرت اس کے لیے گویا جہنم کا سفر تھا۔ اس دوران کئی مردوں نے کئی مرتبہ اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ حراستی مراکز میں 14 سال تک عمر کی بچیوں سے بھی زیادتی کی جاتی تھی۔ بالآخر اہلخانہ کے تاوان ادا کرنے پر اس کی رہائی عمل میں آئی۔

اریٹریا سے تعلق رکھنے والی ایک اور خاتون نے بتایا کہ انسانی سمگلر انہیں اور ان کی ساتھی کو بے رحمانہ طور سے جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے جس کے نتیجے میں ان کی ساتھی دم توڑ گئی۔ 

ایک اور متاثرہ خاتون کا کہنا تھا کہ مسلح افراد رات کے وقت خواتین کو لے جاتے ان کے ساتھ زیادتی کرتے، تشدد کا نشانہ بناتے اور دوسروں کے سامنے انہیں مارتے پیٹتے تھے۔

طاقت کا بے جا استعمال 

مہاجرین نے بحیرۂ روم کے وسطی راستے سے یورپ جانے کی خوفناک کوششوں کا ذکر بھی کیا۔ لیبیا کے حکام کی جانب سے انہیں روکے جانے کے واقعات اکثر خطرناک ہوتے ہیں جن میں دھمکیاں، پرخطر حربے اور طاقت کا بے جا استعمال شامل ہے جس سے لوگوں کی جانوں کو خطرہ لاحق رہتا ہے۔

جن لوگوں کو سفر سے روکا جاتا ہے انہیں عموماً زبردستی واپس لیبیا بھیج دیا جاتا ہے جہاں انہیں ایک مرتبہ پھر ظلم کے اسی سلسلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

رپورٹ میں لیبیا سے دیگر ممالک کی جانب اجتماعی بے دخلی  کی مذمت کی گئی ہے۔ یہ عمل بین الاقوامی انسانی حقوق اور پناہ گزینوں کے قوانین کی خلاف ورزی اور افریقی یونین کے پناہ گزین کنونشن میں فراہم کردہ تحفظات کے منافی ہے۔

اجتماعی اور جبری ملک بدری ہر فرد کے معاملے کا جائزہ لیے بغیر کی جاتی ہے جو کہ اجتماعی بے دخلی کی ممانعت، پناہ لینے کے حق اور انسانی حقوق کے تحفظ و امداد سے انکار کے مترادف ہے۔ ان لوگوں کو سرحدوں پر ایسی جان لیوا صورتحال میں چھوڑ دیا جاتا ہے جہاں ان کی پانی، خوراک اور طبی سہولیات تک رسائی نہیں ہوتی۔

مہاجرین کی رہائی کا مطالبہ 

لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی خصوصی نمائندہ ہانا ٹیٹ نے کہا ہے کہ اس ظالمانہ عمل کے ذریعے کمزور حالات میں گھرے افراد کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور حراستی مراکز انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا گڑھ بن گئے ہیں۔

رپورٹ میں لیبیا کے حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غیر سرکاری اور سرکاری حراستی مراکز میں ناجائز طور پر قید تمام افراد کو فوری رہا کریں، غیرقانونی مہاجرت کی روک تھام سے متعلق خطرناک کارروائیاں بند کریں اور ملک میں غیر قانونی داخلے، قیام اور خروج کو جرم قرار دینے کی پالیسی ختم کریں۔ 

وولکر ترک اور ٹیٹ نے سمندر میں تلاش اور بچاؤ کارروائیوں کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے۔ رپورٹ میں بین الاقوامی برادری بشمول یورپی یونین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ جب تک انسانی حقوق کے حوالے سے مناسب تحفظات یقینی نہ بنائے جائیں اس وقت تک لیبیا پر ان لوگوں کو روکنے اور واپس بھیجنے کی کارروائیوں پر پابندی عائد کی جائے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ لیبیا کے اداروں کو مالی معاونت، تربیت، آلات، ٹیکنالوجی اور دیگر تعاون فراہم کرتے وقت انسانی حقوق کے حوالے سے سخت جانچ پڑتال کی جائے اور جہاں حقوق کی پامالی دکھائی دے وہاں امداد فراہم نہیں کی جانی چاہیے۔